BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 October, 2007, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: دھماکوں کی تفتیش جاری

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو آٹھ سال بعد خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آئی ہیں
کراچی میں اٹھارہ اور انیس اکتوبر کی درمیانی شب سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں میں تفتیش کے دوران پولیس ملزمان کا سراغ لگانے میں اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔

دوسری جانب پولیس نے نادرا یعنی نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی سے مشتبہ خودکش بمبار کی شناخت معلوم کرنے کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔


محکمہ داخلہ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی منظور مغل نے بتایا کہ نادرا کے اہلکار جائے وقوعہ سے ملنے والے مشتبہ بمبار کی تصویر بنا کر لے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس ہر زاویہ سے تحقیقات کر رہی ہے تاہم اب تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ بہادر آباد پولیس نے تھانہ کے ایس ایچ او عابد علی شاہ کی مدعیت میں بم دھماکوں کی ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی تھی

بم دھماکے جمعرات کی شب شاہراہ فیصل پر کارساز موڑ کے قریب بینظیر بھٹو کے بلٹ پروف ٹرک کے نزدیک کیے گئے تھے، جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایک سو چونتیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق چھ مشتبہ افراد کو بم دھماکوں کی تفتیش کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے جبکہ مشتبہ خوکش حملہ آور کے چہرے کا خاکہ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ اب تک کسی گروپ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ بریگیڈئر غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سا گروپ ملوث ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ان دھماکوں کے پیچھے کسی شدت پسند گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

ڈی آئی جی منظور مغل نے بتایا کہ دھماکوں کی جگہ سے ملنے والے چند اہم شواہد پولیس نے محفوظ کر لیے ہیں جو کہ تفتیش میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، ان میں مشتبہ خودکش بمبار کا سر اور بم میں استعمال ہونے والے بال بئیرنگ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک ایک ہی سر ملا ہے اور اب تک کی تفتیش سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ بم دھماکوں میں ایک ہی خود کش حملہ آور تھا۔ تاہم انہوں نے دوسرے خود کش حملہ آور کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی کئی لاشوں کی شناخت نہیں ہوئی ہے جبکہ کچھ لاشوں کے ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول تحقیقات ابھی جاری ہیں اور وہ اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتے کہ واقعہ میں ایک حملہ آور ملوث تھا یا دو۔

سوگوار فضاء اور ہنگامے

کراچی شہر میں سنیچر کو بھی افسردگی اور سوگ کی فضاء برقرار ہے اور تمام مرکزی بازار اور دوکانیں بند ہیں جبکہ دوپہر کے بعد مختلف علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔

صدر کے علاقے میں الیکٹرونکس مارکیٹ، زینب مارکیٹ اور بوہری بازار وغیرہ میں سنیچر کی صبح دوکانیں کھلنا شروع ہوئیں، تاہم بعد میں ان دوکانداروں کی یونینوں کی جانب سے لاؤڈ سپیکرز پر دوکانیں بند رکھنے کے اعلان کے بعد کھلی ہوئی دوکانیں بھی بند کر دی گئیں۔

شہر کے مختلف علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں

ایوان تجارت و صنعت کراچی کے نائب صدر ثاقب نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو سٹاک مارکیٹ کے سوا تمام ہول سیل مارکیٹس اور بازار بند ہیں، جن میں جوڑیا بازار، سٹیل مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ، کپڑا مارکیٹ، موتن داس، پلازہ وغیرہ شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے بعد اب مارکیٹس پیر کو ہی کھلیں گی۔

دوسری جانب گلستان جوہر، گلشن اقبال، گلشن حدید، لیاری، ملیر، کیماڑی، کھارادر، میٹھادر اور دوسرے علاقوں میں بھی چھوٹے بڑے کاروباری مراکز، دوکانیں اور پٹرول پمپس بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔

سرکاری اور نجی اسکول بھی بند پڑے ہیں جبکہ دفاتر میں بھی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔

لیاری، کیماڑی، ملیر اور گڈاپ کے بعض علاقوں میں مشتعل نوجوانوں نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور نعرے بازی کی۔ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے بتایا کہ لیاری کے بعض حصوں میں مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ کی ہے جس کے بعد وہاں پولیس کا گشت بڑھادیا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ شہر میں غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور حساس علاقوں میں پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک شہر میں حالات معمول پر نہیں آجاتے حفاظتی انتظامات برقرار رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

جبکہ ہنگامہ آرائی کے بعد بسیں، ٹیکسیاں اور دوسری ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب ہوگئی ہے جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت اور اشیائے ضرورت کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

لاشوں کی شناخت

کراچی میں بینظیر بھٹو کے جلوس پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے چونتیس افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی میتیں ایدھی سنٹر لائی گئیں

اکثر افراد کی میتیں سہراب گوٹھ میں واقع رفاعی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سرد خانے پہنچائی گئی تھیں، جہاں ان کے لواحقین اور رشتے دار شناخت کے لیے آ رہے ہیں۔

ایدھی فاونڈیشن کی جانب سے ان افراد کی تصاویر کے ساتھ ایک پوسٹر تیار کیا گیا جسے شہر کے بڑے ہسپتالوں، بلاول ہاؤس اور ایدھی سرد خانے کے باہر آویزاں کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پوسٹر بننے کے بعد ان لاشوں کی شناخت میں آسانی ہوئی ہے اور اب سرد خانے پر رش بھی نہیں ہے۔ یہ تصاویر ایدھی کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکز بلاول ہاؤس کی جانب سے بھی ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تفیصلات جمع کی جارہی ہیں۔

اخباراتبے نظیر کی واپسی
بم دھماکے اور ہلاکتیں اخبارات کی شہ سرخیاں
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
ایدھی سینٹراپنوں کی تلاش میں
’جہاں کل خوشی تھی وہاں آج دکھ کے سائے‘
’عادت بدلنا ہوگی‘
جلوس اور قواعد و ضوابط کی اہمیت
بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
نواب شاہ میں ہلاک ہونیوالے’جمہوریت کے لئے‘
قتل کا مقدمہ درج ہوا نا کوئی یادگار تعمیر ہوئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد