ججوں کے استعفوں کا فیصلہ باقی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشئل کونسل کو بھیجے جانے اور انہیں کام سے روکنے کے حکم کے بعد پورے ملک کی وکلاء برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ وکلاء نے ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ جلوس نکال کر اور بھوک ہڑتالیں کرکے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا جو بعد میں تحریک کی شکل اختیار کرگیا لیکن وکلاء کی اس تحریک کو ابتداء میں جس چیز نے مہمیز دی وہ تھی ججوں کے استعفے۔ تالاب میں پہلا پتھر صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ ججوں نے پھینکا جن میں کراچی کے چار سول ججوں، مصطفی صفوی، اشرف یار خان، الھبچایو گبول اور پیر اسداللہ شاہ راشدی کے علاوہ پنو عاقل کے سول جج راجیش چندر راجپوت شامل تھے۔ ان ججز نے احتجاجاً اپنے عہدوں سے استعفی دیا تھا اور پھر اس کے بعد تو جیسے لائن ہی لگ گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج جواد اے خواجہ کے ساتھ ساتھ بعض دیگر ججوں نے بھی احتجاجاً اپنے استعفے جمع کرائے اور اسکے بعد بعض سرکاری وکلاء نے بھی استعفے دئے۔ مستعفی ہونے والے ججوں کا مؤقف تھا کہ چیف جسٹس کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بعد ان کے لئے اپنے کام کو جاری رکھنا بہت مشکل ہوگیا تھا کیونکہ جب ملک کے چیف جسٹس کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا تو ان حالات میں وہ خود عوام کو کیا انصاف فراہم کر پائیں گے۔
سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس کے خلاف چیف جسٹس کی آئینی درخواست پر دئے گئے فیصلے پر یقیناً وکلاء اور عدلیہ کے دیگر اراکین کی طرح یہ ججز بھی بہت خوش ہیں۔ راجیش چندر راجپوت کہتے ہیں کہ ’بہت خوشی محسوس ہورہی ہے ایک تو یہ کہ ہماری جو قربانی تھی وہ رنگ لائی اور جو تحریک تھی عوام کی، وکلاء کی ظاہر ہے اس میں سب ہی نے حصہ لیا تو اس میں انصاف کی فتح ہوئی، نہ صرف یہ عدالتوں کے لئے بلکہ ملک کے مفاد میں یہ بہترین فیصلہ ہے اس پر ہمیں بڑی خوشی ہوئی ہے۔‘ ایک اور مستعفی جج مصطفی صفوی جہاں اس فیصلے کو سراہتے ہیں وہاں اس کا سہرا وکلاء برادری کے سر باندھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا استعفے دیتے وقت ان ججز کو توقع تھی کہ ان کی قربانی رنگ لائے گی؟ کراچی کے مستعفی ہونے والے سینئر سول جج الھبچایو گبول کہتے ہیں کہ ’استعفی دینے والا کبھی بھی یہ سب چیزیں سوچ کر یہ فیصلہ نہیں کرتا۔ ہمارے استعفی دینے کی وجہ تو یہی تھی کہ جو کچھ ہوا تھا وہ اس کے خلاف ہمارا ایک احتجاج تھا۔ ہمارا مؤقف یہی تھا کہ جو کچھ ہوا ہے غلط ہوا ہے غیرآئینی غیرقانونی طور پر ہوا ہے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا ہم نے اپنا اخلاقی فریضہ سمجھا اور اسے پورا کیا۔‘ لیکن راجیش چندر راجپوت کہتے ہیں کہ ’مجھے اس وقت تو امید نہیں تھی کہ فیصلہ ایسا ہوگا لیکن بعد میں یہ توقع پیدا ہوگئی تھی کیونکہ جو اتنا عوامی دباؤ پیدا ہوا اور عدالت میں جو کارروائی چلی اس سے اندازہ ہوگیا تھا کہ مثبت فیصلہ آئے گا۔‘ چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے جانے کے خلاف صوبہ سندھ کے ان سات ججوں کے استعفے منظور نہیں ہوئے تھے بلکہ اب بھی سندھ ہائی کورٹ میں زیرالتواء ہیں۔ ان کے بارے میں امکان یہی ہے کہ وہ واپس لے لئے جائیں گے۔ راجیش چندر راجپوت کہتے ہیں کہ سندھ ہائی کورٹ نے پیر کو انہیں کہا ہے کہ وہ عدالت کو اپنے استعفوں کے بارے میں حتمی فیصلے سے آگاہ کریں جس پر استعفی دینے والے ججز آپس میں صلاح مشورہ کررہے ہیں اور چند دنوں میں ہائی کورٹ کو اپنے متفقہ فیصلے سے آگاہ کردیں گے۔ چیف جسٹس کی بحالی کے لئے وکلاء کی تحریک میں ان کے ہم خیال جج عملاً تو حصہ نہ لے سکے لیکن اپنے عہدوں سے استعفے دیکر وہ تاریخ کے اس اہم باب کا روشن حصہ ضرور بن گئے ہیں۔ | اسی بارے میں مستعفی ہونے والے ججوں کا ردِعمل19 March, 2007 | پاکستان کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: ایک اور استعفیٰ03 May, 2007 | پاکستان ایک اور ڈپٹی اٹارنی جنرل مستعفی01 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||