کراچی: وکلاء کا شدید احتجاج، حلف نہ لینے والے جج گھروں میں محدود | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء نے کراچی میں پیر کے روز سخت احتجاج کیا ہے اور اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج کرکے کئی درجن وکلاء کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں سندھ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ بار اور سندھ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے پیر کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔ کراچ میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیر کو سندھ ہائی کورٹ کے اطراف میں صبح سویرے سے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی اور داخلی دروازوں پر سادہ کپڑے میں اہلکار موجود تھے جو صرف ہائی کورٹ کے ملازم اور وکلاء کو شناخت کے بعد جانے دے رہے تھے۔ وکلاء میں سے کئی کو واپس بھی کیا گیا۔ مقدمات کی شنوائی کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کو دروازہ سے ہی یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ آج مقدمات نہیں چل رہے ہیں۔ وکلاء آہستہ آہستہ جمع ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے ہائی کورٹ کے ججز گیٹ پر دھرنا دیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی آمد کا راستہ بلاک کردیا۔ وکلاء کے احتجاج کے بعد پولیس نے عام داخلی دروازے سے مزید وکلاء کو اندر جانے سے روک لیا۔ اس اطلاع پر وکلاء کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی اور داخلہ دروازے کو زبردستی کھول دیا اور تمام وکلاء اندر چلے گئے۔ اس دوران پولیس کی ان سے جھڑپیں ہوئی اور پولیس نے بے دریغ لاٹھایاں برسانی شروع کردیں اور وکلاء نے حکومت کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے۔ پولیس اہلکاروں نے تین وکلاء کو دبوچ کر گرفتار کر لیا جس پر وکلاء مزید مشتعل ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر وکیل اور پولیس گتھم گتھا ہوگئی۔ پولیس وین اور موبائیل ہائی کورٹ کے احاطے اندر پہنچ گئی اور وکلاء کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جس کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس گاڑیاں ہائی کورٹ کے اندر جاکر گرفتاریاں کرتی رہیں۔ اس دوران خواتین وکلاء پر بھی تشدد کیا گیا۔ سادہ کپڑے میں اہلکاروں نے ہائی کورٹ بار پر آویزاں کالا جھنڈا بھی اتار لیا۔
ہائی کورٹ کے سابق جج رشید رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک سو سے زائد ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کراچی بار کے دفتر اور سٹی کورٹس کا بھی پولیس نے گھیراؤ کرلیا ہے۔ جس وجہ سے نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سٹی کورٹس میں مقدمات چلے سکے ہیں۔ اس سے قبل اتوار کو پاکستان میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پانچ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔گرفتار اور نظر بند ہونے والوں میں متعدد سینیئر وکلاء اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔ گرفتاریوں کا اعلان وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سنیچر کی شام عبوری آئینی حکم (PCO) جاری کرتے ہوئے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی اور ملک میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ دیگر نیوز ٹیلیویژن چینلز کی نشریات بند کر دی گئیں ہیں۔ ادھر ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو دیے جانے والے امدادی پیکج پر نظرثانی کرےگا۔ مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن پاکستان کو دیے جانے والی امدادی پیکج پر نظر ثانی کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی امداد کا ایک حصہ القاعدہ اور طالبان کے کارکنوں کو پکڑنے کے لیے ہے جو کہ بش انتظامیہ کی ترجیحات میں ہے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان نے پیر کی صبح بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ سالانہ دو طرفہ دفاعی مذاکرات معطل کردیے ہیں۔ خبررساں ایجنسیوں کے مطابق ترجمان جیف مورل نے کہا ہے کہ وزارت دفاع کے انڈر سیکرٹری ایرِک ایڈلمین منگل کو اسلام آباد جانے والے تھے لیکن اب وہ نہیں جائیں گے۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی، جو کہ بیجنگ میں ہیں، پیر کی صبح جنرل پرویز مشرف سے اپیل کی کہ جتنا جلد ہوسکے سویلین حکومت کے قیام کی راہ ہموار کریں۔ گیٹس نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم صدر مشرف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کو قانون کی بالادستی، آئینی اور جمہوری نظام پر جتنا جلد ہوسکے لے آئیں۔‘
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چار مزید ججوں جسٹس عزیز اللہ میمن، جسٹس محمود عالم، جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو، جسٹس ندیم اظہر اور جسٹس عزیز اللہ میمن نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے جبکہ پشاور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے بھی تین ججوں نے اتوار کو اپنے عہدے کا حلف لے لیا ہے جن میں جسٹس راج محمد ،جسٹس محمد رضا اور جسٹس جہانزیب شامل ہیں۔ جسٹس افتخار چودھری کی برطرفی اور نئے چیف جسٹس جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے تقرر کے بعد سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کو ان کے عہدے سے ہٹا کر کے پاکستان لاء کمیشن واپس بھیج دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پر سارہ سعید کو سپریم کورٹ کا نیا رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ایک نوٹس کے ذریعے وکلاء کو مطلع کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں پانچ نومبر سے آٹھ نومبر تک زیرِ سماعت مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے اور سماعت کی اگلی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ سنیچر کی شب سات رکنی بنچ کی جانب سے ایمرجنسی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سنیچر کوایک حکم جاری کیا تھا جس میں انہوں نے عبوری آئینی حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اور تمام فوجی اور سول حکام کو ہدایت کی تھی کوئی بھی پی سی او کے تحت خدمات سرانجام نہ دے اور نہ جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں۔ گرفتاریاں اور نظر بندیاں
انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو لاہور میں جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو پشاور میں ان کی رہائشگاہوں پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری قاہر شاہ، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ اور نائب صدر ہاشم کاکڑ کو بھی نقص امن کے تحت گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر بی بی سی اردو سروس کے صبح کے پروگرام جہاں نما کے وقت میں اضافہ کیا گیا ہے اور اتوار کا ’جہاں نما‘ ایک گھنٹے پر مشتمل ہوگا اور پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے ساڑھے سات بجے تک نشر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے بی بی سی اردو سروس ایک خصوصی پروگرام بھی پیش کرے گی۔ |
اسی بارے میں ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان ہنگامی صورت حال کے حکمنامے کا متن03 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان ’عدلیہ، انتظامیہ سے متصادم تھی‘03 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی چیلنج ہو سکتی ہے: سعید الزمان03 November, 2007 | پاکستان گرفتاریوں،نظربندی کا سلسلہ جاری04 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||