اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
| | خود کش حملے کے بعد بینظیر بھٹو کو ٹرک سے باہر نکالا جا رہا ہے |
پاکستان پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئر پرسن اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ ان کے استقبالی قافلے پر ہونیوالے حملے کے باوجود ان کی آمد سے شروع ہونے والا سیاسی عمل جاری رہے گا۔ بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ انہوں نے سولہ اکتوبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ’اگر مجھے کچھ نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری تین حکومتی شخصیات پر عائد ہوگی۔‘ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کے استقبالی قافلے کو بزدلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بیسیوں معصوم لوگ ہلاک ہوئے۔بینظیر بھٹو کے مطابق ایک دوست ملک سے معلومات حاصل ہوئی تھیں کہ خودکش حملہ آوروں کا ایک گروپ انہیں ہدف بنانے کی کوشش کرے گا۔ ’لیکن میں نے جنرل مشرف کو لکھے گئے خط میں واضح کیا تھا کہ میں القاعدہ اور طالبان کا نام نہیں لونگی۔‘ واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ دھماکوں سے پہلے شاہراہ فیصل پر سٹریٹ لائٹس کیوں بند تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکوں سے نصف گھنٹہ پہلے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایک ایسے مشتبہ شخص کو پولیس کے حوالے کیا تھا جس نے بارودی بیلٹ باندھ رکھی تھی۔ بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت ان کے ٹرک پر فائرنگ بھی کی گئی، جس کا مقصد غالباً ٹرک کو روکنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حفاظت پر مامور غیر مسلح سکیورٹی گارڈ خودکش حملہ آور کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن سٹریٹ لائٹس بند ہونے کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر پائے۔’لیکن جانثارانِ بینظیر نے جان پر کھیلتے ہوئے کسی مشتبہ شخص کو حفاظتی حصار توڑنے کی اجازت نہ دی۔‘ بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ خود کش حملے کا نشانہ وہ ہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ٹرک پر سوار تین لوگ دھماکے سے ہلاک بھی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں دنیا بھر سے افسوس اور یکجہتی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ |