BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 November, 2007, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بینظیر پر ہمارا قرض ضرور رہتا ہے‘

طالبان کمانڈر مولوی فقیر محمد(فائل فوٹو)
’فوج اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس جنگ سے مطمئن نہیں‘
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سرگرم مقامی طالبان کے کمانڈر مولوی فقیر محمد نے ذرائع ابلاغ میں ان سے منسوب اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو پر کراچی میں ہونے والے حملوں میں ان کا ہاتھ ہے۔

ہفتہ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے انہوں نے بتایا کہ’میں اس پر فخر کرتا اگر کراچی کے حملے میں نے کیے ہوتے لیکن بینظیر خاتون ہے اور ہم خاتون کو نہیں مارتے بلکہ ہمارا کام مردوں کے ساتھ ہوتا ہے‘۔

انہوں نے کہاکہ ذرئع ابلاغ میں ان کے حوالے سے شائع شدہ اس بیان میں کوئی حقیقت نہیں جس میں کہا گیا ہے کہ بینظیر پر ہونے والے حملوں میں وہ ملوث ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’بینظیر پر ہمارا قرض ضرور رہتا ہے کیونکہ انہوں نے 1994 میں ملاکنڈ ڈویژن میں آپریشن کر کے ’ٹی این ایس ایم‘ کے رضاکاروں کو بڑی تعداد میں ہلاک کیا تھا‘۔

ایک سوال کے جواب میں مولوی فقیر کا کہنا تھا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز نے’ مجاہدین‘ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کر کے یہ ثابت کر دیا ہےکہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے۔ |ن کے مطابق ’ فوج اور سکیورٹی فورسز کے دیگر اہلکار مجاہدین کے ساتھ جنگ سے مطمئن نہیں ہیں اس لیے وہ لڑنے سے انکار کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں مولانا فضل اللہ کے ساتھیوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو آزاد کر کے اچھا اقدام کیا ہے اور وہ بھی اس کی حمایت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد