BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 November, 2007, 10:30 GMT 15:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نظر بندی کی افواہوں کی تردید

مشرف
ملک بھر میں گزشتہ روز سے صدر جنرل پرویز مشرف کی حراست کی افواہیں چل رہی ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف کی نظر بندی کے بارے میں ملک بھر میں جاری افواہوں کی فوجی ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے سختی سے تردید کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افواہیں زیادہ ہوتی ہیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔

ملک بھر میں گزشتہ روز سے صدر جنرل پرویز مشرف کی حراست کی افواہیں چل رہی ہیں اور ان افواہوں میں پیر کے روز اس وقت شدت پیدا ہوگئی جب یہ کہا جانے لگا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹے تک جنرل پرویز مشرف کی کوئی سرگرمی رپورٹ نہیں ہوئی۔

ایسی صورتحال میں ریاستی ٹی وی چینل جو صدر جنرل پرویز مشرف کی بیشتر سرگرمیاں براہ راست نشر کرتا ہے ، اس سے یہ خبر نشر ہوئی ہے کہ صدر نے پیر کو شریعت کورٹ کے چیف جسٹس حاذق الخیری اور تین ججوں فدا محمد خان، صلاح الدین اور ظفر یاسین کو ’پی سی او‘ کے تحت حلف دیا ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق غیر ملکی سفارتکاروں نے بھی صدر سے ملاقات کی ہے اور انہیں صدر نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بارے میں اعتماد میں لیا۔

صدر جنرل پرویز مشرف کی حراست کی افواہوں سے جہاں ملک کے سیاسی حلقوں میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال تھی وہاں سٹاک مارکیٹ بھی شدید بحران کا شکار ہوا اور انڈیکس 600 سے زیادہ پوائنٹس گر گئی ، جس وجہ سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف کی حراست کے بارے میں افواہوں میں تیزی کی ایک وجہ امریکی اور برطانوی وزراء خارجہ کے وہ بیانات بھی بتائے جاتے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر انتخابات وقت پر نہیں ہوئے تو وہ اربوں ڈالر کی امداد روک سکتے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کو ملک میں دوسری بار آئین معطل کرکے ہنگامی حالات نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ عدلیہ کی انتظامیہ سے محاذ آرائی بتائی گئی تھی۔

سیکورٹی فورسز نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے متعدد ایسے ججوں کو گھروں میں نظر بند کردیا ہے جو عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے سے انکاری ہیں۔

پیپلز پارٹی سمیت سیاسی جماعتیں ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت تو کر رہی ہیں لیکن ان کی جماعتوں کے کارکنوں کا ابھی تک کوئی بڑا احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا۔

ایسے میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ایمرجنسی کے باوجود بھی جنرل پرویز مشرف سے بات چیت جاری رکھیں گی۔

پاکستان میں اڑتالیس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی مقامی اور غیر ملکی نجی ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہیں اور ان کی جگہ بھارت کے انٹرٹینمینٹ چینلز کی نشریات دکھائی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد