BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 17:12 GMT 22:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: صورتِحال معمول کے مطابق

لاہور
پنجاب کے دارالحکومت میں فوج پولیس یا رینجرز کی کوئی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھنے میں نہیں آئی، پنجاب اسمبلی، گورنر ہاؤس، لاہور ہائی کورٹ سمیت تمام اہم سرکاری عمارتوں کی سکیورٹی معمول کے مطابق رہی البتہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاہور کے شہری بھی مخمصے کا شکار ہیں، کیبل آپریٹرز نے نجی نیوز ٹی وی چینلز کی نشریات اچانک بند کردی گئیں اور شہریوں کو صرف تفریحی پروگرام دکھائے جارہے ہیں۔

صرف سرکاری ٹی وی کی نشریات جاری رہیں جن میں چیف آف آرمی سٹاف کے اقدام کا ذکر تھا اس لیے بڑے پیمانے پر یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ یہ حکم نامہ صدر مشرف کی طرف سے نہیں بلکہ چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے آیا ہے جو کوئی دوسرا شخص بھی ہوسکتا ہے لیکن پھر جب صدرجنرل پرویز مشرف کے نام سے خبر آئی تو صورتحال کسی حد تک واضح ہوئی۔ تاہم چونکہ خبروں کے ذرائع پر پابندی ہے اس لیے افواہوں کا سلسلہ رکتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے دفاتر میں ٹیلی فون کا تانتا بندھا رہا اور لوگ ’اصل خبر‘ جاننے کے لیے اپنی بے تابی ظاہر کرتے رہے۔

لاہور میں موبائل فون پر ایس ایم ایس کے ذریعے خبریں اور افواہیں ایک دوسرے تک پہنچائی جارہی ہیں۔

ایک ایس ایم ایس میں کہا گیا کہ ’چیف جسٹس اور ان کے آٹھ ساتھیوں نے ایمرجنسی کو خارج ازامکان قرار دیا تھا اس لیے انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے‘ ساتھ ہی ہدایت ہے کہ یہ ایس ایم ایس دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

لاہور کے عام شہریوں کی طرح سیاسی قائدین بھی ابتدائی طور پر اسی کنفیوژن کا شکار تھے۔

مسلم لیگ نواز کے فنانس سیکرٹری ملک پرویز نے کہا کہ ’کچھ علم نہیں ہے کہ کس نے ایمرجنسی لگائی ہے کس کو گرفتار کیا گیا ہے ’انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں کس آرمی چیف نے ایمرجنسی لگائی ہے‘۔

پیپلز پارٹی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر قاسم ضیا نے کہا کہ وہ پارٹی لائن آنے سے پہلے ردعمل جاری نہیں کرسکتے۔

عمران خان نے ایک نجی یونیورسٹی میں لیکچر تو دیدیا لیکن بعد کی اپنی سیاسی سرگرمیاں ملتوی کردیں۔

انہوں نے شاہدرہ میں ایک جلسے سے خطاب کرنا تھا اورگارڈن ٹاؤن میں اپنی پارٹی کے ایک دفترکا افتتاح کرنا تھا۔عمران خان سے ان کے گھر پر بھی رابطہ نہیں ہو پایا۔

مست ایف ایم ایک سو تین ریڈیو کے ملتان کے ڈائریکٹر عارف نے بتایا کہ انہیں پمرا کے ایک اعلی افسر نے بی بی سی کے بلیٹن نشر کرنے سے منع کیا ہے اور کہا کہ پروگراموں میں احتیاط کی جائے اور کسی بھی قسم کی خبر جاری کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی کالعدم: سپریم کورٹ
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد