BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی کا دوسرا دن، لمحہ بے لمحہ
وکلا کی گرفتاری

چار بجکر چھیالیس منٹ: عباس نقوی، کراچی

پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے پہلے ہی روز ملک کے سب سے بڑے بازارِ حصص میں تاریخ کی سب سے بڑی مندی دیکھی گئی اور مارکیٹ چھ سو پینتس پوائنٹ کی کمی کے ساتھ بند ہوئی، بازارِ حصص کے ماہریں آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ کے سنبھلنے کے کم امکانات ظاہر کرتے ہیں۔

مالیاتی ہفتے کے پہلے روز کراچی اسٹاک ایکسچنج تین سو پوائنٹ نفی میں کھلی تھی اور سرکاری مالیاتی اداروں کی جانب سے سپورٹ کے بعد مارکیٹ کے حصص میں لگ بھگ ڈیڑھ سو پوائنٹ کا اضافہ ہوا تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ کراچی اسٹاک ایکسچنج کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ مارکیٹ چھ سو پوائنٹ تک گرکر بند ہوئی۔

چار بجکر بیس منٹ: نثار کھوکھر، لاڑکانہ

پولیس نے لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایاز سومرو کو ایک درجن دیگر وکلاء کے ساتھ گرفتار کر لیا۔ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس میں شرکت کر کے باہر نکلے تھے۔ انہیں لاڑکانہ کے سول لائن تھانے میں بند کیا گیا ہے۔

تین بجکر پچپن منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور

جماعت صوبہ سرحد نے پیر کے روز یادگار چوک میں ایمرجنسی کے خلاف ایک مظاہرہ کیا۔ جماعت اسلامی کے سو کے قریب کارکن یادگار چوک کے قریب جمع ہوئے اور انہوں نے صدر مشرف اور ایمرجنسی کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔

بعد میں پولیس نے جماعت اسلامی کے تین رہنماؤں رکن اسمبلی شبیر احمد خان، صوبائی جنرل سیکریٹری اقبال خلیل اور حافظ حشمت کو گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق نے دعویٰ کیا کہ صوبہ بھر سے ان کے کئی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دیگر کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔

دوسری طرف وکلاء نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سرحد سے ان کے پچیس ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دو بجکر اڑتالیس منٹ: نثار کھوکھر، لاڑکانہ

لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا ایک اجلاس جاری ہے جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غلام رسول ڈومکی کی سربراہی میں پولیس کی ایک ٹیم نے اس جگہ کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔

دو بجکر سینتالیس منٹ: علی سلمان، لاہور

پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پولیس نے صبح سے ڈسٹرکٹ کورٹس پر تالے لگا دئیے تھے جس کی وجہ سے عدالتی کام متاثر ہوا ٹوبہ ٹیک سنگھ پولیس نے نو وکیلوں کو حراست میں لیا ہے۔

فیصل آباد سے پولیس نے پچیس وکیلوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے جبکہ وکلاء کا کہنا ہے کہ آج دو سو سے زائد وکیلوں کو ضلعی کچہری کے اندر اور ان کے دفاتر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

دو بجکر اکتیس منٹ: بیورو رپورٹ، اسلام آباد

اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے آج عبوری آئینی حکم کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں سے ملاقات کی ہے۔ خیال ہے کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے انہیں کوئی پیغام پہنچایا ہے۔ یہ ان ججوں سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد کسی سرکاری اہلکار کی پہلی باضابطہ ملاقات بتائی جا رہی ہے۔

دو بجکر پچیس منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ اے پی ڈی ایم ایک ہفتے کے اندر ایمرجنسی کے بارے پالیسی تشکیل دے گی اور اس سلسلے میں رابطے جاری ہیں۔ پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی صرف عدلیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورا ملک ہی اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہ صدر جنرل مشرف ملک کے لیے گورباچوف ثابت ہو رہے ہیں۔

دو بجکر بائیس منٹ: ہارون رشید، اسلام آباد

صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے اطلاعات ہیں کہ وکلاء نے تمام روکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ضلع کچہری میں داخل اور ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ پولیس نے کل رات سے ہی کچہری کو تالے ڈال کر بند کر دیا تھا تاہم وکلاء نے تالے توڑ کر بار روم میں رانا افسر کے صدارت میں اجلاس منعقد کیا۔ وکلا نے آئندہ تین روز مکمل ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ وکلاء نے احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی۔

دو بجکر گیارہ منٹ: اعجاز مہر، اسلام آباد

صدر جنرل پرویز مشرف کی نظر بندی کے بارے میں ملک بھر میں جاری افواہوں کی فوجی ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے سختی سے تردید کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افواہیں زیادہ ہوتی ہیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔

بی بی سی سمیت ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں گزشتہ روز سے صدر جنرل پرویز مشرف کی حراست کی افواہیں چل رہی ہیں اور ان افواہوں میں پیر کے روز اس وقت شدت پیدا ہوگئی جب یہ کہا جانے لگا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹے تک جنرل پرویز مشرف کی کوئی سرگرمی رپورٹ نہیں ہوئی۔

دو بجکر دس منٹ: عبادالحق، لاہور

لاہور میں لاٹھی چارج اور پولیس تشدد کے پہلے راؤنڈ کے بعد پولیس نے ہائی کورٹ کے احاطے میں گھس کر وکلاء اور ان کی حمایت میں آئے سول سوسائٹی کے اراکین کو ایک جگہ جمع کیا اور پھر انہیں گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں بند کردیا۔

گرفتار ہونے والوں کی حتمی کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا لیکن ایک اندازے کے مطابق گرفتار ہونے والے وکلاء کی تعداد سات سو کے قریب ہے جبکہ سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اراکین ان کے علاوہ ہیں۔

ایک بجکر تیس منٹ: ہارون رشید، اسلام آباد

وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دی گئی ہے۔ صبح میں اس بریفنگ کا وقت ڈھائی بجے بتایا گیا تھا۔ خیال تھا کہ بریفنگ میں سفارتی فرنٹ پر حکومت پر ہونے والی تنقید کا کوئی جواب آئے گا۔

ایک بجکر بیس منٹ: علی احمد خان، ایبٹ آباد

ہائی کورٹ باراور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہزارہ کی جانب سے ہری پور، ایبٹ آباد بٹگرام اور مانسہرہ سمیت پورے ہزارہ ڈویژن میں مکمل ہڑتال ہوئی۔

وکلا نے ہڑتال کے حوالے سے ایبٹ آباد میں احتجاجی جلوس نکالا گیا ۔ جب جلوس ایبٹ آباد کے بازار سے گزر رہا تھا تو چند مظاہرین بازار میں واقع کینٹ پولیس سٹیشن میں گھس گئے۔

پولیس کے مطابق انہوں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور بیس کے لگ بھگ مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

ایک بجکر پندرہ منٹ: ہارون رشید، اسلام آباد

پی ٹی وی کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس حاذق الخیری بھی تھوڑی دیر میں ایوان صدر میں نئے پی سی اور کے تحت حلف اٹھانے والے ہیں۔ ٹی وی کے مطابق یہ حلف صدر جنرل پرویز مشرف لیں گے۔ شرعی عدالت کے جسٹس فدا محمد خان اور جسٹس صلاح الدین مرزا بھی حلف لیں گے۔

ایک بجکر پانچ منٹ: عبادالحق، لاہور

وکلاء کو اس وقت لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا نشانہ بننا پڑا جب انہوں نے ہائی کورٹ کے قریب مال روڈ پر آنے کی کوشش کی۔

پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج کا سلسلہ بارہ بجے کے قریب شروع ہوا۔ اس دوران متعدد وکلا کو گرفتار بھی کر لیا گیا جن میں لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج فخرالنساء کھوکھر بھی شامل ہیں۔

اس کے بعد وکلاء ہائی کورٹ کے احاطے میں واپس آ گئے اور انہوں نے مختلف عدالتوں کے باہر توڑ پھوڑ کی کوشش کی۔ اس وقت تک وکلاء منتشر تو ہو چکے ہیں لیکن ہائی کورٹ میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔

بارہ بجکر پچاس منٹ: نثار کھوکھر، لاڑکانہ

لاڑکانہ میں سندھ ہائی کورٹ کے گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ عمارت کے بیرونی دروازے پر موجود پولیس اہلکار یہ کہہ کر لوگوں کو واپس بھیج رہے ہیں کہ اندرونی دروازے پر فوج تعینات ہے اور ان کو حکم ہے کہ کسی کو بھی اندر نہ جانے دیا جائے۔

لاڑکانہ بار کے صدر ایاز سومرو کے مطابق پی سی او تحت حلف نہ اٹھانے والے جج محمد اطہر سعید نے سرکٹ ہاؤس سے باہر آنے کی کوشش کی لیکن انہیں باہر نہیں آنے دیا گیا اور وہ سرکٹ ہاؤس میں عملاً نظر بند ہیں۔

