BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 October, 2007, 00:17 GMT 05:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکوں کی ایف آئی آر پر ماہرین کی نظر

بینظیر
’بینظیر پر حملہ ہوا اس لیے وہ مقدمہ درج کرانے کا استحقاق رکھتی ہیں‘
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی جانب سے کراچی بم دھماکوں کے واقعہ کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے دی جانے والی درخواست سے یہ قانونی بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا ایک ایف آئی آر درج ہونے کی صورت میں دوسری ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے یا نہیں۔

ماہرین قانون نے بھی ایک ایف آئی آر کی موجودگی دوسری ایف آئی آر کے اندراج کے حوالے سے ملی جلی رائے کا اظہار کیا ہے۔

سابق جج جسٹس آفتاب فرخ میاں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابل دست اندازی جرم کی ایک ایف آئی آر درج ہونے کی صورت میں دوسری ایف آئی آر کے اندراج کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم ان کے بقول کسی ایف آئی آر کے جھوٹے ہونے پر اس کو منسوخ کرکے نئی ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد دوسری ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درِخواست دینے والا اس مقدمہ کا ایک اہم گواہ بن جائے گااور اس کے بیان کی روشنی میں پولیس تفتیش کرنے کی پابند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری ایف آئی آر کے اندراج کی ضرورت اس وقت محسوس کی جاتی ہے جب وقوعہ کے بارے میں متضاد موقف سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ فنی اعتبار سے ایس ایچ او کے مقدمے کا مدعی بننے پر کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے اور کراچی بم دھماکوں میں بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھ ٹرک پر سوار دیگر پارٹی قیادت کے بیانات بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور ان لوگوں کے بیانات کی روشنی میں پولیس تفتیش کرے گی۔

جسٹس(ریٹائرڈ)سید زاہد حسین بخاری کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو پر براہ راست حملہ ہوا ہے اس لیے وہ مقدمہ درج کرانے کا استحقاق رکھتی ہیں۔ ان کے بقول اگر کسی مرحلے پر بم دھماکوں کا مقدمہ کسی وجہ سے داخل دفتر کردیا جائے تو اس صورت میں بینظیر بھٹو کے پاس یہ قانونی حق ہوگا کہ وہ استغاثہ دائر کرسکیں۔

فوجداری قانون کے ماہر خواجہ حارث احمد کا موقف ہے کہ پاکستان میں پہلے یہ قانون رائج تھا کہ ایک مقدمہ کی صرف ایک ایف آئی آئی درج ہوگی اور دوسری ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ملک کی اعلیْ عدالتوں کے فیصلوں کے بعد ایک مقدمہ کی ایف آئی آر کے موجودگی میں دوسری ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضی بھٹو کے قتل کے مقدمہ کی عدالت کے حکم پر ایک سے زیادہ ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔

ان کی رائے میں کسی مقدمہ میں ایس ایچ او کو مدعی بنانے سے مقدمے کی تفتیش’ کنٹرولڈ‘ ہو جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس جب کوئی عام آدمی مقدمہ کی ایف آئی آر درج کرواتا ہے تو مدعی نہ صرف مقدمہ کی بھرپور طریقہ سے پیروی کرتا ہے بلکہ شامل تفتیش بھی رہتا ہے۔ ان کے بقول عام آدمی کو تفتیش پر اعتراض ہونے یا تفتیش درست خطوط پر نہ ہونے کی بنیاد پر اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی استحقاق حاصل ہوتا ہے۔

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
قاتلانہ حملے
پاکستان میں سیاسی حملوں کی تاریخ
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
ایدھی سینٹراپنوں کی تلاش میں
’جہاں کل خوشی تھی وہاں آج دکھ کے سائے‘
اسی بارے میں
بینظیر کی زخمیوں کی عیادت
21 October, 2007 | پاکستان
بم دھماکےاخبارات کی سرخیاں
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد