ضیاء کی باقیات ذمہ دار ہیں: بینظیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو نے سابق فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق کے حامیوں کو اپنے استقبالیہ جلوس میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ جمعرات کو آٹھ سالہ جلاوطنی ختم کر کے وطن لوٹنے والی سابق وزیراعظم کے استقبالی جلوس میں ہونے والے دو طاقتور بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 130 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دھماکوں کے بعد ایک فرانسیسی جریدے کو انٹرویو میں بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی شک نہیں کہ جنرل ضیاء کی باقیات اس حملے میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو جنرل ضیاء کے ساتھی تھے اور ان کے بعد بھی طاقتور رہے ان(بینظیر) کی پاکستان واپسی اور جمہوریت کی بحالی کو کوششوں کو اپنے اثر و رسوخ کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو رد نہیں کیا کہ انتہاپسند اسلامی قوتیں اس دھماکے کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسی قوتوں کے لیے اس قسم کے حملے کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک انہیں حکومت میں موجود طاقتور افراد کی مدد حاصل نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اب انہیں خطرہ ہے کہ جب بھی وہ کوئی جلسہ کرنے کا اعلان کریں گی حکومت خودکش حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر اسے’رسک‘ قرار دے دے گی۔ یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فوجی افسروں کو جلوس میں ہونے والے دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شدت پسندوں کو خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ ’ان کے پیچھے موجود ان لوگوں کو پاور سمجھتے ہیں جو انہیں کٹھ پتلیوں کی طرح چلا رہے ہیں اور ان میں کچھ سابق آرمی آفیسر ہیں اور کچھ حاضر انٹیلیجنس آفیسر ہیں۔ میں انہیں اس کا الزام دیتا ہوں‘۔ |
اسی بارے میں اندرونِ سندھ ہڑتال اور احتجاج19 October, 2007 | پاکستان بم دھماکےاخبارات کی سرخیاں19 October, 2007 | پاکستان عالمی رہنماؤں کا بینظیر سے رابطہ19 October, 2007 | پاکستان کراچی دھماکوں کی وسیع تر مذمت 18 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||