کراچی حملے، سپریم کورٹ کا نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اٹھارہ اور انیس اکتوبر کی درمیانی شب کو کراچی میں بینظیر بھٹو کے خیر مقدمی جلوس پر حملوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سماعت یکم نومبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ یہ حملے انتہائی سنگین نوعیت اور دور رس نتائج کے حامل ہیں۔ ’خونی دھماکوں کو ایک ہفتہ گزر گیا لیکن ابھی تک کوئی عندیہ نہیں ملا ہے کہ اس کی وجوہات اور ملوث افراد کے بارے میں کچھ معلوم ہوا ہے یا نہیں۔ از خود نوٹس لینا اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس سنگین جرم کے ذمہ داران کو سزا دی جاسکے۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے مطابق اٹھارہ اور انیس اکتوبر کی رات کو دو خوفناک دھماکوں میں ایک سو تیس کے قریب لوگ ہلاک اور چار سو دیگر زخمی ہوگئے۔ ’ملک پہلے ہی خود کش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کی گرفت میں ہے اور ایسے میں یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک اور دہشت ناک واقعہ ہے، جس میں ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی ساری قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق اس واقعہ نے پوری قوم کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کاروباری ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور عالمی برادری میں بھی پاکستان کے تاثر کو متاثر کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی پاکستان میں مستقبل کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی اثرات ہوں گے اور وہ بھی اس وقت جب عام انتخابات سر پر ہیں۔ ایسے میں اس طرح کے خوفناک واقعات سے عوام میں خوف اور سیاسی عمل میں عدم دلچسپی پیدا ہوگی اور وہ آزادانہ طریقے سے سیاسی عمل میں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر پائیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بم دھماکوں کی تحقیقات پر پیپلز پارٹی نے نہ صرف سخت تحفظات ظاہر کیے ہیں بلکہ تحقیقاتی اداروں کی استطاعت کے بارے میں بھی شبہہ ظاہر کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ترجمان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی برادری نے بھی اس واقعہ کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے ہیں، یورپ کے بڑے رہنماؤں بشمول جرمن چانسلر، برطانوی وزیراعظم، امریکہ اور بھارت کی حکومتوں نے بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرار داد میں اس سفاکی کی مذمت کی ہے اور تمام ریاستوں کو ہدایت کی ہے کہ تحقیقات میں مدد کے لیے ممکنہ تعاون فراہم کریں۔‘ ’لہٰذا اس معاملے کا آئین کی شق 184 کی ذیلی شق تین کے تحت ازخود کارروائی کرتے ہوئے نوٹس لیا جاتا ہے تاکہ قوم کا نظام حکومت پر اعتماد بحال ہوسکے۔‘ ادھر کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ بینظیر بھٹو کے جلوس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد کی ہلاکت کا مقدمہ دائر نہ کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ یہ درخواست پیپلز لائرزم فورم کے رہنما شہادت اعوان نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کا مقدمہ ان کی مرضی سے دائر کیا جائے، کیونکہ واقعے کے بعد وہ ہلاک ہونے والے کارکنوں اور زخمیوں کو اٹھانے میں مصروف تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو یا کسی سینئر رہنما سے رابطہ کرنا چاہیئے تھا مگر انہوں نے اپنے موقف کے تحت ایف آئی آر درج کرلی۔ شہادت اعوان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کا کہنا ہے کہ متاثر فریق کے موقف کے تحت ایف آئی آر درج ہونی چاہیئے، اس لیے وہ ماتحت عدالت میں آئے ہیں ۔ ایک ہفتے تک انتظار کرنے کے باوجود ایف آئی آر دائر نہیں کی گئی۔ عدالت نے پبلک پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کیا ہے اور ایس ایچ او بہادر آباد کو رکارڈ سمیت جمعرات کو طلب کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||