BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 November, 2007, 04:52 GMT 09:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: وکلاء کا شدید احتجاج، حلف نہ لینے والے جج گھروں میں محدود

اتوار تک لگ بھگ پانچ سو وکلاء اور سیاست دانوں کو گرفتار کیا جاچکا تھا

پاکستان میں ایمرجنسی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء نے کراچی میں پیر کے روز سخت احتجاج کیا ہے اور اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج کرکے کئی درجن وکلاء کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والوں میں سندھ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ بار اور سندھ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے پیر کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔

کراچ میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیر کو سندھ ہائی کورٹ کے اطراف میں صبح سویرے سے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی اور داخلی دروازوں پر سادہ کپڑے میں اہلکار موجود تھے جو صرف ہائی کورٹ کے ملازم اور وکلاء کو شناخت کے بعد جانے دے رہے تھے۔ وکلاء میں سے کئی کو واپس بھی کیا گیا۔

مقدمات کی شنوائی کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کو دروازہ سے ہی یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ آج مقدمات نہیں چل رہے ہیں۔ وکلاء آہستہ آہستہ جمع ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے ہائی کورٹ کے ججز گیٹ پر دھرنا دیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی آمد کا راستہ بلاک کردیا۔

وکلاء کے احتجاج کے بعد پولیس نے عام داخلی دروازے سے مزید وکلاء کو اندر جانے سے روک لیا۔ اس اطلاع پر وکلاء کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی اور داخلہ دروازے کو زبردستی کھول دیا اور تمام وکلاء اندر چلے گئے۔

اس دوران پولیس کی ان سے جھڑپیں ہوئی اور پولیس نے بے دریغ لاٹھایاں برسانی شروع کردیں اور وکلاء نے حکومت کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے۔ پولیس اہلکاروں نے تین وکلاء کو دبوچ کر گرفتار کر لیا جس پر وکلاء مزید مشتعل ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر وکیل اور پولیس گتھم گتھا ہوگئی۔

پولیس وین اور موبائیل ہائی کورٹ کے احاطے اندر پہنچ گئی اور وکلاء کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جس کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس گاڑیاں ہائی کورٹ کے اندر جاکر گرفتاریاں کرتی رہیں۔ اس دوران خواتین وکلاء پر بھی تشدد کیا گیا۔ سادہ کپڑے میں اہلکاروں نے ہائی کورٹ بار پر آویزاں کالا جھنڈا بھی اتار لیا۔

اتوار کے روز کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے
دوسری جانب سابق چیف جسٹس صبیح الدین نے اپنے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر باہر موجود اہلکاروں نے انہیں واپس کردیا۔ رکاوٹوں کے بعد بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے چار جج صاحبان جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اطہر سعید ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر پہنچے گئے اور پولیس نے انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

ہائی کورٹ کے سابق جج رشید رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک سو سے زائد ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کراچی بار کے دفتر اور سٹی کورٹس کا بھی پولیس نے گھیراؤ کرلیا ہے۔ جس وجہ سے نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سٹی کورٹس میں مقدمات چلے سکے ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو پاکستان میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پانچ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔گرفتار اور نظر بند ہونے والوں میں متعدد سینیئر وکلاء اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔ گرفتاریوں کا اعلان وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سنیچر کی شام عبوری آئینی حکم (PCO) جاری کرتے ہوئے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی اور ملک میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ دیگر نیوز ٹیلیویژن چینلز کی نشریات بند کر دی گئیں ہیں۔

ادھر ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو دیے جانے والے امدادی پیکج پر نظرثانی کرےگا۔ مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن پاکستان کو دیے جانے والی امدادی پیکج پر نظر ثانی کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی امداد کا ایک حصہ القاعدہ اور طالبان کے کارکنوں کو پکڑنے کے لیے ہے جو کہ بش انتظامیہ کی ترجیحات میں ہے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان نے پیر کی صبح بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ سالانہ دو طرفہ دفاعی مذاکرات معطل کردیے ہیں۔ خبررساں ایجنسیوں کے مطابق ترجمان جیف مورل نے کہا ہے کہ وزارت دفاع کے انڈر سیکرٹری ایرِک ایڈلمین منگل کو اسلام آباد جانے والے تھے لیکن اب وہ نہیں جائیں گے۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی، جو کہ بیجنگ میں ہیں، پیر کی صبح جنرل پرویز مشرف سے اپیل کی کہ جتنا جلد ہوسکے سویلین حکومت کے قیام کی راہ ہموار کریں۔ گیٹس نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم صدر مشرف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کو قانون کی بالادستی، آئینی اور جمہوری نظام پر جتنا جلد ہوسکے لے آئیں۔‘

