ایمرجنسی کے خلاف یومِ سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پانچ نومبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری امین جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے وکلاء سوموار کو یوم سیاہ منائیں گے اور مکمل ہڑتال کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وکلاء پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو کام نہیں کرنے دیں گے اور ان کو اس بات کا احساس دلایا جائے گا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا فیصلہ آئین کے برعکس ہے۔ سنیچر کے روز پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کو حراست میں لے لیا گیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےسیکرٹری امین جاوید کے مطابق ان کی بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن سے بات ہوئی ہے اور وکلاء برادری کے لیے ان کا یہ پیغام ہے کہ وکلاء سوموار کو بھر پور احتجاج کریں اور عدالتوں میں پیش نہ ہوں۔ امین جاوید کے مطابق سوموار کو ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنوں میں احتجاجی اجلاس ہونگے جس کے بعد وکلاء جلوس نکالیں گے۔ ان کے بقول وکلاء تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل وکلاء ایکشن کمیٹی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس بھی پانچ نومبر کو ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ امین جاوید نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی نہیں بلکہ مارشل لاء لگایا گیا ہے۔ ان کے بقول ہنگامی حالت کے اعلان کے لیے صدر مملکت کو صرف ایک اعلامیہ جاری کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کے فرمان جنرل پرویز مشرف نے چیف آف آرمی کی حیثیت سے جاری کیا ہے اور آئین کو معطل کردیا گیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر جنرل مشرف نے عدالتوں اور میڈیا پر مارشل لاء لگایا ہے جبکہ باقی نظام برقرار ہے۔ ان کے بقول وکلاء برادری ملک میں ہنگامی حالت کے اعلان پر بھر پور مزاحمت کرے گی۔ |
اسی بارے میں ساٹھ سے زائد ججوں نے حلف نہیں اٹھایا03 November, 2007 | پاکستان لاہور: صورتِحال معمول کے مطابق03 November, 2007 | پاکستان عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب03 November, 2007 | پاکستان ’عدلیہ، انتظامیہ سے متصادم تھی‘03 November, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب‘ 03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||