BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 October, 2007, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر حملے: تفتیش داخل دفتر؟

بینظیر جلوس دھماکے
پہلی بار نہیں ہے کہ حملوں میں پولیس اہلکار کے ملوث ہونے کے بارے میں قیاس ہو رہا ہے
کراچی میں پاکستان پپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے پر اٹھارہ اکتوبر کو جو دو بم حملے ہوئے ان کے بارے میں حکومتِ سندھ نے پیشگی وارننگ دی تھی اور صدر جنرل پرویز مشرف نے ان ہی اطلاعات کی بناء پر بینظیر بھٹو کو اپنی واپسی مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی۔

اس سے پہلے حکومتِ سندھ نے بارہ مئی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹں افتخار محمد چودھری کو بھی اپنا دورۂ کراچی مؤخر کرنے کا مشورہ دیا گیا اور ان کی آمد پر خون خرابے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

کراچی کے امن وامان کے پس منظر میں دیکھا جائے تو کارساز بم دھماکوں اور گذشتہ دھماکوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ اس مرتبہ جانوں کا زیاں پہلے سے زیادہ ہوا۔ لیکن اس دفعہ بھی تفتیش کرنے والے وہی’ کہنہ مشق پولیس افسران‘ ہیں جنہوں نے پچھلے سات برس میں اس نوعیت کے متعدد واقعات کی لاحاصل تفتیش کی ہے۔

چاہے وہ شیراٹن ہوٹل کے سامنے فرانسیسی انجینیئرز کی بس پر حملہ ہو، امریکن قونصلیٹ کے سامنے گاڑی میں بم پھٹنے سے شہریوں کی ہلاکت ہو، نشتر پارک بم حملے میں سنی مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کا واقعہ ہو یا پھر شیعہ عالم علامہ حسن ترابی پر حملہ ہو۔ان سب وارداتوں کو خودکش حملے قرار دے کر اطمینان کر لیا گیا۔

اب تو کراچی میں کوئی بھی بم دھماکہ ہو، شہری قیاس آرائیاں شروع کردیتے ہیں کہ پولیس اسے بھی خودکش بم دھماکہ ثابت کر کے اس کا تانا بانا کسی جہادی تنظیم تک لے جائے گی۔

جہادی گروپ
 ان بم دھماکوں کے پیچھے بھی ایسے ہی جہادی گروپ پر شک کا اظہار کیا جا رہا ہے جس کو کراچی میں ہونے والے گزشتہ بم حملوں میں موردِ الزام ٹھہرایا گیا

بینظیر بھٹو کے قافلے پر بم دھماکوں کے پیچھے بھی ایسے ہی جہادی گروپ پر شک کا اظہار کیا جا رہا ہے جس کو کراچی میں ہونے والے گزشتہ بم حملوں میں موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔

کارساز بم دھماکوں کے بعد پولیس کو پہلے ایک سر اور پھر دوسرا بھی مل گیا۔ پولیس کے تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ان میں سے ایک شاید پولیس اہلکار ہے لیکن پولیس ریکارڈ میں تاحال کوئی پولیس اہلکار غیر حاضر نہیں دکھایا گیا ہے۔

مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ اگر کوئی پولیس والا ڈیوٹی سے غیر حاضر ہو تب بھی ریکارڈ پر حاضری مکمل ہوتی ہے۔ جبکہ ملنے والے دوسرے سر کے بارے میں اتہ پتہ معلوم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ان بم حملوں میں ایک پولیس اہلکار کے ملوث ہونے کے بارے میں قیاس ہو رہا ہے۔ اس سے قبل دوہزار چار میں کراچی میں ہی سندھ مدرسۃ الاسلام کے احاطے میں واقع حیدری مسجد میں ایک خودکش بم دھماکہ ہوا تھا جس میں تفتیش کے دوران خودکش بمبار کی شناخت ایک پولیس اہلکار کی حیثیت سے ہوئی تھی۔

ویسے تو اعلٰی پولیس حکام اس بات کی نفی کر رہے ہیں کہ کسی کو ابھی تک پوچھ گچھ کے لئے حراست میں نہیں لیا ہے تاہم چند تفتیش کاروں کے بقول سولہ افراد کو پوچھ گچھ کے لئے پولیس کے ’مہمان خانوں‘ میں رکھا گیا ہے اور ان سے ’اہم معلومات‘ حاصل کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔

 چند تفتیش کاروں کے بقول سولہ افراد کو پوچھ گچھ کے لئے پولیس کے ’مہمان خانوں‘ میں رکھا گیا ہے اور ان سے ’اہم معلومات‘ حاصل کرنے کی سعی کی جارہی ہے

پولیس کو اکثر واقعات میں عینی شاہدین کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ پولیس کے پاس واقعاتی شواہد عدالت میں جرم ثابت کرنے کے لئے ناکافی ہوتے ہیں۔ لیکن بینظیر بھٹو کے قافلے میں بم دھماکوں کے بعد جس سرعت سے واقعاتی شواہد یعنی تباہ شدہ گاڑیاں، بینظیر بھٹو کا ٹرک اور دیگر چیزوں کو ہٹایا گیا اس پر تو پولیس کی تفتیشی ٹیم بھی انگشت بدنداں ہے۔

اس سب کے باوجود حکومت کو پورا اعتماد ہے کہ تفتیشی عمل مکمل کرلیا جائے گا اور اس بارے میں کسی بیرونی ماہرانہ مدد کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔ان حالات میں کہنے والے کہتے ہیں کہ واقعات کی دھول بیٹھنے کے بعد یہ کیس بھی سابقہ کیسوں کی طرح کسی موٹی فائل میں دب جائے گا۔

’عادت بدلنا ہوگی‘
جلوس اور قواعد و ضوابط کی اہمیت
کراچیکراچی میں احتجاج
پی پی پی کا دہشت گردی کےخلاف احتجاج
قانون کیا کہتا ہے؟
کراچی دھماکوں کی ایف آئی آر پر ماہرین کی رائے
بینظیر’ویلکم بینظیر ویلکم‘
بینظیر کو مشرف کے پاکستان میں خوش آمدید
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
ایدھی سینٹراپنوں کی تلاش میں
’جہاں کل خوشی تھی وہاں آج دکھ کے سائے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد