’جج کسی بھی وقت سرپرائز دے سکتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے چند ماہ قبل بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ فوجی وردی ان کی کھال ہے اور وہ اس سے کیسے علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ پہلے قومی مفاد کا عذر پیش کرتے ہوئے انہوں نے باوردی صدر رہنے کا فیصلہ کیا اور متحدہ مجلس عمل سے وعدہ تو کیا مگر وفا نہ کیا۔ لیکن انہوں نے اس بار قومی مصالحت کے نام پر خود کو صدر منتخب کرانے کے لیے پیپلز پارٹی سے اپنی’ کھال‘ اتارنے کا وعدہ کیا ہے۔ قومی مصالحت کے معاہدے کے تحت جنرل پرویز مشرف صدر تو منتخب ہوگئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ان کا اضطراب ختم نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق وہ راولپنڈی کے آرمی ہاؤس سے کچھ اپنا سامان ایوان صدر اسلام آباد منتقل بھی کر چکے ہیں اور کلی طور پر ان کی ہجرت ابھی باقی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی اضطرابی کیفیت کا خاتمہ اور ان کی کلی ہجرت اس وقت ہی مکمل ہوسکے گی جب سپریم کورٹ کی لٹکتی تلوار ان کے سر سے ہٹے گی۔سپریم کورٹ میں ان کے باوردی صدر منتخب ہونے کے خلاف دائر درخواستوں کی باضابطہ سماعت سترہ اکتوبر سے شروع ہونے والی ہے اور اس مقصد کے لیے گیارہ ججوں پر مشتمل بینچ بھی بن چکا ہے۔ بطور جنرل صدر کا انتخاب لڑنے کے خلاف آئینی درخواست تو پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم نے بھی دائر کی ہے لیکن قومی مصالحت کے تحت اب شاید وہ اس کی پیروی میں زیادہ دلچسپی نہ لیں لیکن جسٹس (ر) وجیہہ الدین پہلے ہی مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان کی درخواست کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اس بارے میں عید کے بعد ججوں کی دستیابی کے بعد غور کیا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں اس وقت اٹھارہ جج ہیں جس میں سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری خود تاحال صدر مشرف کے خلاف کسی مقدمے میں بینچ میں نہیں بیٹھے اور اب بھی مشکل ہے کہ وہ خود فل کورٹ کا حصہ بنیں۔ جسٹس بھگوان داس ، جسٹس رضا محمد خان اور جسٹس شاکراللہ جان پہلے ہی باوردی صدر کے انتخاب کو غیر آئینی قرار دے چکے ہیں جبکہ جسٹس فلک شیر نے تکنیکی بنیاد پر فوجی عہدہ رکھتے ہوئے صدر کے انتخاب کے خلاف جماعت اسلامی اور دیگر کی درخواستیں مسترد تو کردی تھیں لیکن انہوں نے اپنے تفصیلی اختلافی نوٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ جنرل مشرف کا صدارتی انتخاب غیر آئینی ہے۔ باقی دو جج ایسے بچتے ہیں جو فل کورٹ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ جن میں جسٹس سید سعید اشہد اور جسٹس ناصر الملک شامل ہیں۔ فل کورٹ بنے یا کہ موجودہ گیارہ ججوں والا لارجر بینچ سماعت کرے لیکن اب بھی بعض ماہرین کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اب بھی جنرل پرویز مشرف کے لیے ایک خطرہ ہے جو کسی بھی وقت قومی مفاد اور قومی مصالحت والوں کی نیندیں حرام کرسکتی ہے۔ کیونکہ نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا نعرہ لگانے والے جج کسی بھی وقت سرپرائز دے سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف اپنا جان نشین مقرر کرنے کے باوجود اس وقت تک اپنی’ کھال‘ نہیں اتارنا چاہتے جب تک کہ وہ بطور سویلین صدر حلف نہیں اٹھا لیتے۔ | اسی بارے میں غیر سرکاری نتائج، پانچ سال اور؟06 October, 2007 | پاکستان مہنگا ترین صدارتی الیکشن06 October, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب: ’ملک و قوم کا وسیع تر مفاد‘06 October, 2007 | پاکستان ’سیاسی ساکھ کا سوال باعثِ پریشانی‘06 October, 2007 | پاکستان صدر مشرف کے انٹرویو کے اہم حصے22 May, 2007 | پاکستان فوجی وردی میری کھال ہے: مشرف22 May, 2007 | پاکستان وہ سیاست سیکھ جاتے تو۔۔23 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||