کوئی بیرونی مدد درکار نہیں:حکومت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بینظیربھٹو کے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا ہے کہ بم دھماکوں کی تحقیقات میں غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔ وزیرِاعلٰی سندھ کے مشیرِ داخلہ وسیم اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پولیس اور تفتیشی افسران خاص طور پر جو بم دھماکوں کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہیں نہ صرف پروفیشنل ہیں بلکہ تجربہ کار بھی ہیں اور ان کو ماضی میں کراچی کے حوالے سے بم دھماکوں کے واقعات کی تحقیقات کرنے اور انہیں حل کرنے کا تجربہ بھی ہے تو ان کی موجودگی میں ہمیں بیرونِ ملک سے کسی کی بھی مدد کی ضرورت نہیں ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بیرونِ ملک سے ماہرین طلب کیے جاتے ہیں تو کیونکہ انہیں یہاں کے حالات و واقعات کے بارے میں علم نہیں ہوگا اس لیے تفتیشی عمل میں تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔ بینظیر بھٹو کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے دی گئی درخواست کے حوالے سے مشیرِ داخلہ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ فی الحال علٰیحدہ ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی ہے لیکن بینظیر بھٹو کی جانب سے دی گئی درخواست کو تفتیش میں شامل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اڑتالیس گھنٹوں میں بم دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی تھی جو انہیں بھیج دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ رپورٹ میں تفتیش سے متعلق پیش رفت کے بارے میں کیا بھیجا گیا ہے اور کہا کہ اس لمحے کچھ بھی بتانے سے تفتیشی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کے مطالبہ کو مسترد کر دیا اور کہا کہ غیر ملکی ماہرین کی مدد حاصل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ دوسری جانب غیرملکی ماہرین سے مدد لینے کے بارے میں کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے کہا ہے کہ ’ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس قسم کے کیسوں کو حل کرنے میں ہمارا ماضی کا ریکارڈ بہت اچھا ہے اور ہم اس بار بھی ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ماہرین تجربہ کار تو ہوسکتے ہیں لیکن انہیں یہاں کے حالات کے پس منظر کا اندازہ نہیں ہوسکتا اس لیے ہمارے افسران ان سے زیادہ بہتر کارکردگی پیش کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ بینظیر بھٹو نے اتوار کو اپنے استقبالیہ جلوس پر ہونے والے بم حملوں کی تحقیقات میں غیر ملکی ماہرین سے مدد لیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ِ پاکستان بین الاقوامی برادری کی مدد حاصل کرے۔ ان کے پاس انسدادِ دہشتگردی اور اس قسم کے حملوں کی تفتیش کے حوالے سے تجربہ موجود ہے‘۔ بینظیر بھٹو کی آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی پر ان کے استقبالیہ قافلے میں شارع فیصل پر کارساز موڑ کے قریب دو بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 139 افرد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جبکہ ان حملوں میں بینظیر بھٹو بال بال بچ گئیں تھیں۔ |
اسی بارے میں غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر21 October, 2007 | پاکستان بی بی کی FIR کیلیے درخواست21 October, 2007 | پاکستان ایم کیوایم کی پی پی پی سے تعزیت21 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی زخمیوں کی عیادت21 October, 2007 | پاکستان قاتلانہ حملہ تھا، سیاسی عمل جاری رہے گا: بینظیر19 October, 2007 | پاکستان کراچی دھماکے:’تین افراد زیرِ حراست‘20 October, 2007 | پاکستان ’دھماکوں کا مقصد بینظیر کو ڈرانا تھا‘20 October, 2007 | پاکستان کراچی: دھماکوں کی تفتیش جاری20 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||