’سب جدو جہد جاری رکھیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار احمد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ عدلیہ پر حملہ ہے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ بار کے سربراہ اعتزاز احسن کے نائب گوہر علی ایڈوکیٹ کے ذریعے اخبارات کو جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے ایمرجنسی کے حکمنامے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے بیان میں چیف جسٹس نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ اور عبوری آئینی حکم نامے کا اجرا غیر ضروری، غیر آئینی، غیر قانونی اور کسی اخلاقی یا قانونی جواز سے عاری ہے۔ یہ آئین، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ پر ایک کھلا اور رقیق حملہ ہے۔ جسٹس افتخار نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز سے جو کچھ ہو رہا ہے اسکا کوئی جواز نہیں بنتا۔ معزز جج صاحبان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ اخلاقیات اور تمیز کے دائر ے سے باہر اور غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔ جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ میں عدلیہ کی جانب سے دہشت گردی کی، چاہے وہ کسی بھی شکل میں کی جارہی ہو، مذمت کرتا ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عدلیہ ہمیشہ سے اس طرح کے اقدامات کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام شہریوں، خصوصاً وکلا کا فرض ہے کہ وہ آئین کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کے لئے جدوجہد جاری رکھیں۔ جسٹس افتخار کے مطابق انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے معزز ججوں نے کبھی آئین اور قانون میں درج حدود سے تجاوز نہیں کیا۔ برے طرز حکمرانی نے لوگوں کو ان مقدمات کے سلسلے میں عدالت عظمی سے رابطہ کرنے پر مجبور کر رکھا تھا۔ اس صورت میں عدالت ان لوگوں کے لئے نہ تو اپنے دروازے بند کرسکتی تھی اور نہ ہی آنکھیں۔ سپریم کورٹ کے معزز جج مستقبل میں بھی یہی طرز عمل اپنانے کے عزم پر قائم ہیں‘۔ | اسی بارے میں ججوں کی بڑی تعدادنےحلف نہیں اٹھایا03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی،سینکڑوں گرفتار،مزید ججوں کا حلف،عالمی تشویش04 November, 2007 | پاکستان وکلاء کےگھروں پر چھاپے، کئی گرفتار04 November, 2007 | پاکستان پِیر سے نئی تحریک: سپریم کورٹ بار04 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||