ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودھری برطرف، پریس پر پابندیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے عبوری آئینی حکم(PCO) جاری کرتے ہوئے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ ملک میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ دیگر نیوز ٹیلیویژن چینلز کی نشریات بند کر دی گئی ہیں، سرکاری موبائل فون کمپنی کا نیٹ ورک جام کر دیا گیا ہے اور شاہراہ دستور پر رینجرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی چینل ’پی ٹی وی‘ کے مطابق پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف عبوری آئینی حکم جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی نے یہ بھی بتایا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ملک کے نئے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس اعلان سے قبل مقامی میڈیا نے خبر دی تھی کہ چیف جسٹس افتحار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور انہیں پاکستان لاء کمیشن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کے ججوں کی جانب سے ایک حکم جاری ہوا تھا جس میں انہوں نے عبوری آئینی حکم کو کالعدم قرار دیا اور تمام فوجی اور سول حکام کو ہدایت دی ہے کوئی بھی پی سی او کے تحت خدمات سرانجام نہ دے اور نہ جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں۔
اسلام آباد میں پولیس،رینجرز تعینات پولیس ذرائع کے مطابق پنجاب کانسٹیبلری کے ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو اسلام آباد رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس ضمن میں جب پنجاب پولیس کے انسپکڑ جنرل احمد نسیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نہ اس اطلاع کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صوبے کی پولیس کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے اسلام آباد بھیجا جا سکتا ہے۔ اعتزاز احسن کی گرفتاری
اجلاس میں حکومت کے قانونی مشیروں نے بھی شرکت کی اور اطلاعات کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کو خلاف آئین قرار دیے جانے کی صورت میں متبادل انتظامات کے بارے میں مشاورت کی گئی۔ اس سے قبل ملک میں امن و امان کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے ایوان صدر میں ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں پیمرا اور وزارت اطلاعات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جس میں ملک میں نافذ العمل میڈیا پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا گیا ہے۔ پریس پر پابندیاں وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002ءمیں بعض ترامیم اور بعض شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ سنیچر کی شب پاکستان کے دیگر نجی چینلز کی نشریات تو صرف اندرون ملک بند تھیں مگر ’آج‘ نیوز کی نشریات مکمل ہی بند ہیں۔ آج ٹی وی کے ڈائریکٹر وامق زبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو انہیں پیمرا کی جانب سے ایک لیٹر جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ دفتر اور ساز و سامان کی انسپیکشن کرنا چاہتے ہیں۔ سنیچر کو پیمرا کی ٹیم نے آکر تمام تفصیلات بشمول چینل کی فریکوئنسی معلوم کی اور چلے گئے۔ پانچ بجے جیسے کیبل آپریٹروں نے دیگر چینل کردیے ویسے ہی آج ٹی وی کی بھی نشریات بند ہوگئیں۔ بی بی سی کے خصوصی پروگرام اس کے علاوہ بی بی سی اردو سروِس پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق دو پہر ساڑھے بارہ بجے سے لیکر ایک بجے دوپہر تک آدھے گھنٹے کا خصوصی ریڈیو پروگرام نشر کرے گی جو کہ 17560 اور 15325 کیلو ہرٹز پر سنا جاسکے گا۔ (نامہ نگار: اعجاز مہر، ہارون رشید، شہزاد ملک اور ریاض سہیل) |
اسی بارے میں ایمرجنسی، صدر نے تردید کر دی09 August, 2007 | پاکستان ’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘09 August, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی لگانے والا جنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘04 September, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی افواہیں، دبئی سفرملتوی‘ 31 October, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی، بازارِ حصص میں مندی‘09 August, 2007 | پاکستان ممکنہ ایمرجنسی کی خبریں سرخیوں میں09 August, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کا نفاذ ممکن ہے: شوکت 06 May, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی بازگشت10 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||