دوسری طرف پولیس نے جماعت اسلامی کے بیس کارکنوں کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ اپنے امیر شمس عباسی کی قیادت میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

بارہ بجکر بیالیس منٹ: عبدالحئی کاکڑ، پشاور

پشاور میں وکلاء نے اعلٰی اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور جلسے کئے۔ سب سے بڑا جلسہ پشاور ہائی کورٹ میں ہوا جہاں وکلاء نے ایمرجنسی، فوج اور عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے والے ججز کے خلاف نعرہ بازی کی۔ وکلاء نے دعویٰ کیا ہے کہ آٹھ وکلاء جن میں بیرسٹر باچا اور ایڈووکیٹ خورشید احمد کو گرفتار کر کے ڈیرا اسماعیل خان اور ہری پور کے جیلوں میں منتقل کیا ہے۔ وکلاء نے تمام عدالتوں کا ایک ہفتے کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے اقبال ظفر جھگڑا کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔

بارہ بجکر چالیس منٹ: ریاض سہیل، کراچی

پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افضل سومرو اور گیارہ دیگر جج سندھ ہائی کورٹ میں موجود رہے، تاہم کوئی عدالتی کارروائی نہ ہو سکی۔ پہلے سے جاری ہونے والے روسٹر کے مطابق پیر کے روز گیارہ مئی کی ریفرنس کی سماعت ہونا تھی لیکن یہ سماعت نہ ہو سکی۔

بارہ بجکر تینتیس منٹ: ریاض سہیل، کراچی

پولیس نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے داروں امین لاکھانی، عصمت مہدی، یاسین آزاد اور رشید رضوی کو ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی اجلاس کے چند منٹ بعد گرفتار کر لیا۔ ان کی گرفتاری کے ساتھ ہی سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قیادت کی گرفتاری کا عمل کم و بیش مکمل ہو گیا ہے اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کوئی بھی قابلِ ذکر لیڈر جیل سے باہر نہیں ہے۔

بارہ بجکر تئیس منٹ: ریاض سہیل، کراچی

سندھ ہائی کورٹ کی جنرل باڈی کا ایک اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا جس میں ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ وکلاء تین روز تک عدالتوں کو بائیکاٹ کریں گے۔ اجلاس سے امین لاکھانی، عصمت مہدی اور سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج رشید رضوی نے خطاب کیا۔

بارہ بجکر پندرہ منٹ: عزیز اللہ خان، کوئٹہ

ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے خلاف پیر کو بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے اور کوئٹہ میں وکلا نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ رات گئے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر مزید وکلا کو گرفتار کر لیا ہے ان میں انسانی حقوق کی تنظیم بلوچستان کے نائب چیئر پرسن ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ کو ضلع کچہری کے سامنے ریلی کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک نجی ٹی وی اے آر وائی کے رپورٹر اور کیمرہ مین کے علاوہ مشرق اخبار کے دو فوٹو گرافرز کو ہڑتال کی ریکارڈنگ اور فوٹوگرافی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ادھر پشتونخواہ نینشل ڈیموکریٹک الائنس کے اپیل پر ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ اور محمود خان اچکزئی سمیت دیگر قائدین اور وکلا کی نظر بندی اور گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

کوئٹہ سمیت جنوبی اور مشرقی بلوچستان میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔ اور بازاروں جور سڑکوں پر پولیس انسداد دہشت گردی کی فورس اور فرنٹیئر کور کے دستے گشت کر رہے ہیں۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحیم زیارتوال کے مطابق موسی خیل ہرنائی اور کچلاک سے ان کے پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کوئٹہ کے عالمو چوک سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

بارہ بجکر نو منٹ: علی سلمان، لاہور

ایمرجنسی کے بعد پہلے روز عدالتیں کھلیں تو پنجاب کے مختلف اضلاع میں کشیدہ صورتحال سامنے آئی۔

گوجرانوالہ اور روالپنڈی سے درجنوں وکیلوں کو گرفتار کیا گیا۔تقریبا تمام شہروں کی عدالتوں کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔وکلاء احتجاج کررہے ہیں عدالتوں کا بائیکاٹ ہوا ہے جبکہ مختلف شہروں سے لاٹھی چارج اور وکلاء پر تشدد کی اطلاعات ملی ہیں۔

لاہور سمیت پنجاب بھر میں عدالتی کارروائی بری طرح متاثر ہوئی اور وکلاء عدالتوں میں پیش ہونے کی بجائے حکومت مخالف نعرے بازی کرتے رہے۔ وہ گو مشرف گو اور پی سی او نامنظور کے نعرے لگاتے رہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے اندر اور اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے لیکن کسی وکیل کو اندر جانے سے نہیں روکا گیا۔ہائی کورٹ کے احاطے وکلاءنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج صاحبان پہنچے لیکن اکادکا کےسوا وکیل ان کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

راولپنڈی میں وکلاء نے بائیکاٹ کے بعد جلوس نکالا تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور نوے وکیلوں کو گرفتار کر لیا۔

گوجرانوالہ میں پولیس ضلعی کچہری کے اندر داخل ہوگئی ہے اور اس نے وہاں پہنچنے والے وکیلوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسویشن گوجرانوالہ کے صدر الیاس بخاری سمیت چاردرجن کے قریب وکیلوں کو حراست میں لیاگیا جبکہ بارروم پر پولیس نے عملی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

ملتان میں لاہورہائی کورٹ کے ملتان بنچ میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے دوجج کمرہ عدالت پہنچے تو چند نوجوان وکلاء نے ان سے بدزبانی کی جس کے بعد جج صاحبان اپنے چیمبر میں چلے گئے جبکہ پولیس کی بھاری تفری ہائی کورٹ کے اردگرد تعینات کردی گئی پولیس نے ڈسٹرکٹ کورٹ ملتان کا گھیراؤ کررکھا ہے۔

فیصل آباد میں پولیس نے صبح چھ بجے ہی ضلعی عدالتوں کا محاصرہ کرلیا تھا۔کسی کوعدالت جانے کی اجازت نہیں دی گئی وکلاء اور سائلوں پر ہلکا لاٹھی چارج کیا گیا۔

بارہ بجکر پانچ منٹ: ریاض سہیل، کراچی

سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار ظہیرالدین لغاری نے صدر کے ٹاؤن پولیس آفیسر کو طلب کر کے اس بات کی وضاحت مانگی ہے کہ پولیس نے ہائی کورٹ کے احاطے سے وکلاء کو کیوں گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے وکلاء کی فوری رہائی کا بھی حکم دیا ہے۔

گیارہ بجکر پچاس منٹ: شہزاد ملک، اسلام آباد

پولیس نے پیر کے روز راولپنڈی کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے اور متعدد وکلاء کو گرفتار کر لیا۔

وکلاء نے نمائندوں نے الزام لگایا ہے کہ پیر کے روز ان کے نوے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم راولپنڈی کے سٹی پولیس چیف سعود عزیز نے صرف اکتالیس وکلاء کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (پنڈی بینچ) کے صدر سردار عصمت اللہ خان اور سنیئر قانون دان سردار اسحاق نے پیر کے روز کچہری کے احاطے میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کیا۔ اخباری کانفرنس کے فوراً بعد پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے چھاپہ مارا۔ سردار عصمت اللہ خود تو گرفتاری سے بچ گئے لیکن وہاں موجود چار وکیلوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

گیارہ بجکر اڑتالیس منٹ: شہزاد ملک، اسلام آباد

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں ایک چار رکنی نے پیر کے روز پانچ مقدمات کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ کے ترجمان ارشد منیر کے مطابق ان مقدمات کی سماعت پٹیشنروں اور وکلاء کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کر دی گئی۔

گیارہ بجکر پانچ منٹ: شہزاد ملک، اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر واقع سپریم کورٹ کے ارد گرد وسیع علاقے میں پیر کی صبح سے کرفیو کا سماں ہے۔

سپریم کورٹ کے سامنے سے گزرنے والے شاہراہِ دستور کو ریڈیو پاکستان چوک سے سیکریٹریٹ چوک تک اور جناح ایونیو اور اس کے متوازی چلنے والے سروس روڈ کو پارلیمنٹ لاجز سے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور کسی بھی شخص کو آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

جن مقامات پر سڑکوں کو بند کیا گیا ہے وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ وہاں سب سے آگے اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس جوان ہیں جبکہ ان کے پیچھے رینجرز کے جوان تعینات کیے گئے ہیں۔ سب سے پیچے سفید کپڑوں میں ملبوس افراد تعینات ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ کہ وہ فوجی ہیں۔ علاقے میں لگائے گئے ایک ناکے پر موجود اسلام آباد پولیس کے ڈی ایس پی بشیر نون سے جب سفید کپڑوں میں ملبوس افراد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ان کا تعلق نہ تو پولیس سے ہے اور نہ ہی وہ رینجرز ہیں، اس صورت میں آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کون ہیں۔‘

سپریم کورٹ نے صرف ان بارہ وکیلوں کو سپریم کورٹ کی عمارت میں داخلے کے پاس جاری کیے ہیں جن کے کیسوں کی پیر کو سماعت ہونی ہے۔ تاہم چند وکیلوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے کیس زیر سماعت ہونے کے باوجود نہیں پاس جاری نہیں کیے گئے۔ پارلیمنٹ لاجز کے قریب ناکے پر موجود ایک وکیل سردار عابد نے بی بی سی کو بتایا کہ آج ان کے دو کیسوں کی سپریم کورٹ میں سماعت ہونی ہے لیکن انہیں آگے جانے سے روکا جارہا ہے۔

علاقے میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ علاقے میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو ناکوں سے آگے جانے کے لیے اپنا سرکاری کارڈ دکھانا پڑتا ہے۔

دس بجکر دس منٹ: ارمان صابر، کراچی

سابق چیف جسٹس صبیح الدین نے اپنے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر باہر موجود اہلکاروں نے انہیں واپس کردیا، رکاوٹوں کے بعد بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے چار جج صاحبان جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اطہر سعید ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر پہنچے گئے لیکن پولیس نے انہیں واپس جانے پر مجبور کردیا۔

نوبجکر چودہ منٹ: ریاض سہیل، کراچی

کراچی میں ایمرجنسی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلا نے سخت احتجاج کیا ہے۔ اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج کرکے کئی درجن وکلا کو گرفتار کرلیا ہے جن میں سندھ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین بھی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ بار او سندھ بار ایسو سی اشین کی جانب سے پیر کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے اطراف میں صبح سویر سے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی، اور داخلی دروازوں پر سادہ کپڑے میں اہلکار موجود تھے جو صرف ہائی کورٹ کے ملازم اور وکلا کو شناخت کے بعد جانے دے رہے تھے۔ وکلا میں سے کئی کو واپس بھی کیا گیا۔

دوردراز سے آنے والے اپنے مقدمات کی شنوائی کے لیے آنے والے لوگوں کو دروازہ سے ہی یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ آج مقدمات نہیں چل رہے ہیں۔

وکلا آہستہ آہستہ جمع ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے ہائی کورٹ کے
ججز گیٹ پر دھرنا دیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں
کی آمد کا راستہ بلاک کردیا۔

وکلا کے احتجاج کے بعد پولیس نے عام داخلی دروازے سے مزید وکلا کو اندر جانے سے روک لیا۔ اس اطلاع پر وکلا کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی اور داخلہ دروازے کو زبردستی کھول دیا اور تمام وکلا اندر چلے گئے۔

اس دوران پولیس کی ان سے جھڑپیں ہوئی اور پولیس نے بے دریغ لاٹھیاں برسانے شروع کردیں اور وکلا نے حکومت کے خلاف نعرے لگنے شروع کردیئے۔

پولیس اہلکاروں نے تین وکلا کو گرفتار کرلیا جس پر وکلا مزید مشتعل ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر وکیل اور پولیس گتھم گتھا ہوگئی۔

پولیس گاڑیاں ہائی کورٹ کے اندر جاکر گرفتاریاں کرتی رہیں اس دوران خواتین وکلا پر بھی تشدد کیا گیا۔ سادہ کپڑے میں اہلکاروں نے ہائی کورٹ بار پر آویزاں کالا جھنڈہ بھی اتارلیا۔

ہائی کورٹ کے سابق جج رشید رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک سو سے زائد ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کراچی بار کے دفتر اور سٹی کورٹس کا بھی پولیس نے گھیراؤ کرلیا ہے۔ جس وجہ سے نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سٹی کورٹس میں مقدمات چلے سکے ہیں۔

مائیکروفونخصوصی نشریات
ایک گھنٹے کا’جہاں نما‘ اور خصوصی پروگرام
اخباراخبار کیا کہتے ہیں؟
ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید
ایمرجنسی پر احتجاجایمرجنسی پر احتجاج
ہنگامی حالت کے نفاذ پر احتجاج اور گرفتاریاں
جب ایمرجنسی لگی
ایمرجنسی کا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
قومی اسمبلیلمحہ بہ لمحہ
فیلڈ میں موجود ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا
بم دھماکہرپورٹرزنے کیا دیکھا
’انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے‘
رپورٹرز نے کیا دیکھارپورٹرز نے کیا دیکھا
راولپنڈی اسلام آباد سے تازہ ترین صورتِ حال
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد