BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 November, 2007, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور ہائی کورٹ: ’سینکڑوں گرفتار‘

لاہور ہائی کورٹ

لاہور سے سینکڑوں وکلاء کی گرفتاری کی اطلاعات ملی ہیں جن میں ضلعی بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار بھی شامل ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پولیس نے ہائی کورٹ سے تقریباً چار سو سے زیادہ وکیل گرفتار ہوئے ہیں۔ وکلاء کی ایک بڑی تعداد زخمی بھی ہوئی۔ صبح سے دوپہر تک ہائی کورٹ میدان جنگ بنا رہا جہاں ہر طرف آنسو گیس پھیلی ہوئی تھی اور پولیس وکلاء کو پکڑ پکڑ گاڑیوں میں ڈالتی رہی۔

ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس فخر النساء کھوکھر کو بھی ہائی کورٹ سے پکڑا گیا۔ انہوں نے پکڑے جانے سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ تشدد کیا گیا اور اس بات کا لحاظ نہیں کیا گیا کہ وہ ہائی کورٹ کی سینیر جج رہی ہیں۔ انہبوں نے اپنی ٹانگ پر بندھی ہوئی پٹی بھی دکھائی۔ اسی طرح پولیس لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نائب صدر فردوس بٹ کو بھی پکڑ کر لے جا رہی تھی۔ بار کے صدر احسن بھون کے بارے بتایا گیا کہ انہیں ایک رات پہلے ہی پکڑ لیا گیا تھا۔ لاہور کے ایک مقامی اخبار کے فوٹوگرافر عمر شریف بھی زخمی ہوئے۔

ہائی کورٹ کے حلف نہ لینے والے ایک سینیر جج جسٹس خواجہ محمد شریف کے بیٹے خواجہ لطیف نے ہائی کورٹ میں بی بی سی کو بتایا کہ

لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری نصرت جاوید باجوہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ بار کی قیادت کو گرفتار کیا جا چکا ہے جس وجہ سے وہ صبح اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء نے بار کے دفتر میں فیصلہ کیا کہ وہ ٹولیوں کی صورت میں ہائی کورٹ جائیں گے۔

ہائی کورٹ میں پولیس نے شدید لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ سینکڑوں وکلاء ہائی کورٹ کے احاطے میں پھیل گئے اور ان کی طرف سے پتھراؤ بھی کیا گیا۔ وکلاء نے ایک عدالت پر بھی پتھراؤ کیا جبکہ انہوں نے حلف نہ لینے والے ججوں کے کمروں کے باہر گل پاشی کی۔

ہائی کورٹ میں صورتحال دوپہر تین بجے کے قریب معمول پر آئی جب تک بہت سے وکلاء کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ کئی بار دیکھا گیا کہ پولیس نے وکلاء کو مارتی ہوئی پکڑ کر لے جا رہی تھی۔ ہائی کورٹ میں کافی توڑ پھوڑ کے آثار تھے۔ کیانی حال کے شیشے ٹوٹ چکے تھے۔

ہائی کورٹ میں دس بجے کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا ایک اجلاس ہوا جس میں وکلاء نے ’گو مشرف گو مشرف‘ کے نعرے لگائے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شاہ محمود قریشی کی آمد کا اعلان کیا گیا تو وکلاء نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

ایمرجنسی پر احتجاجایمرجنسی پر احتجاج
ہنگامی حالت کے نفاذ پر احتجاج اور گرفتاریاں
احتجاجایمرجنسی کے بعد
پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد