اٹھارہ اکتوبر: کراچی کی زندگی پر اثرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور صنعتی شہر کراچی ہے جہاں ایک ہفتہ قبل سڑکوں پر دہشت اور سوگ کے سائےتھے۔ لوگ ڈر کے مارے سہم کر گھروں تک محدود ہوگئے تھے، مگر آج یہاں زندگی معمول پر آگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر حملے اور ایک سو چالیس افراد کی ہلاکت کے واقعے سے پہلے یہاں نشتر پارک بم دھماکے اور بارہ مئی جیسے بڑے واقعات رونما ہوئے، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تب بھی یہ شہر ایک ہفتے تک دہشت زدہ ہوکر سہم گیا تھا لیکن ایک ہفتے کے بعد سڑکوں پر زندگی دوڑنے لگی تھی۔ کاروباری حضرات کو شکایت ہے کہ انہیں کروڑوں کا نقصان ہوا۔ لیکن اس نقصان سے کہیں زیادہ سماجی اور نفسیاتی نقصانات ہیں جس کا کوئی حساب ہی نہیں۔ نامور ماہر نفسیات ڈاکٹر ہارون احمد کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں، دہشتگردی اور خوں ریزی کے تمام واقعات کے لوگوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اٹھارہ اکتوبر کے واقعے کے اثرات کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک ستر سالہ خاتون کو لایا گیا جنہیں ڈپریشن اور بے خوابی کی شکایت تھی ان کے رویہ میں بھی چڑ چڑا پن آگیا تھا۔ ڈاکٹر ہارون کے پوچھنے پر خاتون نے بتایا کہ انہوں نے اٹھارہ اکتوبر کا واقعہ ٹی وی پر دیکھا تھا۔ وہ پھٹ پڑیں اور کہا کہ بڑا ظلم ہوا ہے، مجھے اپنا بیٹا یاد آگیا جس کا ایک سال قبل حادثہ میں انتقال ہو گیا تھا اب مجھ ایک سو پچاس بیٹوں کا غم کھائے جارہا ہے۔ انہوں نے ایسے ہی ایک متاثرہ نوجوان کا واقعہ بتایا کہ پندرہ سولہ سال کا ایک لڑکا ہے جو اسکول نہیں جاتا وہ کہتا ہے کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے میرے اسکول کے برابر میں ایک بم رکھا ہوا ہے اور اچانک پھٹ جائیگا اگر میں مان بھی لوں کے وہاں بم نہیں ہے تب بھی جب میں باہر نکلوں گا تو کہیں نہ کہیں یہ بم پھٹ جائیگا۔‘ ڈاکٹر ہارون بتاتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ ان کے ذہنوں پر سوار ہوجاتا ہے۔
کراچی میں گزشتہ ایک دہائی سے بم دھماکوں اور خون ریزی کے واقعات اور عدم تحفظ کے احساس سے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ہارون اپنے مشاہدے کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’نوجوانوں کا حافظہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اس سے قبل اسکول کے بچے ضرور یہ کہتے تھے کہ پڑھتے ہیں بھول جاتے ہیں، اب نوجوانوں میں یہ شکایت عام ہے یہ ڈمینشیا جو ساٹھ ستر سال کی عمر میں ہوتا ہے مگر یہ وہ چیز نہیں ہے یہ ڈر اورخوف ہے اسے ہم نے اپنے اندر دبا دیا ہے، بظاہر بہادری کے ساتھ آ جا رہے ہیں مگر یہ ڈر اورخوف یادداشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب بہت ساری پریشانیاں لاشعور میں چل رہے ہوں تو وہ صحیح طور پر ریکارڈ نہیں ہوتیں، اور جب اسے پلے کرتے ہیں تو صحیح پلے نہیں ہوتی اور بھول جاتے ہیں۔‘ واقعہ چھوٹا ہو یا بڑا انتظامیہ نظر ہی نہیں آتی۔ لوگ اپنا تحفظ آپ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ کراچی میں شہری حقوق اور شہری منصوبہ بندی کے سرکردہ کارکن عارف حسن کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہوا مگر ہر تخریب کاری اور خونریزی کے واقعات کے بعد عدم تحفظ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ہر کوئی پریشان رہتا ہے کہ میرا بچہ، میرا خاوند، میری بیوی، بچی گھر سے باہر گئے ہیں، پتہ نہیں وہ واپس آئیں گے یا نہیں؟ کوئی دشواری تو نہیں ہوگی؟ کراچی میں موبائیل ٹیلیفون کی اتنی خریداری ہوئی ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے سے رابطہ قائم رہے سکے۔ عارف حسن شہر میں مختلف معاملات پر سروے بھی کرتے رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سروے میں اس سے قبل جو اہم مسئلہ بیان کیا جاتا تھا وہ بیروزگاری اور رہائش کا تھا۔ سکیورٹی کا تو کوئی ذکر ہی نہیں کرتا تھا، مگر اب آپ کوئی بھی سروے کریں اس میں سکیورٹی سب سے اہم اشو کے طور پر سامنے آتا ہے۔ کراچی میں کبھی لسانی بنیادوں پر تو کبھی فرقے کے بنیاد پر تو کبھی سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر لاشیں گرائی گئی ہیں۔ خون ریزی اور بد امنی کے واقعات نے شہریوں کے سماجی اور ثقافتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ عارف حسن کا کہنا ہے کہ خوں ریزی کے ان واقعات سے بہت بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ محلے اور محلے داری ختم ہوگئی ہے، بچوں کی اجتماعی تفریح ختم ہوگئی ہے۔ جب یہ بچے ایک ساتھ گلیوں میں کھیلیں گے تو ماں باپ کا بھی اس سے رشتہ جڑے گا جب بچے ہی ساتھ نہیں کھلیں گے تو یہ رشتہ کیسے پیدا ہوگا؟ ان کا کہنا ہے کہ درمیانی آمدن کے علاقوں سے ڈیفینس سوسائٹی کی طرف جو نقل مکانی ہوئی ہے، اس کی بھی بڑی وجہ سکیورٹی ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس پیسہ تھا وہ اپنے پرانے محلے چھوڑ کر وہاں چلے گئے کیونکہ وہاں پولیس کی سکیورٹی زیادہ ہے۔ جب عدم تحفظ کا احساس بڑھےگا تو محکومیت کا احساس بھی بڑھےگا۔ کراچی کے سابق میئر نعمت اللہ خان کہتے ہیں کہ یہ سارے واقعات انسان کی فطرت پر اثرانداز ہو رہے ہیں، کوئی انسان کس قدر اس کا اثر قبول کرتا ہے اور کس قدر خود کو ٹھیک رکھتا ہے اس کا دارو مدار اس شخص پر ہے۔ ہلاکتوں کےکسی بھی واقعے کے ہفتے بعد ہی کراچی کی صورتحال معمول پر آنے کے بارے میں نعمت اللہ خان بتاتے ہیں کہ ماں کا اگر بیٹا مر جائے تو اس کو دفن کرکے آتے ہیں، تدفین سے پہلے اس کی حالت ایک ہوتی ہے ایک ہفتے کے بعد کچھ اور، ایک ماہ بعد کچھ اور ہوجاتی ہے۔اللہ تعالی نے انسان کے ذہن میں یہ قوت عطا کی ہے کہ وہ زیادہ چیزوں کو ذہن پر سوار نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے لوگوں میں عدم تحفط کا احساس بہت بڑا ہے۔ جس ملک کے اندر سب سے بڑی پارٹی کی چیئرپرسن پر کھلے عام اتنا بڑا حملہ ہوجائے، اگرچہ وہ خوش قسمتی سے بچ گئیں لیکن ایک لحاظ سے جو نشتر پارک میں ہوا وہ یہاں بھی ہوا۔ ملک کے صدر پر حملے ہوں، تو اس سے لوگوں میں عدم تحفط کا احساس تو ہوگا۔ کراچی میں مختلف گروہوں کے مفادات بڑھ گئے ہیں، ان مفادات کے آپس میں ٹکراؤ اور گروہوں کے آپس میں نت نئے روابط اور صف بندیوں نے صورتحال کو کشیدگی کی طرف دہکیل دیا ہے۔ روشنیوں کے شہر میں اب اندھیرہ اور سائے بڑہ رہے ہیں قانون اور ضابطہ شاید ہی کہیں نظر نہیں آتا ہو اور ہمدردی اور رواداری کا قحط سنگیں ہو چلا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||