اہم شخصیات پر حملوں کی تاریخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قیام کے ساٹھ برسوں میں تین صدور اور تین وزراء اعظم سمیت اہم سیاسی شخصیات پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ ان قاتلانہ حملوں میں ایک صدر اور ایک وزیراعظم ہلاک ہوئے جبکہ دیگر بال بال بچ گئے۔ قیام پاکستان کے بعد چار برس بعد ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم کو قتل کردیا گیا۔ لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر سنہ انیس سو اکیاون میں اس وقت گولی مار کرکے ہلا ک کیا گیا جب وہ راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ صدر جنرل ایوب خان ملک کے پہلے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ صدر جنرل ایوب پر آٹھ نومبر سنہ انیس سو اڑسٹھ میں پشاور یونیورسٹی میں خطاب کے دوران فائرنگ کرکے ان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تاہم صدر ایوب اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔ صدر جنرل ضیاء الحق پاکستان کے دوسرے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملے ہوئے تاہم ان کی ہلاکت سترہ اگست سنہ انیس سو اٹھاسی میں فوجی طیارے کی تباہی سے ہوئی۔ اس حادثہ سے صدر جنرل ضیاء الحق کے علاوہ اعلیْ فوجی افسر اور پاکستان میں امریکہ کے سفیر بھی ہلاک ہوگئے۔
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضی بھٹو بھی اپنی بہن کے دورے حکومت میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔ میر مرتضیٰ بھٹو بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو اپنے سات ساتھیوں سمیت پولیس فائرنگ سے اپنے آبائی اقامت گاہ سترہ کلفٹن کے باہر ہلاک ہوئے تھے۔ نواز شریف ملک کے دوسرے وزیر اعظم تھے جن پر اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں واقع اپنے فارم پر جارہے تھے اور ان کے راستے میں ایک پل کے نیچے رکھا گیا بم ان کی گاڑی گزرنے کے بعد پھٹا اور اس طرح نواز شریف محفوظ رہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر سنہ دوہزار تین میں یکے بعد دیگرے دو انتہائی خطرناک حملے ہوئے۔ تاہم صدر مشرف معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ صدر جنرل مشرف پر پہلا حملہ چودہ دسمبر سنہ دو ہزار تین کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا تھا لیکن صدر کے قافلے کی گاڑیوں میں نصب شدہ ’سگنل سینسرنگ‘ آلات کی وجہ یہ بم اس وقت نہیں پھٹ سکا تھا جب گاڑیاں پل سے گزر رہی تھیں۔ اس واقعہ کے دس دنوں بعد صدر مشرف پرپچیس دسمبر کو دوسرا حملہ کیا گیا اور ان کو خودکش حملہ کے ذریعےہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف کے قافلے پر اس خطرناک خود کش حملے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ صدر مشرف کے قافلے پر دو مختلف اوقات پر دو گاڑیوں سے حملہ کیا گیا۔ یہ گاڑیاں دو پیٹرول سٹیشنوں سے باہر نکلی تھیں۔ اس حملے میں صدر مشرف بال بال بچ گئے۔ وزیر اعظم شوکت عزیز پر بھی تیس جولائی سنہ دو ہزار چار میں ان کی انتخابی مہم کے دوران ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ تاہم اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔
شوکت عزیز اٹک میں اپنی انتخابی مہم کے دوران فتح جنگ کے قریب ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر کے باہر آ رہے تھے کہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر ان کی گاڑی کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری بھی اس سال سترہ جولائی کی شام اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے دھماکے میں بال بال بچے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری اپنی معطلی کے دوران ایک جلوس کی شکل میں وکلا کنونشن میں خطاب کے لیے آرہے تھے اور ان کا قافلہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر تھا جب پنڈال میں بم دھماکا ہوا۔ اس دھماکے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور اسی کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کے کارکن بھی شامل تھے۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی اٹھارہ اکتوبر کو آٹھ برسوں کی جلاوطنی کے بعد ملک میں واپسی پر ان کے استقبالیہ جلوس میں خودکش حملے میں ایک سوانتالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ بینظیر بھٹو کے ٹرک سے کچھ فاصلے پر ہوئے۔ تاہم بینظیر بھٹو اس انتہائی خطرناک حملے میں محفوظ رہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||