ایمرجنسی ختم کریں اور جمہوریت بحال کریں: صدر بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے صدر جنرل مشرف کو کہا ہے کہ وہ جتنی جلد ہو سکے ایمرجنسی ختم کریں اور جمہوریت کو بحال کریں۔ صدر بش نے واشنگٹن میں ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے پہلے ہی پاکستانی رہنما سے کہا تھا کہ ایمرجنسی نافذ نہ کریں۔ انہوں نے کہا: ’ہم توقع کرتے ہیں کہ جس حد تک جلد ممکن ہو انتخابات کرائے جائیں اور صدر اپنی فوجی وردی اتار دیں۔ اس اقدام سے پہلے ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ایمرجنسی جمہوریت کی جڑیں کاٹ دے گی۔ اب ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ جس قدر جلد ہوسکے جمہوریت کو بحال کریں گے۔‘
تاہم اپنی جمہوریت سے متعلق تشویش کے باوجود صدر بش نے کہا کہ امریکہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں صدر مشرف کا ساتھ جاری رکھے گا۔ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء نے ملک بھر میں شدید احتجاج کیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے سینکڑوں وکلاء کی گرفتاری، ان پر لاٹھی چارج اور پولیس کے ساتھ تصادم کی اطلاعات ہیں۔ سوموار کو پورے ملک سے وکلاء کی طرف سے احتجاج اور پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں کے خلاف حکومتی کارروائی کی اطلاعات آئی ہیں۔ نجی ٹی وی چینلز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین کے گھر کے باہر پولیس تعینات ہے اور وہ جج جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کیا ہے ان کے گھروں پر تالے بھی ڈالے جا رہے ہیں۔ تاہم ایک حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ وکلاء کے دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں اگرچہ سرکاری اہلکار یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سنیچر کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ اس کے کئی سو ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کے اردگرد کرفیو کا سماں ہے۔ کراچی سے ریاض سہیل نے بتایا کہ وہاں وکلاء نے شدید احتجاج کیا اور پولیس نے لاٹھی چارج کر کے درجنوں وکلاء کو گرفتار کر لیا۔ حلف نہ لینے والے ججوں نے عدالت پہنچنے کی کوشش کی لیکن انہیں گھروں سے نہیں نکلنے دیا گیا۔ لاہور سے عباد الحق اور علی سلمان نے بتایا ہے کہ ہائی کورٹ میں پولیس نے احتجاج کرنے والے سینکڑوں وکلاء کی موجودگی میں شدید لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں کچھ وکلاء زخمی بھی ہوئے۔ وکلاء کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا جس کا نشانہ ایک عدالت بھی بنی۔ وکلاء نے حلف نہ لینے والے ججوں کی عدالتوں پر گل پاشی بھی کی۔ پشاور سے ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کا کہنا ہے کہ وکلاء نے اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور پشاور ہائی کورٹ میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ وکلاء نے ایمرجنسی کے نفاذ، فوج اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف نعرے بازی کی اور نئے ججوں کی عدالتوں کی طرف جانے والے راستے پر لگے ہوئے دروازے کو تالا لگانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس سے کچھ وکلاء زخمی ہوگئے۔ وکلاء نے ایک ہفتے تک عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے خبر دی ہے کہ ایمرجنسی کے خلاف صوبے کے بیشتر اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی ہے اور کوئٹہ میں وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ کے اطراف میں صبح سویرے سے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی اور داخلی دروازوں پر سادہ کپڑے میں اہلکار موجود تھے جو صرف ہائی کورٹ کے ملازموں اور وکلاء کو شناخت کے بعد جانے دے رہے تھے۔ وکلاء میں سے کئی ایک کو واپس بھی بھیج دیا گیا۔ مقدمات کی شنوائی کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کو دروازہ سے ہی یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ آج مقدمات نہیں چل رہے ہیں۔ وکلاء آہستہ آہستہ جمع ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے ہائی کورٹ کے ججز گیٹ پر دھرنا دیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی آمد کا راستہ بلاک کردیا۔ وکلاء کے احتجاج کے بعد پولیس نے عام داخلی دروازے سے مزید وکلاء کو اندر جانے سے روک لیا۔ اس اطلاع پر وکلاء کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی اور داخلہ دروازے کو زبردستی کھول دیا اور تمام وکلاء اندر چلے گئے۔
اس دوران پولیس کی ان سے جھڑپیں ہوئی اور پولیس نے بے دریغ لاٹھایاں برسانی شروع کردیں اور وکلاء نے حکومت کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے۔ پولیس اہلکاروں نے تین وکلاء کو گرفتار کر لیا جس پر وکلاء مزید مشتعل ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر وکیل اور پولیس گتھم گتھا ہوگئے۔ اسی دوران پولیس وین اور پولیس موبائل ہائی کورٹ کے احاطے اندر پہنچ گئی اور وکلاء کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ پولیس کی گاڑیاں ہائی کورٹ کے اندر جاکر گرفتاریاں کرتی رہیں۔ اس دوران خواتین وکلاء پر بھی تشدد کیا گیا۔ سادہ کپڑے میں اہلکاروں نے ہائی کورٹ بار پر آویزاں کالا جھنڈا بھی اتار لیا۔ دوسری جانب سابق چیف جسٹس صبیح الدین نے اپنے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر وہاں موجود اہلکاروں نے انہیں واپس کردیا۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے چار جج صاحبان جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اطہر سعید رکاوٹوں کے باوجود بھی ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر پہنچ گئے لیکن پولیس نے انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ہائی کورٹ کے سابق جج رشید رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک سو سے زائد ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کراچی بار کے دفتر اور سٹی کورٹس کا بھی پولیس نے گھیراؤ کیا جس کی وجہ سے نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سٹی کورٹس میں مقدمات چلے سکے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ لاہور سمیت پنجاب بھر میں عدالتی کارروائی بری طرح متاثر ہوئی اور وکلاء عدالتوں میں پیش ہونے کی بجائے حکومت مخالف نعرے بازی کرتے رہے۔ وکلاء گو مشرف گو اور پی سی او نامنظور کے نعرے لگاتے رہے۔ راولپنڈی میں وکلاء نے بائیکاٹ کے بعد جلوس نکالا تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور نوے وکیلوں کو گرفتار کر لیا۔ لندن میں مظاہرہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان میں ایمرجنسی کے خلاف پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی ممبر اور مشہور وکیل حنا جیلانی بھی شامل تھیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں نافذ ایمرجنسی کو جلد از جلد ختم کیا جائے اور جمہوری عمل کو بحال کیا جائے۔ |
اسی بارے میں ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان ہنگامی صورت حال کے حکمنامے کا متن03 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان ’عدلیہ، انتظامیہ سے متصادم تھی‘03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان03 November, 2007 | پاکستان گرفتاریوں،نظربندی کا سلسلہ جاری04 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||