BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 October, 2007, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بمبار کا ہدف بینظیر تھیں:حکومت

سیکرٹری داخلہ غلام محمد محترم اور اظہر فاروقی سی سی پی او
تمام خدشات سے پاکستان پیپلزپارٹی کو آگاہ کیا گیا تھا:غلام محمد محترم
سندھ کے سیکرٹری داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ غلام محمد محترم نے کہا ہے کہ خودکش بمبار کا ہدف بینظیر بھٹو تھیں اور دھماکہ ان کے ٹرک سے صرف دس فٹ دور ہوا۔

کراچی میں جمعہ کے روز پولیس افسران کے ساتھ ایک پریس بریفنگ میں سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ خودکش بمبار نے ایک اندازے کے مطابق پندرہ کلو وزنی دھماکہ خیز مادہ کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی، جس میں بال بیئرنگ اور پیچ بھرے ہوئے تھے جن کا نشانہ ہلاک شدگان اور زخمی بنے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے روسی ساخت کا دستی بم پھینکا گیا جس کے بعد خودکش بمبار نے حملہ کیا تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا دستی بم خودکش بمبار نے پھینکا یا کسی اور نے۔غلام محمد محترم کا کہنا تھا کہ پولیس کی موبائل گاڑی خودکش بمبار اور بینظیر بھٹو کے ٹرک کے بیچ میں آ گئی تھی جس وجہ سے ٹرک کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سکیورٹی کے جو انتظامات مانگےگئے تھے وہ کیے گئے اور سترہ اکتوبر کو انہوں نے ’جیمر‘ لگانے کو کہا تو اس کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تمام خدشات سے پاکستان پیپلزپارٹی کو آگاہ کیا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ مغرب سے پہلے جلسہ گاہ پہنچ جائیں کیونکہ رات کو سکیورٹی کی فراہمی میں مسائل پیش آسکتے ہیں مگر انہوں نے ان کی بات نہیں مانی۔

ہلاک شدگان اور زخمی خود کش بمبار کی جیکٹ میں بھرے بال بیئرنگ اور پیچوں کا نشانہ بنے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم کو جو سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ سکیورٹی بینظیر بھٹو کو فراہم کی گئی تھی۔

غلام محمد محترم نے کہا کہ آج کل یہ رواج ہوگیا ہے کہ اگر کتا بھی مرجاتا ہے تو ایجنسیوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ کیا ہم اپنے لوگوں کو ماریں گے‘۔

انہوں نے بتایا کہ خودکش بمبار کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے اور اس کی تصاویر بنا کر جاری کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے پچاس لاکھ رپے انعام رکھا گیا ہے جبکہ ہلاک شدگان کے ورثاء کو بھی معاوضہ دیا جائےگا۔

اس سوال پر کہ اس کارروائی میں کون سا گروہ ملوث ہو سکتا ہے سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ یہ فی الحال نہیں بتایا جا سکتا مگر اس میں بیت اللہ محسود اور طالبان بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
کراچی: دھماکوں میں 130 ہلاک
19 October, 2007 | پاکستان
بم دھماکےاخبارات کی سرخیاں
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد