BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس کیس: ایک اور استعفیٰ

مستعفی ہونے والے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل چودھری محمد شریف
چودھری محمد شریف کے مطابق انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا بلکہ انہوں نے استعفیٰ دیا ہے
پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ اسمعیل خان سرکٹ بینچ کے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل چوہدری محمد شریف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ حکومتی رویے کے خلاف احتجاجا ً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اس بات کا اعلان چودھری محمد شریف نے جمعرات کو ڈیرہ اسمعیل خان میں وکلاء کی ایک احتجاجی ریلی میں کیا۔ تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری محمد شریف کو ایک دن پہلے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔


ڈیرہ اسمعیل خان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے مستعفی ہونے والے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل چودھری محمد شریف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بہت پہلے استعفیٰ دینا چاہتے تھے لیکن متحدہ مجلس عمل کے رہنما انہیں آمادہ کرتے رہے کہ ان کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات ہیں لہذا وہ مستعفیٰ نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف حکومتی کارروائی کے بعد بحثیت وکیل ان کا فرض بنتا تھا کہ وہ بھی وکلاء کے قافلے میں شامل ہوجائیں لیکن چونکہ ان کا تعلق چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے سے تھا، لہذا اتحاد کے رہنما انہیں سمجھاتے رہے کہ وہ مستعفی نہ ہوں کیونکہ اس کی وجہ سے ان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں گے۔

نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف حکومتی کارروائی کے بعد بحثیت وکیل میرا فرض بنتا تھا کہ میں بھی وکلاء کے قافلے میں شامل ہوجاؤں لیکن چونکہ میرا تعلق چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے سے تھا، لہذا اتحاد کے رہنما مجھے سمجھاتے رہے کہ میں مستعفی نہ ہوں کیونکہ اس کی وجہ سے ان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں گے
چودھری محمد شریف

ان کا کہنا تھا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ چیف جسٹس ڈیرہ شہر آئیں گے تو یہاں وہ انہیں استعفی پیش کردیں گے لیکن وہ یہاں نہیں آئے اور دوسری طرف سرحد حکومت کو بھی ان کے استعفیٰ کا علم ہوچکا تھا لہذا اس سے پہلے کہ حکومت انہیں عہدے سے ہٹاتی انہوں نے پہلے ہی استعفی دے دیا۔

چودھری محمد شریف نے مزید بتایا کہ استعفیٰ کے بعد انہیں ڈیرہ اسمعیل خان میں سرحد حکومت کی جانب سے جمعرات کو برطرفی کا حکم نامہ بارہ بجے کے بعد موصول ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے حق میں وکلاء برادری کی جانب سے ملک بھر میں جو تحریک شروع کی گئی ہے وہ اس میں شامل ہیں اور شامل رہیں گے بلکہ اس تحریک کو پایۂ تکمیل تک بھی پہنچائیں گے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کےخلاف نو مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجے جانے والے صدارتی ریفرنس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جج جواد خواجہ کے علاوہ ایک درجن سے زیادہ دسٹرکٹ اور سول جج احتجاجاً مستعفی ہو چکے ہیں۔

سینئر سول جج راجیش چندر راجپوتنو نے نہ کر دی
مستعفی ہونے والے کیا کہتے ہیں؟
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد