BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 October, 2007, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی دھماکے، تفتیشی ٹریبیونل

کراچی دھماکے
ٹریبیونل سکیورٹی انتظامات اور طے شدہ ضابطۂ اخلاق کا جائزہ لے گا
سندھ حکومت نے کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالیہ قافلے میں اٹھارہ اکتوبر کو ہونے والے بم دھماکوں کی تحقیقات کے لیے بدھ کو ریٹائرڈ جسٹس غوث محمد کی سربراہی میں ایک ٹریبونل تشکیل دیا ہے جو اپنی رپورٹ دو ہفتے میں حکومت کو پیش کرے گا۔

یہ ٹریبونل ایسے وقت میں تشکیل دیا گیا ہے جب عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ان حملوں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سماعت یکم نومبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سندھ حکومت کے نوٹیفیکیشن کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ ٹریبونل یہ معلوم کرے گا کہ ایسے کیا حالات اور واقعات تھے جو بم دھماکوں کا سبب بنے اور جس کے نتیجے میں ایک سو اڑتیس افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ٹریبونل اس موقع پر انتظامیہ اور منتظمین کی جانب سے کیےگئے سکیورٹی انتظامات اور پہلے سے طے شدہ ضابطۂ اخلاق کا جائزہ لے گا اور اگر اس سلسلے میں کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی کرے گا۔ ٹریبونل اس بات کا بھی پتہ لگائےگا کہ آیا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جلوس کے منتظمین کی جانب سے کسی قسم کی لاپرواہی برتی گئی ہے یا نہیں۔

ٹریبونل کو اس بات کی بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ذمہ دار افراد یا گروپ کا تعین کرے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سزا بھی تجویز کرے۔ مزید یہ کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لئے اقدامات تجویز کرے۔

ٹریبونل کو اپنی رپورٹ دو ہفتوں میں مکمل کر کے صوبائی محکمہ داخلہ میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کارساز موڑ کے قریب شارع فیصل پر بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے کے لیے سندھ حکومت نے اس سے پہلے ڈی آئی جی منظور مغل کی سربراہی میں پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی۔

بعد ازاں بینظیر بھٹو کی جانب سے اس ٹیم کی کارکردگی پر عدم اطمینان کے اظہار کے نتیجے میں منظور مغل کو تبدیل کر کے یہ ذمہ داری ڈی آئی جی، سی آئی ڈی، سعود مرزا کو سونپی گئی تاہم اس ٹیم نے بم دھماکوں میں ملوث افراد کا سراغ لگانے میں اب تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ ٹیم میں شامل پولیس افسران کا کہنا ہے کہ بم دھماکوں کے مقام سے دو سر ملے ہیں جن پر خودکش حملہ آور ہونے کا شبہ ہے لیکن اب تک ان کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد