BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 November, 2007, 16:50 GMT 21:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ کے اچھے اور برے آڈوانی

سادھو ہیرانند
حیدرآباد سندھ میں جنم لینے والے ہیرانند شوقی رام آڈوانی کو، جو عام طور پر ’سادھو ہیرانند‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں،جینے کے لیے (1863سے 1893تک) فقط تیس برس ملے، لیکن اس مختصر مدت میں انہوں نے بنگال سے اٹھنے والی سماجی اصلاح اور جدیدیت کی تحریک کے ثمرات کو اپنے آبائی وطن سندھ تک لانے میں نہایت اہم، کلیدی کردار ادا کیا۔

متعدد تاریخی عوامل کے نتیجے میں سندھ کی سرزمین میں ہندو دھرم کا ایک نرم، زیادہ انسان دوست روپ پایا جاتا تھا۔ بھگتی اور صوفی تحریک کی روایات سے، اور بعد کے دور میں گرو نانک کے سکھ مت سے گہرے طور پر متاثر ہونے کے باعث، یہاں ایسے بہت سے لوگ آباد تھے جن کے عقائد پر ان مختلف روحانی تحریکوں کے اثرات پائے جاتے تھے اور جو خود کو کسی واحد مذہبی ضابطے سے وابستہ کرنا دشوار اور نامناسب سمجھتے تھے۔ مثلاً ان میں سے ایک بڑا گروہ خود کو ’نانک پنتھی‘ کہتا اور سکھ مذہب کی ظاہری علامات استعمال نہ کرتے ہوئے بھی خود کو سکھ سمجھتا تھا۔ ہیرانند کے آباواجداد اسی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے سوانح نگاردیوان ڈیارام گدومل شاہانی، جو خود بھی سندھ کی نمایاں شخصیات میں سے تھے، کہتے ہیں کہ سکھ مذہب کا خانہ پہلی بار 1891کی مردم شماری کے فارم میں شامل کیا گیا، لیکن یہ انتخاب بمبئی پریذیڈنسی کے رہنے والوں کو حاصل نہ تھا، اس لیے ان کے خاندان نے مجبوراً خود کو ہندو لکھوا دیا۔گدومل کے مطابق بنگال میں برہمو سماج کے پیروکار بھی خود کو ہندو کہنے سے احتراز کرتے تھے۔

سندھ کے ہندو دھرم کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ یہاں ذات پات کی صورت حال ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی بہ نسبت خاصی نرم تھی۔ اس کے باوجود بہت سی نامناسب مذہبی روایتیں اورسماجی رسمیں تھیں جن کی اصلاح کی ضرورت تھی۔1843میں سندھ فتح کرنے کے بعد انگریز یہاں کے صدرمقام کو حیدرآباد سے کراچی لے گئے تھے اور 1847 میں سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ بنا دیا گیا۔ سندھ میں جدید تعلیم کا آغاز اس وقت ہوا جب فرنگی حکمرانوں نے حیدرآباد، کراچی اور شکارپور میں ’نارمل پریکٹسنگ سکول‘ شروع کیے۔ لیکن سندھ کے کئی باشعور لوگوں کا خیال تھا کہ یہاں تعلیم کے، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی اصلاح کے لیے اور بھی بہت کچھ کرنا ضروری ہوگا۔

ان خیالات کے باعث سندھ ان اصلاحی تحریکوں کے لیے زرخیز زمین کی حیثیت رکھتا تھا جو انیسویں صدی کے نصف اول میں بنگال میں شروع ہوئی تھیں جن میں سب سے اہم 1830 میں راجہ رام موہن رائے کی شروع کی ہوئی ’برہمو سماج‘ کی تحریک تھی۔

ہیرانند کے بڑے بھائی نول رائے شوقی رام نے، جو ان سے پندرہ برس بڑے تھے، سندھ کے ہندو سماج میں پائی جانے والی سماجی برائیوں کے خاتمے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔انہوں نے بنگال میں تبدیلی کی لہروں سے متاثر ہو کر ’سکھ سبھا‘ قائم کی، جس نے بعد میں ’سندھ سبھا‘ کا نام پایا اور آخرکار سندھ میں برہمو سماج کا روپ اختیار کر لیا۔ وہ 1873 میں کلکتہ میں برہمو سماج کے رہنما کیشب چندرسین سے مل بھی چکے تھے اور ان کی کوششوں سے حیدرآباد میں موجودہ سول ہسپتال کے نزدیک برہمو نووِدھان مندر قائم ہوا، جس کی عمارت کے احاطے میں ایک وسیع خوبصورت باغ تھا۔ اس عمارت کا افتتاح ستمبر 1875میں ستیندر ناتھ ٹیگور نے کیا جو حیدرآباد کے اُس وقت کے سیشن جج مہارِشی دیوندرناتھ ٹیگور کے بیٹے تھے۔

News image
حیدرآباد میں پہلا گرلز سکول
 حیدرآباد لوٹ کر ہیرانند نے نول رائے کے ساتھ جدید تعلیم کی ’یونین اکیڈمی‘ قائم کی۔ انہوں نے حیدرآباد میں پہلا گرلز سکول قائم کیا جہاں ان کی درخواست پر دو گھوش بہنیں لکھنؤ سے پڑھانے کے لیے آئیں

ہیرانند نے پہلے حیدرآباد کے ’نارمل سکول‘ میں داخلہ لیا، لیکن 1880 میں نول رائے نے انہیں تعلیم پانے کے لیے کلکتہ بھیج دیاجہاں چار سال کے قیام کے دوران انہوں نے میٹرک کیا اور پریذیڈنسی کالج میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے پہلے پہل کیشب چندر سین کے گھر ان کے خاندان کے فرد کے طور پر قیام کیا اور وہاں ان کی بہت سی متاثرکن شخصیتوں سے ملاقاتیں رہیں اور انہوں نے بہت سے دوست بنائے۔

1884 میں سندھ واپس آ کر ہیرانند نے کراچی سے دو اخباروں ’سندھ سدھار‘ (سندھی) اور ’سندھ ٹائمز‘ (انگریزی) کی ادارت شروع کی۔ لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ انہیں سندھ میں سماجی کام میں عملی حصہ لینا چاہیے۔ چنانچہ 1888 میں حیدرآباد لوٹ کر ہیرانند نے نول رائے کے ساتھ جدید تعلیم کی ’یونین اکیڈمی‘ قائم کی۔ انہوں نے حیدرآباد میں پہلا گرلز سکول قائم کیا جہاں ان کی درخواست پر دو گھوش بہنیں لکھنؤ سے پڑھانے کے لیے آئیں۔ تاہم ہیرانند نے صحافت کے میدان میں بھی کام جاری رکھا اور 1890کے لگ بھگ حیدرآباد کی ہندو سوشل ریفارم ایسوسی ایشن کے جاری کیے ہوئے دو رسالوں ’سرسوتی‘ اور ’سدھار پترِکا‘ کی ادارت کی۔ جن دوسرے فلاحی اداروں کے قیام میں ہیرانند نے حصہ لیا ان میں کراچی کے علاقے منگھوپیر میں کوڑھ کے علاج کا مرکز اور شکارپور میں ایک یتیم خانہ شامل تھا۔

لڑکیوں میں تعلیم کا فروغ ہیرانند کے دل کے نہایت قریب تھا، چنانچہ وہ اپنی بیٹیوں کو ہندوستان میں دستیاب بہترین تعلیم مہیا کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی دو بیٹیوں، لکشمی اور رامی ، کو بانکی پور (بہار) لے کر گئے تاکہ انہیں پرکاش چندر رائے کے قائم کیے ہوئے اگھور کامنی گرلز سکول میں داخل کرا سکیں۔ یہ تینوں، ہیرانند کے دوست پادری پروموتھو لال سین کے ہمراہ، سکھر، لاہور اور لکھنؤ کے راستے بانکی پور پہنچے، جہاں ہیرانند کو اچانک ہیضے نے آ لیا اور 11 جولائی 1893کو وہیں انہوں نے انتقال کیا۔ ان کے بڑے بھائی نول رائے بھی اسی سال نومبر میں چل بسے۔ان دونوں بھائیوں کی یاد میں یونین اکیڈمی کا نام بدل کر نول رائے ہیرانند (یا این ایچ) اکیڈمی رکھ دیا گیا۔

سندھی کے معروف ادیب، مترجم اور اسکالر ولی رام ولبھ ، جنہوں نے گدومل کی تحریرکردہ انگریزی کتاب کی حال ہی میں دوبارہ شائع ہونے والی سندھی تلخیص ’سندھ جی آتما‘ کا پیش لفظ لکھا ہے، ہمیں بتاتے ہیں کہ حیدرآباد کے برہمونووِدھان مندر پر کیا گزری جس کے احاطے میں ہیرانند اور نول رائے آڈوانی کی سمادھیاں واقع تھیں۔تقسیم ہند کے بعد مندر کو متروکہ جائیداد قرار دے کر ایک مہاجر کرنل کو الاٹ کر دیا گیا۔ 1970کی دہائی میں اس عمارت کو ڈھا کر اس کی جگہ حسین سکوائر کے نام کی کثیرمنزلہ عمارت تعمیر کی گئی جس کی زمینی منزل پر لبرٹی مارکیٹ اور اوپر کی تین منزلوں پر فلیٹ واقع ہیں۔

رسالہ روڈ پر واقع این ایچ اکیڈمی کی عمارت اب گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1، فاطمہ گرلز ہائی سکول اور سندھ لا کالج کے استعمال میں ہے۔ ستمبر 2005 میں ولی رام ولبھ نے ہائی سکول جا کر نئے تعینات ہونے والے پرنسپل، نورمحمد ٹالپر، سے ملاقات کی جن کو اس عمارت کے ماضی کی کچھ خبر نہ تھی۔ تاہم ایک پرانے استاد عبدالکریم راجپوت نے انہیں عمارت کا دورہ کرایا۔ قدیم گھسی ہوئی دیواروں، چھتوں، فرش اور زینوں، اور زنگ خوردہ ریلنگوں کے باوجود عمارت متاثرکن معلوم ہوتی تھی۔ عمارت کے سامنے والے برآمدے کے دو ستونوں پر انہیں

News image
ہیرانند کے بڑے بھائی نول رائے
 ہیرانند کے بڑے بھائی نول رائے شوقی رام نے، جو ان سے پندرہ برس بڑے تھے، سندھ کے ہندو سماج میں پائی جانے والی سماجی برائیوں کے خاتمے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔انہوں نے بنگال میں تبدیلی کی لہروں سے متاثر ہو کر ’سکھ سبھا‘ قائم کی، جس نے بعد میں ’سندھ سبھا‘ کا نام پایا
دونوں آڈوانی بھائیوں کے نام سنگی تختیوں پر کندہ دکھائی دیے جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ انہیں نصب ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ بوڑھے استاد نے ولی رام کو بتایا کہ ایک طویل عرصے کے بعد ابھی پچھلے ہی ماہ عمارت کی مرمت اور صفائی کی گئی ہے۔

اور اس غیرمتوقع مہربانی کی وجہ یہ تھی کہ اگست 2005 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر لال کرشن آڈوانی، جو نفرت اور جنون پر مبنی خون آلود سیاست کے لیے جانے جاتے ہیں، پاکستان کے دورے پر تھے اور ان کے میزبانوں کا خیال تھاکہ شاید وہ حیدرآباد کی قدیم این ایچ اکیڈمی دیکھنے کی فرمائش کریں۔ اس خطے کی تاریخ کے دو ممتاز مصلحوں کی یاد کو عزت بخشنا اس اقدام کا سبب ہرگز نہیں تھا۔ مگر خیر، سرحدپار کے فرقہ پرست سیاست دان نے بھی اپنے سے پہلے گزرے ہوئے ان آڈوانی بھائیوں کے نام اور کام سے قطعی دلچسپی نہیں دکھائی جوان سے کہیں بہترانسان اور اپنے سماج کے کہیں زیادہ مفید شہری تھے۔

یحییٰ خان پُرامن انتخابی عمل
’کبھی کبھی یہ کہانی بھی پڑھ لیا کیجے‘
’وقائع بابر‘
بابر کی خودنوشت کا ایک نیا اردو ترجمہ
دی پین آف ادرزمصائب کی تماش بینی
میڈیا کی ترقی اور اذیتوں کے نظارے کا ارتقاء
جریدہ’جامعی بمقابلہ جامعہ‘
کراچی یونیورسٹی کا ’جریدہ‘ اور نایاب گوہر
کراچی یونیورسٹی لوگویہ طیلسان کیا ہوا؟
جواب دہی کیلیے کراچی یونیورسٹی ہی کیوں؟
 ارتکاز ادبی رسائل کی بحثیں
تہذیبی مسائل یا شخصی مناقشے اور معرکے
نقاطکتابیں اور رسالے
اردو ناول نگاری اور حسن منظر کا العاصفہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد