احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | پولیس دونوں افراد کو مشتبہ قرار دے رہی ہے |
اٹھارہ اکتوبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر ہوئے بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم نے دو مشتبہ حملہ آوروں کی تصاویر جاری کی ہیں جن کے سر جائے واردات سے ملے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے کہا کہ ’تفتیشی ٹیم نے کوئی خاکے جاری نہیں کیے ہیں بلکہ دو مشکوک افراد کی تصاویر جاری کی ہیں جن کے سر دھماکوں کے مقام سے ملے تھے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ان دونوں افراد کی اب تک شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ پولیس کی جانب سے جو تصاویر جاری کی گئی ہیں ان میں ایک تصویر تو اسی شخص کی ہے جس کا اوپری دھڑ جائے واردات سے ملا تھا اور پولیس نے دھماکے کے فوری بعد اس پر خودکش حملہ آور ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ اس کے باعث دھماکے کے بعد سے بعض نجی ٹی وی چینلز پر مشتبہ بمبار کے طور پر اس کا چہرہ دکھایا جاتا رہا تھا جبکہ دوسرا چہرہ ادھورا تھا جسے مکمل کر کے اخبارات کو جاری کیا گیا ہے۔ اظہر فاروقی نے بتایا کہ تباہ شدہ چہرے کو لیبارٹری میں دوبارہ بنایا گیا ہے تاکہ اسکی شناخت میں مدد مل سکے۔ واضح رہے کہ حکومتِ سندھ پہلے ہی بم دھماکوں میں ملوث افراد کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے والے کے لیے پچاس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کر چکی ہے تاہم پولیس حکام کے مطابق اب تک انہیں کسی شخص نے کوئی اہم معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ |