امریکہ اور کینیڈا میں پاکستانیوں کا ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور کینیڈا میں رہنے والے پاکستانیوں نے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سب سے فوری ردعمل نیویارک میں دیکھنے میں آیا جب سنیچر کی دوپہر تقریباً پچاس پاکستانی امریکی شہریوں نے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے چند گھنٹوں کے اندر اس کے خلاف پاکستانی قونصل خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے میں متعدد پاکستانی سیاسی پارٹیوں اور امریکہ میں پاکستان کے لیے کام کرنے والے سول سوسائٹی کے کارکن شامل تھے۔ مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پرایمرجنسی اور مشرف مخالف نعرے لکھے ہوئے تھے۔ شرکاء میں پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان مسلم لیگ نواز شریف گروپ ، تحریک انصاف پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، اے پی ڈی ایم، پاکستان یو ایس فریڈم فورم ، اور ڈاکٹرز فار ڈیموکریسی کے رہنما اور کارکن شامل تھے۔ ڈاکٹرز فار ڈیموکریسی کے ایک بانی رکن ڈاکٹر ظفر اقبال نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ڈاکٹرز فار ڈیموکرسی پاکستان میں جمہوریت کی بجالی کی جدوجہد میں ہم خیال گروپوں کے ساتھ مل کر آئندہ چند روز میں واشنگٹن ڈی سی سمیت دوسرے امریکی شہروں میں بھی مظاہرے منظم کرنے کے پروگرام بنا رہی ہے۔
کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں میں بھی ایمرجنسی کے نفاذ پر ملا جلا ردِ عمل دیکھنے میں آیا آٹھ سال سے کینیڈا میں مقیم فیصل آبادسے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور محمد سلیم کا کہنا تھا کہ جب مسافر مشرف کے اس اقدام پر بار بار پوچھتے ہیں تو ہمارا دل ڈوب جاتا ہے پاکستان کے ان حالات نے ہمیں مزید رنجیدہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی میں کام کرنے والے پاکستانی محمود ارشد قریشی کا کہنا ہے کہ صدرمشرف کو ہر کام طاقت نہیں بلکہ عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے کرنا چاہئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سب انتخابات میں خلل ڈالنے کے لیے ہوا ہے۔ کینڈا میں ہی ریستوران کے مالک مسعود بٹ کا کہنا ہے کہ مشرف نے جو کچھ کیا بہت برا کیا ہے۔ تمام پاکستانی جانتے ہیں کہ مشرف صاحب نے اپنے فائدے کے لیے ملک کو اس موڑ پر لاکھڑا کیا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی محمد الیاس خان کا کہتے ہیں کہ ’فوج کو سات سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے اب انہوں نے مزید لوٹ مار کے لیے آخری حربہ استعمال کیا ہے جو فوج کے برے انجام کی طرف اشارہ ہے‘۔ تھارن کلف کے علاقے میں ویڈیو سٹور کے مالک محمد علی نے کہا کہ سب ایک شخص کی وجہ سے ہورہا ہے پاکستان میں فروخت والے بہت لوگ ہیں اور سب امریکہ کی مرضی کے مطابق ہورہا ہے۔ محمد اکرم بھولا مقامی کمپنی میں کام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی حکمران کو کام کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ہم نے تو پردیس میں ہی دھکے کھانے ہیں مگر پاکستان کے حالات پر افسسوس ہوتا ہے۔ نیویارک میں منی پاکستان کہلانے والے علاقے کونی آئي لینڈ بروکلین میں نیویارک میں پختونوں کی تنظیم خیبر سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور سوات سمیت صوبہ سرحد کے قبائلی اورغیر قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ دوسری طرف نیویارک ٹائيمز سمیت امریکی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں پاکستان میں مشرف فوجی سرکار کے ہاتھوں ہنگامی حالات کی خبریں نمایاں طور پر شائع ہوئی ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے امریکی محکمہء خارجہ کے عملداروں کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرتا۔ |
اسی بارے میں ایمرجنسی، عدلیہ میں تبدیلیاں، میڈیا پر پابندیاں، عالمی تشویش04 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کے خلاف یومِ سیاہ03 November, 2007 | پاکستان ’یہ ایمرجنسی نہیں، مارشل لا ہے‘03 November, 2007 | پاکستان ملک میں گرفتاریاں نظر بندیاں03 November, 2007 | پاکستان ہنگامی صورت حال کے حکمنامے کا متن03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||