کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ سالہ جلاوطنی ختم کر کے وطن لوٹنے والی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس میں ہونے والے دو طاقتور بم دھماکوں کے نتیجے میں ہونیوالی ہلاکتوں کی تعداد اب کم از کم ایک سو چونتیس جبکہ زخمی افراد کی تعداد ساڑھے چار سو بتائی جا رہی ہے۔ ہنگامی خدمات سرانجام دینے والے فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اب تک دھماکوں کا شکار ایک سو پچاس افراد کی لاشیں رکھوائی جا چکی ہیں۔ تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ ہلاک ہونیوالوں کی تعداد ایک سو اڑتیس بتا رہے ہیں۔ عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق ملک بھر سے ہے اور ان کی شناخت اور لاشیں لینے کے لیے دور دور سے لوگ سرد خانے پہنچ رہے ہیں۔ اکتیس لاشیں ورثاء کے حوالے کی جا چکی ہیں جبکہ ایک سو انیس لاشیں سرد خانے میں موجود ہیں۔
شہر کراچی جو جمعرات کو بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر دلہن کی طرح سجا ہوا تھا اب ویرانی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ بازاروں میں خلاف معمول کوئی گہما گہمی نہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں نے لیاری اور گولیمار کے علاقوں میں پتھراؤ کیا ہے اور وہاں حالات کافی کشیدہ بتائے جا رہے ہیں جبکہ سپر ہائی وے پر ایک پٹرول پمپ اور لیاری میں ایک گاڑی کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ مشتعل افراد کی جانب سے سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف نعرے بازی اور رد عمل کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے رات کو ہی اعلان کر دیا تھا کہ جمعہ کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ دھماکے کے بعد صوبائی حکومت نے کراچی کے علاوہ سندھ کے بیشتر اہم شہروں حیدرآباد، لاڑکانہ، میر پور خاص اور نواب شاہ وغیرہ کے تعلیمی اداروں میں بھی چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی اس سانحے پر تین روزہ سوگ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بینظیر بھٹو کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس کے باہر اور اردگرد کی عمارتوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اس کے علاوہ شہر کی دیگر اہم سرکاری عمارتوں، سفارت کاروں کی رہائش گاہوں اور قونصل خانوں پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے محکموں پولیس، رینجرز اور خفیہ اداروں کے اہلکار دھماکے کی جگہ پر موجود ہیں اور ممکنہ شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دھماکے کی جگہ پر لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہیں، جہاں خون کے لوتھڑے، پھٹے اور جلے ہوئے کپڑے، پیپلز پارٹی کے جھنڈے، جوتے، ٹوپیاں اور دیگر سامان بکھرا پڑا ہے۔ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنماء جس بلٹ پروف ٹرک پر سوار تھے وہ ابھی تک دھماکے کی جگہ پر موجود ہے۔ دھماکے میں اس ٹرک کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے ٹائر پھٹ چکے ہیں، ونڈ سکرین، بائیں طرف کا دروازہ اور شیشہ ٹوٹ چکے ہیں اور ٹرک کی بائیں جانب چھوٹے چھوٹے سینکڑوں سوراخ دیکھے جا سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے ٹرک کو کرین کی مدد سے بیچ سڑک سے ہٹا کر ایک طرف رکھ دیا تھا۔ کراچی پولیس نے دھماکے کو ایک خود کش حملہ قرار دیا ہے۔ کراچی کے سٹی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کے مطابق پہلے جلوس میں شریک لوگوں پر ایک گرینیڈ پھینکا گیا اور پھر ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔
وزیرِ داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دہشت گردی کا نشانہ بینظیر بھٹو تھیں۔ ہمارے نامہ نگار عباس نقوی نے بتایا ہے کہ سپرنٹینڈنٹ پولیس (سی آئی ڈی) راجہ عمر خطاب نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریلی پر حملہ ایک خود کش حملہ تھا اور پولیس کو خود کش حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔ دھماکے کے وقت بینظیر بھٹو ٹرک کے عرشے سے اتر کر نیچے ٹرک میں بنائے گئے خصوصی کمرے میں آرام کرنے گئی تھیں۔ انہیں فوراً وہاں سے اتار کر محفوظ مقام پر پہنچایا گیا جبکہ جلسہ گاہ کا کنٹرول رینجرز نے سنبھال لیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ بینظیر بھٹو محفوظ ہیں۔ مزار قائد کے علاقے کو جہاں بےنظیر کو ایک استقبالیہ جلسے سے خطاب کرنا تھا، خالی کرادیا گیا ہے۔ بعد میں بینظیر بھٹو کو محفوظ طریقے سے بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ اس سے قبل طالبان نے بےنظیر بھٹو پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے کمانڈر حاجی عمر نے کہا تھا کہ بے نظیر بھٹو امریکہ کے کہنے پر پاکستان آ رہی ہیں تاکہ وہ ’مجاہدین‘ کے خلاف کارروائیاں کرسکیں لیکن اگر انہوں نے ایسے کیا تو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرح ان پر بھی حملے کیے جا سکتے ہیں۔ بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے حاجی عمر نے بتایا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ بینظیر بھٹو خود اپنی مرضی سے پاکستان نہیں آ رہیں بلکہ امریکہ کے کہنے پر آ رہیں ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں بھی کافی وقت گزارا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اگر جنرل مشرف کی حکومت ہو یا بعد میں بےنظیر بھٹو کی حکومت بنتی ہے، ہماری جنگ تو دونوں کے خلاف جاری رہے گی۔‘ ایک سوال کے جواب میں حاجی عمر نے بتایا کہ بےنظیر بھٹو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرانے میں امریکہ کی کیا مدد کرینگی کیونکہ خود امریکہ اور پاکستان گزشتہ چھ سال سے اسامہ بن لادن کا پتہ نہیں لگا سکے ہیں اور جس سے اب یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اسامہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔
|
اسی بارے میں بینظیر کا جلوس، جیالوں کا جوش خروش18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی سکیورٹی کا مسئلہ 18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کا جلوس مزارِ قائد کی جانب رواں دواں18 October, 2007 | پاکستان بینظیر: دو بجے تک کراچی آمدمتوقع18 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی آمد، ٹرانسپورٹ غائب18 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||