عہدے پر برقرار ہوں: صبیح الدین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے برطرف چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت اب بھی اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے ان کے عہدے سے ہٹانے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ برطرف چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے پیر کو بتایا کہ پیر کی صبح وہ جب سندھ ہائی کورٹ جانے کے لیے گھر سے باہر جانے لگے تو انہیں نہیں جانے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے لیکن مجھے سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا ہے کہ مجھے میرے ہی گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ایمرجنسی کو کالعدم قرار دیا تھا اور اس حکم نامہ کے تحت وہ اور ان کے ساتھی جج حضرات اب بھی اپنے عہدوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو حکومت نے ایسا کوئی نوٹیفیکیشن نہیں دیا ہے جس سے اس بات کا تاثر ملے کہ وہ اب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نہیں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے چار ساتھی جج (جن کو برطرف کیا گیا ہے) سندھ ہائی کورٹ کے داخلی دروازے تک پہنچے تھے لیکن ان کو عدالت کے احاطہ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور وہ واپس جانے کے لیے مجبور ہو گئے۔ مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں انہوں نےکہا کہ جج حضرات تحریک نہیں چلاتے وہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں نظر بندی کی افواہوں کی تردید05 November, 2007 | پاکستان لاہور ہائی کورٹ: ’سینکڑوں گرفتار‘05 November, 2007 | پاکستان پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں05 November, 2007 | پاکستان کراچی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی05 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||