صدر مشرف نے جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا
اتوار کو لاہور، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے مزید گیارہ ججوں نے نئے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے مزید چار ججوں نے حلف اٹھایا جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے حلف اٹھانے والے ججوں کی تعداد سترہ ہوگئی ہے۔ حلف اٹھانے والوں میں جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس شیخ حاکم علی، جسٹس سجاد حسین شاہ اور جسٹس سردار اسلم شامل ہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چار مزید ججوں جسٹس عزیز اللہ میمن، جسٹس محمود عالم، جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو، جسٹس ندیم اظہر اور جسٹس عزیز اللہ میمن نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے جبکہ پشاور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے بھی تین ججوں نے اتوار کو اپنے عہدے کا حلف لے لیا ہے جن میں جسٹس راج محمد ،جسٹس محمد رضا اور جسٹس جہانزیب شامل ہیں۔

جسٹس افتخار چودھری کی برطرفی اور نئے چیف جسٹس جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے تقرر کے بعد سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کو ان کے عہدے سے ہٹا کر کے پاکستان لاء کمیشن واپس بھیج دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پر سارہ سعید کو سپریم کورٹ کا نیا رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ایک نوٹس کے ذریعے وکلاء کو مطلع کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں پانچ نومبر سے آٹھ نومبر تک زیرِ سماعت مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے اور سماعت کی اگلی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ سنیچر کی شب سات رکنی بنچ کی جانب سے ایمرجنسی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سنیچر کوایک حکم جاری کیا تھا جس میں انہوں نے عبوری آئینی حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اور تمام فوجی اور سول حکام کو ہدایت کی تھی کوئی بھی پی سی او کے تحت خدمات سرانجام نہ دے اور نہ جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں۔
بنچ نے یہ حکم اعتزاز احسن کی ایک درخواست پر دیا جو انہوں نے جمعہ کو ایمرجنسی یا پی سی او کے ممکنہ نفاذ کے خلاف دائر کی تھی۔ یہ درخواست صدر کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر شدہ درخواست کی سماعت کے دوران دائر کی گئی تھی۔

گرفتاریاں اور نظر بندیاں

اعتزاز احسن گرفتار کیے جانے والے پہلے اہم رہنما تھے
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے پاکستان میں نظر بندیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک مسلم لیگ(ن) کے رہنما جاوید ہاشمی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد سمیت متعدد وکلاء اور سیاستدان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو لاہور میں جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو پشاور میں ان کی رہائشگاہوں پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری قاہر شاہ، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ اور نائب صدر ہاشم کاکڑ کو بھی نقص امن کے تحت گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر بی بی سی اردو سروس کے صبح کے پروگرام جہاں نما کے وقت میں اضافہ کیا گیا ہے اور اتوار کا ’جہاں نما‘ ایک گھنٹے پر مشتمل ہوگا اور پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے ساڑھے سات بجے تک نشر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے بی بی سی اردو سروس ایک خصوصی پروگرام بھی پیش کرے گی۔

جب ایمرجنسی لگی
ایمرجنسی کا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
اخباراخبار کیا کہتے ہیں؟
ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید
اعتزاز احسن(فائل فوٹو)نظربندیاں وگرفتاریاں
ملک بھر میں گرفتاریاں اور نظر بندیاں شروع
مائیکروفونخصوصی نشریات
ایک گھنٹے کا’جہاں نما‘ اور خصوصی پروگرام
رینجرزہر طرف خاکی وردی
ایمرجنسی کے بعد اسلام آباد کا حال
سپریم کورٹایمرجنسی کی حیثیت
ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان
جسٹس ڈوگرجسٹس ڈوگر کون؟
جسٹس ڈوگر پییپلز پارٹی کے دور میں جج بنے
اسی بارے میں
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت
03 November, 2007 | پاکستان
عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد