اپنوں کی تلاش میں بھٹکتے لوگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ شب بینظیر بھٹو کی ریلی میں ہونے والے دھماکوں کے بعد کراچی کے ہسپتالوں اور رفاحی ادارے ایدھی کے سرد خانے میں جمعہ کو بھی لوگوں کا تانتا بندھا رہا۔ لاپتہ افراد کے لواحقین جناح اور لیاقت نیشنل ہسپتال میں لگائی گئی ان فہرستوں پر نظریں دوڑاتے رہے جن میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے نام درج تھے اور یہاں اپنوں کا نام نہ ملنے پر یہ لوگ دوسرے ہسپتال کی جانب نکل جاتے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں والوں میں کراچی سے باہر کے لوگ بھی شامل ہیں جو جلوس کے ساتھ یا ریلیوں کی صورت میں کراچی آئے تھے اور اس دہشتگردی کا شکار ہوگئے۔ جناح ہسپتال میں پریشان حال حسن علی کے بھائی کا کہنا تھا کہ وہ جمعرات کی شب سے بھائی کو تلاش کر رہے ہیں مگر ان کا کوئی پتہ نہیں چل رہا اور وہ جناح، لیاقت نیشنل، سول اور آغا خان ہسپتال کے چکر لگا چکے ہیں۔ گلگت بلتستان کے جعفر حسین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جو لوگ آئے تھے ان میں کچھ ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تو کراچی میں کوئی رشتہ دار بھی نہیں اور حکومت اور پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ علاج اور میتیں پہنچانے میں مدد کریں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگی ہوئی تمام گاڑیوں کا رخ کل ایئرپورٹ اور مزار قائد کی طرف تھا مگر آج ان میں سے کئی گاڑیاں جناح اور نیشنل ہسپتال کے علاوہ سہراب گوٹھ پر واقع ایدھی کے سرد خانے کا چکر لگاتی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ ایدھی سینٹر کے باہر چیخ پکار اور آہوں اور سسکیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ لاشوں کی شناخت کے لیے آئے ہوئے شبیر احمد نے اپنی ساتھی شوکت علی کی شناخت کی۔ شبیر احمد نے بتایا کہ شوکت مزدور تھا اور بینظیر بھٹو کے چاہنے والوں میں سے تھا اور وہ ان کے ٹرک کے ساتھ چل رہا تھا جب یہ دھماکہ ہوا۔ نوابشاھ کے عبداکریم اپنے ساتھی اللہ دتہ زرداری کی لاش پہچاننے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ اللہ دتہ زرداری جلوس میں پیدل چل رہے تھے کہ دھماکہ ہوا۔ وہ شادی شدہ اور نوابشاہ کے زمیندار تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں معروف شاپنگ ایریا طارق روڈ کے دو بھائی مرزا طارق بیگ اور ساجد بیگ بھی شامل تھے۔ ان کے دوستوں نے بتایا وہ پیپلز پارٹی کے حمایتی تھے اور بینظیر بھٹو کو دیکھنے کے لیے گئے تھے۔
سرد خانے میں لائی گئی کئی لاش مسخ تھیں اور ایدھی فاؤنڈیشن کے رضوان ایدھی کا کہنا تھا کہ ساٹھ کے قریب لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد شاہراہ فیصل پر اتنا خون تھا کہ ایمبولینس کے ٹائر بھی سلپ ہو رہے تھے۔ رضوان ایدھی نے بتایا کہ ہلاک شدہ نامعلوم افراد کی تصاویر اتار لی گئی ہیں جو شہر کے بڑے ہسپتالوں میں لگائی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے ۔ جن جیالوں کی آنکھوں میں کل تک خوشی کی چمک تھی وہاں آج دکھ اور سوگ عیاں تھا اور جن گاڑیوں میں گزشتہ دو دنوں سے موسیقی گونج رہی تھی آج ان پر موت کی سی خاموشی طاری تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||