BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 October, 2007, 19:30 GMT 00:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی بیرونی مدد درکار نہیں:حکومت

 کراچی بم دھماکے
’کراچی بم دھماکوں میں 139 افرد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے ‘
پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بینظیربھٹو کے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا ہے کہ بم دھماکوں کی تحقیقات میں غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔

وزیرِاعلٰی سندھ کے مشیرِ داخلہ وسیم اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پولیس اور تفتیشی افسران خاص طور پر جو بم دھماکوں کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہیں نہ صرف پروفیشنل ہیں بلکہ تجربہ کار بھی ہیں اور ان کو ماضی میں کراچی کے حوالے سے بم دھماکوں کے واقعات کی تحقیقات کرنے اور انہیں حل کرنے کا تجربہ بھی ہے تو ان کی موجودگی میں ہمیں بیرونِ ملک سے کسی کی بھی مدد کی ضرورت نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بیرونِ ملک سے ماہرین طلب کیے جاتے ہیں تو کیونکہ انہیں یہاں کے حالات و واقعات کے بارے میں علم نہیں ہوگا اس لیے تفتیشی عمل میں تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔

بینظیر بھٹو کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے دی گئی درخواست کے حوالے سے مشیرِ داخلہ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ فی الحال علٰیحدہ ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی ہے لیکن بینظیر بھٹو کی جانب سے دی گئی درخواست کو تفتیش میں شامل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اڑتالیس گھنٹوں میں بم دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی تھی جو انہیں بھیج دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ رپورٹ میں تفتیش سے متعلق پیش رفت کے بارے میں کیا بھیجا گیا ہے اور کہا کہ اس لمحے کچھ بھی بتانے سے تفتیشی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

News image
 ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ِ پاکستان بین الاقوامی برادری کی مدد حاصل کرے۔ ان کے پاس انسدادِ دہشتگردی اور اس قسم کے حملوں کی تفتیش کے حوالے سے تجربہ موجود ہے

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کے مطالبہ کو مسترد کر دیا اور کہا کہ غیر ملکی ماہرین کی مدد حاصل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ دوسری جانب غیرملکی ماہرین سے مدد لینے کے بارے میں کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے کہا ہے کہ ’ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس قسم کے کیسوں کو حل کرنے میں ہمارا ماضی کا ریکارڈ بہت اچھا ہے اور ہم اس بار بھی ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ماہرین تجربہ کار تو ہوسکتے ہیں لیکن انہیں یہاں کے حالات کے پس منظر کا اندازہ نہیں ہوسکتا اس لیے ہمارے افسران ان سے زیادہ بہتر کارکردگی پیش کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ بینظیر بھٹو نے اتوار کو اپنے استقبالیہ جلوس پر ہونے والے بم حملوں کی تحقیقات میں غیر ملکی ماہرین سے مدد لیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ِ پاکستان بین الاقوامی برادری کی مدد حاصل کرے۔ ان کے پاس انسدادِ دہشتگردی اور اس قسم کے حملوں کی تفتیش کے حوالے سے تجربہ موجود ہے‘۔

بینظیر بھٹو کی آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی پر ان کے استقبالیہ قافلے میں شارع فیصل پر کارساز موڑ کے قریب دو بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 139 افرد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جبکہ ان حملوں میں بینظیر بھٹو بال بال بچ گئیں تھیں۔

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
قاتلانہ حملے
پاکستان میں سیاسی حملوں کی تاریخ
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
ایدھی سینٹراپنوں کی تلاش میں
’جہاں کل خوشی تھی وہاں آج دکھ کے سائے‘
اسی بارے میں
بی بی کی FIR کیلیے درخواست
21 October, 2007 | پاکستان
بینظیر کی زخمیوں کی عیادت
21 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد