BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 August, 2007, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسن منظر کاالعاصفہ و دیگرنیاادب

العاصفہ
العاصفہ
’ ہم زمین پر ننگے پاؤں اس طرح چلتے ہیں جیسے زمین ننگے پاؤں چلنے والوں کے لیے بنی ہو۔‘

نثری نظم کے ممتاز شاعر افضال احمد سید کی اس سطر کو اردوادب کی جدید اصناف پر منطبق کیا جائے تو اپنے اچھے دنوں میں اردو کا افسانہ سر اٹھا کر یہ بات یقینا کہہ سکتا تھا، لیکن اردو ادب میں ناول کو ایسی خوداعتمادی کبھی نصیب نہیں ہو سکی۔ یعنی اس ادب میں ناول اظہار کا ویسا فطری طریقہ نہ بن پایا جیسا مثلاً بنگلہ یا عربی زبان میں بنا۔ یہی وجہ ہے کہ اچھا ناول اردو ادب میں اب بھی مستثنیات میں گنا جاتا ہے۔

پچھلے دنوں اردو میں اسی قسم کا ایک ناول شائع ہوا ہے، حسن منظر کا ’العاصفہ‘۔انیس سو چونتیس میں جنم لینے والے حسن منظر کی ابتدائی دور کی ایک معروف کہانی ’چھوٹی سی مرے دل کی تلیّا‘ لاہور سے ’سویرا‘ کے اسی شمارے میں شائع ہوئی تھی جس میں سعادت حسن منٹو کا ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ چھپا تھا۔ اس کے بعد سے نفسیاتی معالج کے طور پر مصروف پیشہ ورانہ زندگی گزارنے کے باوجود وہ کہانیاں متواتر لکھتے آ رہے ہیں۔ یہ ان کا پہلا ناول ہے۔

مولانا مودودی کے بھائی
 محمد کاظم عربی زبان کے جید عالم اور ہمہ گیر ادبی شخصیت ابوالخیر مودودی کے بارے میں اپنی یادوں میں پڑھنے والوں کو شریک کیا ہے۔ ابوالخیر مودودی اپنے زیادہ مشہور برادر خورد ابوالاعلیٰ مودودی سے کئی اعتبار سے مختلف تھے۔ وہ داڑھی سے عمر بھراسی طرح بے نیاز رہے جیسے اپنے چھوٹے بھائی کی جماعت اسلامی سے

العاصفہ عربی میں طوفانی ہوا کو کہتے ہیں، اور ناول کے تہذیبی پس منظر اور نفس مضمون کو دیکھتے ہوئے یہ نام بہت موزوں معلوم ہوتا ہے۔ ناول میں پیش آنے والے واقعات ایک بے نام عرب ملک میں پیش آتے ہیں اور اس ملک کے شہروں کو بھی محض ان کے ناموں کے ابتدائی حروف ’ ک‘ یا ’ن‘ سے شناخت کیا گیا ہے۔ اگرچہ ناول میں بہت سے اشارے موجود ہیں جن کی مدد سے اس ملک کو پہچانا جا سکتا ہے، لیکن اسے نام نہ دے کر حسن منظر نے اپنے ناول کو ایسے متعدد مسلمان ملکوں کا استعارہ بنا دیا ہے جہاں سیاسی جبر اور منافقانہ مذہبیت کا تسلط ہے۔ اس جبر اور منافقت کے ہاتھوں ان معاشروں میں رہنے والوں کی روحیں کس طرح مسخ ہوتی چلی جاتی ہےں اور زندگی کی امنگ ان کے وجود سے کیونکر نچوڑ لی جاتی ہے، اس کا گہرا احساس العاصفہ کے مرکزی کرداروں، نوجوان زید اور اس کی بہن کی زندگیوں کے نشیب و فراز میں سمو دیا گیا ہے۔

العاصفہ کو لکھنے میں معالج کے طور پر حسن منظر کا مختلف معاشروں کا گہرا مشاہدہ تو یقینا نہایت کارآمد ثابت ہوا ہے، لیکن اس ناول کی رمزیت ان رجحانات کو سمجھنے میں بھی بہت مددگار ثابت ہوتی ہے جو پاکستانی معاشرے میں روز بروز زیادہ واضح ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

سرورق
سمبل

راولپنڈی سے نظم کے معروف شاعر علی محمد فرشی کی زیرادارت رسالہ ’سمبل‘ کا تیسرا شمارہ پچھلے دنوں شائع ہوا ہے۔ 432 صفحات پر مشتمل اس شمارے کی تمام تحریروں پر تو اظہارخیال ممکن نہیں، لیکن ان میں سے چند دلچسپ چیزوں کی نشان دہی ضرور کی جا سکتی ہے۔

محمد کاظم نے، جو عربی کے کلاسیکی اور جدید ادب کے بارے میں اپنے مضامین اور اپنے جرمنی کے منفرد سفرنامے کی بدولت جانے جاتے ہیں، عربی زبان کے جید عالم اور ہمہ گیر ادبی شخصیت ابوالخیر مودودی کے بارے میں اپنی یادوں میں پڑھنے والوں کو شریک کیا ہے۔ ابوالخیر مودودی اپنے زیادہ مشہور برادر خورد ابوالاعلیٰ مودودی سے کئی اعتبار سے مختلف تھے۔ وہ داڑھی سے عمر بھراسی طرح بے نیاز رہے جیسے اپنے چھوٹے بھائی کی جماعت اسلامی سے۔ انہوں نے محمد کاظم کی تحریروں کی حوصلہ افزائی کی تھی اور جب ’ عربی ادب میں مطالعے‘ کے نام سے ان کے مضامین کا مجموعہ شائع ہوا تو اس کا انتساب ’ مولانا ابوالخیر مودودی کے نام‘ تھا۔ انہوں نے دھیمے سے مسکرا کر محمد کاظم سے کہا، ’ آپ نے مجھے بھی مولانا بنا دیا۔‘ کاظم صاحب کا جواب تھا، ’ مجھے خیال آیا کہ یہ لقب کبھی تو صحیح جگہ استعمال ہونا چاہیے۔‘

اس شمارے میں محمد حمید شاہد کی تجرباتی کہانی ’ چٹاکا شاخِ اشتہا کا‘ بھی شامل ہے جس میں مصنف نے اپنی کہانی کے کرداروں کا قصہ سنانے کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکی ادیب گارسیا مارکیز کے تازہ ترین ناول کے اردو ترجمے پر تبصرہ کرنا بھی جاری رکھا ہے۔ (محمد عمر میمن کا کیا ہوا یہ ترجمہ پچھلے دنوں ’اپنی سوگوار بیسواؤں کی یادیں‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔)

محمد حمید شاہد کا یہ تجربہ بہت کامیاب تو نہیں ہو پایا، لیکن اس سے کہانی کہنے کے نت نئے طریقے تلاش کرنے کی لگن کا ضرور پتا ملتا ہے جو ہمارے اکا دکا نئے افسانہ نگاروں میں دکھائی دینے لگی ہے۔

نذیراحمد کی کہانی
 مرزا فرحت اﷲ بیگ کے طویل خاکے ’ نذیراحمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ اپنی زبانی‘ کو اپنے بے مثال اسلوب کے باعث کلاسیک کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ ’توبتہ النصوح‘ اور ’فسانۂ مبتلا‘ کے مصنف کی جو تصویر اردو پڑھنے والوں کے ذہن میں ہے، وہ بڑی حد تک اسی تحریر کی بنائی ہوئی ہے

ادب پڑھنے والوں کی بنیادی دلچسپی یوں تو ان فن پاروں سے ہوتی ہے جو ان کی توجہ کے طالب ادیب اور شاعران کے پڑھنے کے لیے تخلیق کرتے ہیں، لیکن پڑھنے کا یہ عمل ان میں رفتہ رفتہ اپنے پسندیدہ ادیبوں کی شخصیت سے بھی گہری دلچسپی پیدا کر دیتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ادب تخلیق کرنے اور پڑھنے سے جوجمالیاتی اور انسانی اقدار ترویج پاتی ہیں، پڑھنے والے اپنے محبوب تخلیق کاروں کی زندگی کی تفصیلات میں ان اقدار کی کارفرمائی دیکھنے کا تجسس رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادیبوں اور پڑھنے والوں نے شخصی خاکوں میں بہت دلچسپی دکھائی ہے اور ایسی تحریروں کا ایک بڑا ذخیرہ جدید اردو ادب میں جمع ہو گیا ہے جن میں ادیبوں کی شخصی زندگی کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ اس سے پہلے شاعروں کے تذکرے تو لکھے جاتے تھے لیکن شاعروں کی شخصیات کے دلآویز قلمی خاکے کھینچنے کا سلسلہ محمد حسین آزاد کی عہدساز کتاب ’ آب حیات‘ ہی سے شروع ہوا۔

بعد میں جدید نثر کا رواج بڑھنے پر اس قسم کی اور تحریرں سامنے آئیں۔ ان میں مرزا فرحت اﷲ بیگ کے طویل خاکے ’ نذیراحمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ اپنی زبانی‘ کو اپنے بے مثال اسلوب کے باعث کلاسیک کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ ’توبتہ النصوح‘ اور ’فسانۂ مبتلا‘ کے مصنف کی جو تصویر اردو پڑھنے والوں کے ذہن میں ہے، وہ بڑی حد تک اسی تحریر کی بنائی ہوئی ہے۔

سرورق
اردو کے شخصی خاکے

اس کے بعد لکھے جانے والے یادگار شخصی خاکوں میں عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ ’دوزخی‘ تھا جسے ان کی بہن عصمت چغتائی نے لکھا جو خود جدید ادب کی ایک عظیم شخصیت تھیں۔ لیکن شخصی خاکے صرف ادیبوں تک محدود نہیں رہے۔ دوسرے میدانوں میں نمایاں ہونے والی شخصیات کے علاوہ بعض گمنام اور بے نوا ہستیوں کو بھی خاکہ نگاری نے امر کر دیا۔ ان میں مالی نام دیوبھی ہے جس کا خاکہ مولوی عبدالحق نے کھینچا اورزندگی بھر کالج کا گھنٹہ بجانے والا کندن بھی جس کا نقش رشید احمد صدیقی نے بنایا ۔

اسلام آباد کے اشاعتی ادارے الحمرا نے اردو میں شخصی خاکوں کے اس وسیع اور رنگا رنگ ذخیرے سے ایک انتخاب تین جلدوں میں شائع کیا جواب بھی دستیاب ہے۔ کراچی کے ادبی جریدے ’مکالمہ‘ کے مدیر مبین مرزا کے ترتیب دیے ہوئے اس انتخاب سے اسی طرح اختلاف کیا جا سکتا ہے جیسے کسی بھی اور انتخاب سے، لیکن اس میں اردو کے بیشتر معروف اور عمدہ خاکے پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ ایک بات البتہ سمجھ میں نہیں آئی: عصمت چغتائی کے ’دوزخی‘ کو ادھورا شائع کرنے کا فیصلہ آخر کیوں کیا گیا؟

مونیکا علیمونیکا پھر متنازعہ
’برک لین‘ پر فلم بندی بنگلہ دیشی ناراض
ڈُوما کے ناول پر پاکستانی فلمکلاسیک کی ’واپسی‘
الگزینڈر ڈُوما کے ناول پر پاکستانی فلم
موتھ سموکموتھ سموک پر فلم
محسن حامد کے دوسرے ناول پر میرا نائر کی نظر
قرۃ العین حیدرایک عہد کا خاتمہ
’سورج کو ایک جھونکا ہوا کا بجھا گيا‘
مرزا اطہر بیگ’غلام باغ‘
مرزا اطہر بیگ کا ناول اردو فکشن کا اہم واقعہ ہے
انسائیکلو پیڈیا آف انڈین لٹریچرادبی انسائیکلو پیڈیا
پاکستان میں پنجابی حصّے کی اشاعت
صدام حسین کا ناول
صدام حسین کا دوسرا ناول ٹوکیو میں فروخت
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد