BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 October, 2007, 13:00 GMT 18:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چوہدری شجاعت کا بیان پاگل پن‘

بینظیر
بینظیر بھٹوسخت حفاظت میں مزار پہنچی تھیں
بینظیر بھٹو نے چوہدری شجاعت حسین کے اس بیان پر کہ بم دھماکے خود پیپلز پارٹی نے کرائے ہیں سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے پاگل پن کا مظہر قرار دیا ہے۔

’جب اس قسم کے احمقانہ بیان دیے جاتے ہیں تو پھر شک تو ہمیں کرنا چاہیے۔‘


یہ بات انہوں نے پیر کی سہ پہر بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کے موقع پر صحافیوں کے ایک گروپ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ وہ غیر اعلانیہ طور پر سخت حفاظت میں اچانک بانی پاکستان کے مزار پہنچی تھیں۔ اس موقع پر ناہید خان، فرحت اللہ بابر، آغا سراج درانی اور بعض دیگر پارٹی رہنما ان کے ہمراہ تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو نےکہا کہ ’میں نے ایف آئی آر درج کرائی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ واقعے کی تحقیقات ہوں جس میں غیرملکی ماہرین تعاون کریں اور اس مقصد کے لئے حکومت پاکستان غیرملکی ماہرین کو بلائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ ایک سو تیس سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں پانچ سو لوگ زخمی ہوئے ہیں، ہمیں ان کے کارکنوں کے قاتلوں کو ڈھونڈنا ہے مگر چوہدری شجاعت حسین اپنی پارٹی کے کارکنوں کو سہارا دینے کے لیے کہہ رہے ہیں کہ یہ تو پیپلز پارٹی نے کیا ہے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ تحقیقات میں غیرملکی معاونت بہت ضروری ہے۔‘

چوہدری شجاعت نے مذکورہ بیان ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں دیا

بینظیر بھٹو نے کہا کہ اب تک کسی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ’پاکستان میں کبھی کبھی ان گروپوں کو قربانی کا بکرہ بنایا جاتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ ان گروپوں کے پیچھے جو مفاد پرست عناصر ہیں وہ بے نقاب ہوں تاکہ پاکستان کا امن بحال ہو۔‘

سابق وزیر اعظم نے شدت پسند گروپوں کو جنگ کی بجائے امن کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا۔’دہشتگرد چاہتے ہیں کہ عوام کو حقوق نہ ملیں، میرے پاس تو کوئی ہتھیار نہیں، میرے پاس تو زبان ہے اور نظریہ ہے، دہشتگردوں کو ہتھیار پھینکنے چاہییں اور اگر کوئی اختلافات ہیں تو پرامن طور پر مذاکرات کرنے چاہییں اور عوام کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا راستہ پرامن سیاسی راستہ ہے اور ان کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ملک میں جمہوریت بحال ہو۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ بانی پاکستان کے مزار پر اپنی حاضری کے دوران انہوں نے عہد کیا ہے کہ ایسا پاکستان قائم کریں گے جو وفاقی، جمہوری اور عوامی ہوگا۔ ’قائد اعظم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے تھے اور قائد عوام نے یہ اصول رکھا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، عوام کو اس ملک کا مالک ہونا چاہیے لیکن افسوس کہ عوام دشمن طبقے نے عوام کو سیاسی و معاشی حقوق سے محروم کررکھا ہے۔‘

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
قاتلانہ حملے
پاکستان میں سیاسی حملوں کی تاریخ
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
ایدھی سینٹراپنوں کی تلاش میں
’جہاں کل خوشی تھی وہاں آج دکھ کے سائے‘
اسی بارے میں
بی بی کی FIR کیلیے درخواست
21 October, 2007 | پاکستان
بینظیر کی زخمیوں کی عیادت
21 October, 2007 | پاکستان
بم دھماکےاخبارات کی سرخیاں
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد