BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 06:53 GMT 11:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئین تار تار ہے، قربانیوں کا وقت ہے، لوگ اٹھ کھڑے ہوں: جسٹس افتخار

ایمرجنسی کے نفاذ اور ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء نے منگل کو بھی احتجاج کیا ہے

پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ یہ ’قربانیوں کا وقت ہے‘۔ ادھر منگل کو بھی ملک کے اہم شہروں میں وکلاء کی جانب سے احتجاج اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

منگل کو پی سی او کے تحت سپریم کورٹ کے چار نئے ججوں نے حلف اٹھا لیا ہے اور اب پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ لاہور اور کراچی میں وکلاء کا احتجاج دوسرے دن بھی جاری ہے جبکہ کراچی میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اردگرد سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات بدستور موجود ہیں اور دارالحکومت میں کرفیو کا تاثر ابھی تک قائم ہے۔

عوام اپنا کردار ادا کریں
News image
 سپریم کورٹ نے اپنے تمام فیصلوں میں آئین اور قانون کی پاسداری کی اور اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اور وکلاء آئین کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں
جسٹس افتخار

ادھر اسلام آباد میں وکلاء سے ایک ٹیلیفونک خطاب میں افتخار چودھری نے کہا ہے صدر مشرف نے’ آئین کو تار تار‘ کر دیا ہے اور ان کی جانب سے عدلیہ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

افتخار محمد چودھری نے وکلاء سے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاج جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے تمام فیصلوں میں آئین اور قانون کی پاسداری کی اور اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اور وکلاء آئین کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

جسٹس افتخار نے اپنے خطاب میں کہا: ’ملک کا آئین تار تار کر دیا گیا ہے اور وکلاء میرا یہ پیغام عوام تک پہنچا دیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور آئین کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ قربانی کا وقت ہے۔ میں اس وقت قید میں ہوں لیکن جلد ہی جدوجہد میں آپ کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہوں گا‘۔

افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’صرف ایک شخص کو یہ احتمال تھا کہ کہیں فیصلہ اس کے خلاف نہ آ جائے اس لیے ملک میں ایمرجنسی لگا دی گئی، جبکہ عدالت کے گیارہ ججوں کے سامنے مقدمہ ابھی زیر سماعت تھا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے حُکام کو ایمرجنسی لگانے سے باز رکھنے کے لیے تین نومبر دو ہزار سات کو ایک حُکم دیا تھا لیکن ایمرجنسی لگا کر آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔

’عوام اور وکلاء آئین کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں‘

جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ صدر کے سپریم کورٹ کے بارے میں الزامات اپنی جگہ لیکن یہ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام ہی بتا سکتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے کس طرح سے عوام کو انصاف دیا ہے۔

افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا اب پولیس کی نگرانی میں چند ججوں کو عدالتوں میں بٹھا کر چند مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے اور عوام انصاف کے لیے دربدر ہیں۔

ادھر حکومت نے سپریم کورٹ میں چار نئے جج تعینات کیے ہیں جس سے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ کے چودہ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔

منگل کو جن ججوں کا تقرر کیا گیا ان میں جسٹس اعجاز الحسن ، جسٹس محمد قیوم خان، جسٹس محمد موسیٰ کے لغاری اور چودھری اعجاز یوسف شامل ہیں۔

جلد از جلد انتخابات کروائیں
 ہم توقع کرتے ہیں کہ جس حد تک جلد ممکن ہو انتخابات کرائے جائیں اور صدر اپنی فوجی وردی اتار دیں۔ اس اقدام سے پہلے ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ایمرجنسی جمہوریت کی جڑیں کاٹ دے گی۔ اب ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ جس قدر جلد ہوسکے جمہوریت کو بحال کریں گے
صدر بش

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نئے جج صاحبان میں سے جسٹس اعجاز الحسن ، جسٹس محمد قیوم خان کا تعلق پشاور جبکہ جسٹس محمد موسیٰ کے لغاری سندھ ہائی کورٹ سے ہے اور چودھری اعجاز یوسف وفاقی شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس ہیں۔

دریں اثناء پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء نے منگل کو بھی احتجاج کیا اور راولپنڈی میں مزید پچیس وکلاء کو گرفتار کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اردگرد منگل کو بھی سکیورٹی کے سخت اقدامات ہیں اور کرفیو کا سا سماں برقرار ہے۔

منگل ہی کو پولیس نے لاہور ہائی کورٹ سے درجن بھر وکلاء کوگرفتار کیا ہے۔ ان افراد کی گرفتاری ہائیکورٹ کے بار روم سے اس وقت عمل میں آئی جب وکلاء نے حکومت اور مشرف مخالف نعرے بازی شروع کی۔ہائیکورٹ کے داخلی و خارجی راستوں پر آج بھی پولیس کا سخت پہرہ ہے اور پولیس ہائیکورٹ کی عمارت کے برآمدوں میں موجود ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں وکلاء کی بھی جسمانی تلاشی لی جاتی رہی

کراچی کے وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جبکہ ہائیکورٹ کے داخلی دروازے پر رینجرز اور پولیس اہلکار منگل کو دوسرے روز بھی تعینات رہے۔ سول کپڑوں میں اہلکار صرف ان لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے جن کے مقدمات زیر سماعت تھے۔

کوئٹہ میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کو کوئٹہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کے دوران گرفتار کر لیا گیا جبکہ صوبے میں منگل کو بھی وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے گرفتاری سے پہلے بتایا کہ بلوچستان سے اب تک ستّر وکلاء کوگرفتار کیا گیا ہے۔

’جدوجہد کرتے رہیں‘
جسٹس چودھری کے بقول ایمرجنسی غیر آئینی
چیف جسٹس صبیح الدین احمدعہدے پر برقرار ہوں
برطرفی کی اطلاع نہیں ملی: جسٹس صبیح الدین
جسٹس خلیل رمدےاپنے کیے پر فخر ہے
فکر ججی کی نہیں ملک کی ہے: جسٹس رمدے
رپورٹروں سےاپنے رپورٹروں سے
ایمرجنسی کا دوسرا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
جب ایمرجنسی لگی
ایمرجنسی کا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
اخباراخبار کیا کہتے ہیں؟
ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید
بی بی سی اردو: خصوصی پروگرامخصوصی نشریات
ایک گھنٹے کا’جہاں نما‘ اور خصوصی پروگرام
اسی بارے میں
پی سی او ہائی کورٹ میں چیلنج
06 November, 2007 | پاکستان
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد