BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 October, 2007, 19:23 GMT 00:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی دھماکے:’تین افراد زیرِ حراست‘
بینظیر بھٹو
دھماکوں کے بعد بینظیر بھٹو کو خصوصی طور پر تیار کیے گئے ٹرک سے اتارا جا رہا ہے
کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں دھماکوں کے حوالے سے پولیس تین افراد کو حراست میں لیا ہے اور پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں ایک سو انتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو ہونے والے دھماکوں کی ایک الگ ایف آئی آر درج کرائیں گے۔

خبر رساں اداروں، اے ایف پی اور اے پی کے مطابق پولیس کا خیال ہے کہ ان افراد کا تعلق اس گاڑی سے ہے جس کے بارے میں پولیس کا خیال ہے کہ اس سے جلوس پر دستی بم پھینکا گیا تھا۔ یہ دستی بم خود کش حملے سے چند لمحے قبل پھینکا گیا تھا۔

اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اس علاوہ پولیس نے جیل میں بھی سات افراد سے تفتیش کی ہے۔ ان افراد کا تعلق شدت پسندوں سے بتایا جاتا ہے۔ خبر رساں اداراوں کو معاملے کی نزاکت کے باعث نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر تحقیق کرنے والے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ جن تین افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے انہیں پنجاب کے جنوبی علاقوں سے حراست میں لے کر کراچی منتقل کیا گیا ہے اور پولیس کو ان سے کوئی سراغ ملنے کی توقع ہے۔

ان لوگوں کا تعلق بھی اس مشکوک گاڑی سے بتایا جاتا ہے جس سےجمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس پر دستی بم پھینکےگئے تھے۔

دوسری جانب کراچی پولیس کے افسر تعلقاتِ عامہ نے ڈی آئی جی پولیس انویسٹیگیشن کراچی منظور مغل کے حوالے سے اے ایف پی اور اے پی کی جاری کردہ خبروں کی تردید کی ہے۔

بی بی سی اردو کے نمائندے ارمان صابر کے مطابق اس سے قبل محکمۂ داخلہ کی جانب سے بم دھماکوں کے واقعہ کی تحقیقات کرنے کے لیے تشکیل دی جانے والی خصوصی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی منظور مغل نے کہا تھا کہ پولیس تفتیش ہر زاویہ سے کررہی ہے اور اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس کوئی جادوئی چراغ نہیں ہے کہ میں آج ہی بتادوں کہ تفتیش کا کیا نتیجہ نکلا ہے‘۔

منظور مغل کا کہنا تھا کہ واقعہ میں بظاہر ہائی ایکسپلوسو استعمال ہوا ہے تاہم دھماکہ خیز مواد کے نمونے ٹیسٹ کرانے کے لیے بھیجے گئے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ کس قسم کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے مشتبہ خودکش بمبار کی شناخت معلوم کرنے کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کی مدد حاصل کی ہےاور ’نادرا‘ کو تصویر بھی مہیا کر دی گئی ہے تاہم منظور مغل کے بقول اب تک شناخت نہیں ہو سکی-

اس سوال کے جواب میں کہ پپلزپارٹی کے کارکنوں نے دو مشتبہ افراد کو جائے وقوعہ سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا انہوں نے کہا کہ وہ متعلقہ پولیس سے اس بابت معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

اخباراتبے نظیر کی واپسی
بم دھماکے اور ہلاکتیں اخبارات کی شہ سرخیاں
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
ایدھی سینٹراپنوں کی تلاش میں
’جہاں کل خوشی تھی وہاں آج دکھ کے سائے‘
’عادت بدلنا ہوگی‘
جلوس اور قواعد و ضوابط کی اہمیت
بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
نواب شاہ میں ہلاک ہونیوالے’جمہوریت کے لئے‘
قتل کا مقدمہ درج ہوا نا کوئی یادگار تعمیر ہوئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد