BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 October, 2007, 23:25 GMT 04:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرملکی ماہرین کی مدد لی جائے: بینظیر
بینظیر
’رہائش گاہ کے پاس وہی پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں جو بااعتماد ہوں‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو نے اپنے استقبالیہ جلوس پر ہونے والے بم حملوں کی تحقیقات میں غیر ملکی ماہرین سے مدد لیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ِ پاکستان بین الاقوامی برادری کی مدد حاصل کرے۔ ان کے پاس انسدادِ دہشتگردی اور اس قسم کے حملوں کی تفتیش کے حوالے سے تجربہ موجود ہے‘۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ وہ باقاعدہ ’پولیس پروٹیکشن‘ چاہتی ہیں کیونکہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ان پر مزید قاتلانہ حملے ہو سکتے ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کی رہائش گاہ کے پاس وہی پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں جن پر انہیں اعتماد ہو۔

بینظیر بھٹو نے اتوار کو ہی جناح ہسپتال میں اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت بھی کی۔بی بی سی اردو کے عباس نقوی کے مطابق سابق وزیراعظم غیر متوقع دورے پر جناح ہسپتال پہنچیں اور بعد ازاں انہوں نے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے لیاری کے ایک رہائشی اور پیپلز پارٹی کے کارکن کےگھر جاکر تعزیت کی۔

بینظیر بھٹو جناح ہسپتال میں ایک زخمی کی عیادت کرتے ہوئے

آٹھ سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد بینظیر بھٹو کا کراچی شہر کا یہ پہلا مختصر دورہ تھا۔ بینظیر کے ان دوروں کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور ان کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔

بینظیر نے فرداً فرداً مریضوں سے ملاقات کی اور اُنہیں صحت یابی کے بعد بلاول ہاؤس آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے ہسپتال کی انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ ’انتہاپسند اسلام کی خدمت نہیں کر رہے ہیں اور انشاءاللہ ہم عوامی راج لے آئیں گے‘۔ انہوں نے اٹھارہ اکتوبر کے حملے کے متعلق کہا کہ ’اُس روز پولیس اور عوامی سکیورٹی سو فیصد تھی مگر شاہراہ فیصل کی بجلی بند ہونے کی بناء پر حملہ کامیاب ہوا۔‘ انہوں نے ملکی قوانین کے تحت حملے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔

پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ حملہ ہر اُس سیاسی قوت پر تھا جو عوام تک پہنچنا چاہتی ہے‘۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی لیڈروں بالخصوص حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پیپلز پارٹی کا مشن جاری رہے گا‘۔

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
قاتلانہ حملے
پاکستان میں سیاسی حملوں کی تاریخ
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
ایدھی سینٹراپنوں کی تلاش میں
’جہاں کل خوشی تھی وہاں آج دکھ کے سائے‘
اسی بارے میں
بینظیر کی زخمیوں کی عیادت
21 October, 2007 | پاکستان
بم دھماکےاخبارات کی سرخیاں
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد