BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 19:47 GMT 00:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بینظیر بھٹو کو قتل کی دھمکیاں‘

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو کو اس خط کے متن سے آگاہ کردیا گیا ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئر پرسن بینظیر بھٹو کے وکیل فاروق نائیک کو ایک خط ملا ہے جس میں بینظیر بھٹو کو قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں جس کے بعد اس حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جو خط ملا ہے اسے بھیجنے والے نے اپنا پتہ اور نام ظاہر نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خط میں بینظیر بھٹو کے بارے میں نازیبا الفاظ لکھے ہوئے ہیں اور انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

انہوں نے خط کے متن کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’خط میں لکھا ہے کہ بینظیر بھٹو کو وزیرِاعظم نہیں بننے دیا جائے گا، ان کو قتل کردیا جائے گا، جیسے ان کے جاں نثاروں نے بکرے ذبح کیے ہیں اسی طرح بینظیر بھٹو کو بھی قتل کیا جائے گا‘۔

انہوں نے بتایا کہ خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ’چھری بینظیر بھٹو کی گاڑی اور گھر سے برآمد ہوسکتی ہے اور وومن کمانڈو ان پر حملہ کر سکتی ہیں اور آخر میں لکھا ہے کہ خود کش حملوں کا سربراہ اور القاعدہ، اسامہ اور انتہا پسندوں کا دوست‘۔

فاروق نائیک نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو اس خط کے متن سے آگاہ کردیا گیا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے لہذا گھبرانا نہیں چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھی اس معاملے کے بارے میں تحریری طور سے آگاہ کردیا گیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال تیزی سے روبہ زوال ہے اور اس پر عدالت کو ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

دوسری جانب پاکستان پپلز پارٹی نے اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کی تحقیقات کے دائرے کو وسیع کرنے کے لئے منگل کو ایک خصوصی سیل قائم کیا ہے جو پیپلز سیکرٹیریٹ میں بم دھماکوں سے متعلق عینی شاہدین اور زخمیوں کے بیانات قلمبند کرے گا۔

یہ خصوصی سیل سیٹیزن پولیس لیاژن کمیٹی کے سابق سربراہ ناظم ایف حاجی کی سربراہی میں کام کرے گا جبکہ شرجیل میمن اور یوسف بلوچ اس کے ممبر ہوں گے۔ اس خصوصی سیل کے اراکین بدھ سے روزانہ بارہ بجے سے پانچ بجے تک پیپلزسیکرٹیریٹ میں بیٹھیں گے۔

دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی نے اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بے نظیر بھٹو کی استقبالیہ ریلی کے دوران ہونے والے مبینہ خودکش حملوں کے متاثرین کی مدد کے لیے فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فنڈ کا قیام پارٹی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر عمل میں لایا گیا ہے اور پارٹی نے عوام سے عطیات کی اپیل کی ہے۔

اسی بارے میں
بی بی کی FIR کیلیے درخواست
21 October, 2007 | پاکستان
بینظیر کی زخمیوں کی عیادت
21 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد