BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 November, 2007, 20:17 GMT 01:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے

ڈوگر، مشرف
جنرل صدر پرویز مشرف پی سی او 2007 کے تحت جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے سپریم کور کے چیف جسٹس کا حلف لے رہے ہیں
پاکستان میں ایمرجنسی اور عبوری حکم نامے کے اعلان کے دو دن بعد بھی اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقریباً نصف آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ سپریم کورٹ کے چودہ جب کہ ہائی کورٹس کے تیس سے زائد ججوں نے پی سی او 2007 کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا ہے ۔ (48 ججوں نے حلف اٹھایا ہے جبکہ 49 آسامیاں خا لی ہیں)

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ججوں کی ایک غالب اکثریت نے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا ہے۔ اس سے قبل 1973 کے آئین سے انحراف کرتے ہوئے جب جب کوئی عبوری آئینی حکمنامہ جاری ہوا، اس سے منہ موڑ کر گھر جانے والوں کی تعداد ہمیشہ اقلیت میں رہی ہے۔ پی سی او دو ہزار سات کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والوں میں بھی اکثریت ان کی ہے جنہوں نے 1999 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔

سپریم کورٹ میں اس وقت چیف جسٹس سمیت انیس جج ہیں جن میں سے پانچ نے نئے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے ۔ ان میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر بھی شامل ہیں جنہیں جسٹس افتخار محمد چودھری کی جگہ نیا چیف جسٹس آف پاکستان بنایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے حلف نہ اٹھانے والے ججوں میں جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس سردار رضا خان، جسٹس خلیل الرحمان رمدے، جسٹس فلک شیر، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض احمد، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشید علی، جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس غلام ربانی شامل ہیں۔

نو مارچ دو سو سات کی ایک یادگار تصویر اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جاوید اقبال جسٹس حمید ڈوگر سے حلف برداری کے بعد گلے مل رہے ہیں

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار حسین چوہدری سمیت اکتیس ججوں میں سے سترہ نے اب تک عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھایا ہے۔ تاہم اس بار حلف نہ اٹھانے والے چودہ ججوں نے اس سے پہلے 1999 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سمیت کل ستائیس جج تھے۔ ان میں سے آٹھ نے پی سی او 2007 کے تحت حلف اٹھایا ہے اور چار نئے جج تعنیات کیے گئے ہیں۔ جب کہ چیف جسٹس صبیح الدین کی برطرفی کے بعد جسٹس محمد افضل سومرو نے بطور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ حلف اٹھایا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے تیرہ میں سے نو ججوں نے نئے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے جب کہ برطرف ہونے والے چیف جسٹس طارق پرویز کی جگہ جسٹس طلعت محمود قریشی نئے چیف جسٹس تعینات ہوئے ہیں۔ جب کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت تمام پانچ ججوں نے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے نئے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھا لیا ہے ۔

 رانا بھگوان داس’آج بھی جج ہوں‘
’پیر کوعدالت جاؤں گا، پی سی آو غیر آئینی ہے‘
جج(فائل فوٹو)ججوں کا انکار
اعلٰی عدلیہ کے درجنوں ججوں نےحلف نہیں اٹھایا
مشرف’ججوں کا سرپرائز‘
’صدر مشرف کے سر پر لٹکتی عدالتی تلوار‘
جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
ججوں کافیصلہ
ججوں کے استعفوں کا فیصلہ باقی
’جج بنا دوں گا۔۔۔‘
عدالت میں دلچسپ اقوال سننے کو ملے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد