 | | | مشرف وردی چھوڑ دیں: رائس |
امریکی وزارت خارجہ نے پاکستان میں ایمرجسنی کے نفاذ پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر جلد حالات معمول پر نہیں آئے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پرینو نے اس بات کی تصدیق کردی کہ پاکستان کو جاری امریکی امداد پر از سرِ نو غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے وارننگ دی ہے کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات پہلے جیسے نہیں رہیں گے اگر صدر مشرف نے (ایمرجنسی کا) اقدام واپس نہیں لیا۔اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو وردی اتار دینی چاہئیے اور ملک میں آئین کے تحت انتخابات منعقد ہونے چاہئیں۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین نے پاکستان کو جاری امداد میں کٹوتی کے امکان کی وارننگ بھی دی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے سکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے رد عمل میں کہا ہے انہیں ایمرجنسی کے نفاذ پر بہت تشویش ہے اور انہوں نے جنرل پرویز مشرف پر زور دیا کہ وہ گرفتار شدہ افراد کو فوراً رہا کر دیں۔برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور پاکستانی قیادت کے لئے یہ ایک اہم موڑ ہے۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کس طرح عمل میں آتی ہے۔ نیدرلینڈز نے پہلے ہی پاکستان کو امدادی رقوم بند کر دی ہیں۔ آسٹریلیا، جرمنی، فرانس اور افغانستان نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ |