ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک ملک بھر سے چار سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا ہے |
وزیراعظم شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ صدر کی وردی کا معاملہ ابھی بھی عدالت کے زیر سماعت ہے لہذا اس پر فیصلہ عدالت کرے گی۔ پرائم منسٹر ہاوس میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پہلی پریس کانفرنس وزیراعظم نے کہا کہ صدر کی وردی کے مقدمے کا جب فیصلہ ہوگا تو پھر وہ اس پر بات کر سکیں گے ابھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کو ہٹایا ہے تاہم ان کے زیر غور مقدمات موجود رہیں گے۔ وزیراطلاعات محمد علی دورانی اور وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم کی موجودگی میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اب تک ملک بھر سے پانچ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے تقریبا پینتالیس اسلام آباد میں ہیں۔ ملک میں عام انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ ابھی اس بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں اور کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر اور حکومتی اہلکاروں سے اس بابت مشورے جاری ہیں۔
 | اب تک پانچ سو زیرِ حراست  اب تک ملک بھر سے پانچ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے تقریبا پینتالیس اسلام آباد میں ہیں  وزیراعظم |
’ہم انتخابات کے انعقاد میں سنجیدہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کو فروغ ملے‘۔ایک سوال کے جواب میں کہ ہنگامی حالت کی وجہ سے انہیں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے کون سے اضافی اختیارات ملے ہیں، شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ اس سے حکومت کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔ ’اب ہم تفتیش کے لیے زیادہ آسانی سے لوگوں کو حراست میں رکھ سکیں گے‘۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے پی سی او کو غیرقانونی قرار دینے کے فیصلے کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ فیصلہ پی سی او کے نفاذ کے بعد آیا تھا اس لیے اس کی کوئی حثیت نہیں ہے اور اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے نئے چیف جسٹس کے بارے میں بھی کہا کہ انہوں نے وضاحت کر دی ہے کہ اس فیصلے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ صحافیوں کے ایک رہنما مشتاق منہاس نے سوال کرنے سے پہلے بقول ان کے ’بھونڈے انداز‘ میں مارشل لاء کے نفاذ کی مذمت کی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ حکومت کب تک نجی ٹی وی چینلز پر پابندی کا ارادہ رکھتی ہے تو وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ان چینلز کے مالکان اور صحافیوں سے مل کر ایک ضابطہ اخلاق ترتیب دینا چاہتے ہیں جس کے بعد اس بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وہ کل پاکستان براڈکاسٹرز ایسویس ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے جبکہ وہ مالکان اور صحافیوں سے بھی بات چیت شروع کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تمام مہذب معاشروں میں اس قسم کے ضابطہ اخلاق موجود ہیں۔ |