’سورج کو جھونکا ہوا کا بجھا گيا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’قرۃ العین حیدر کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ایک بہت بڑی شخصیت ہم لوگوں پر سایہ کیے ہوئی تھیں۔ آج ہم اس سائے سے محروم ہوگئے۔‘ یہ تاثرات ہیں معروف شاعر اور مصنف شہریار کے جو قرۃ الیعن حیدر سے بہت قریب تھے۔ شہریار نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بیسویں صدی کی ان ادبی شخصیات میں سے تھیں جن کو عالمی طور پر تمام میعاروں پر پرکھا جا سکتا ہے۔ سورج کو ایک جھونکا ہوا کا بجھا گیا۔‘ اردو کے معروف نقاد محمد حسن قرۃ العین حیدر کو اس عہد کی سب سے بڑی ناول نگار قرار دیتے ہوئے کہتے ہيں کہ انہوں نے اپنے عہد کے پست و بلند کا بہت گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا اور ان کے ناول اور کہانیاں سب اس کے گواہ ہيں کہ ان کا مطالعہ، تجربہ اور مشاہدہ کتنا گہرہ تھا۔ انہوں نے اس کے درد کو محسوس کیا تھا۔ ’ہندوستان کی تقسیم کا ان پر گہرا اثر تھا۔ انہوں نے تقسیم کے درد، اس کی کیفیات اور تفصیلات کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا۔ ان کی ساری کہانیوں اور ناولوں میں یہ درد نمایاں ہے۔‘ ’انہوں نے اپنے عہد کے تغیر کے درد کو اپنے اندر کا درد سمجھ کر سمیٹا ہے۔‘ قرۃ العین حیدر کے جنازے میں شریک اردو اکیڈمی کے نائب چیرمین پروفیسر قمر رئیس نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہ ’برصغیر ہندو پاک کا سب سے بڑا مینار گرگیا۔ وہ نہ صرف ایک عظیم ادیب تھیں بلکہ ایک دانشور کی حیثیت سے بھی ان کا مرتبہ بہت بلند تھا۔ قرۃ العین حیدر کی فکر ونظر کا جو زاویہ تھا وہ سب سے وسیع تھا۔ انہوں نے اردو ادب پر ہمہ گیر اثرات مرتب کیے ہيں۔ ہندو پاک کا کوئی بھی ادیب اس بلندی تک نہیں پہنچ سکتا۔‘ ہندی کے سرکردہ ادیب مجیب رضوی کہتے ہیں کہ ’قرۃ العین حیدر کا ایک منفرد انداز تھا۔ ان کا کینوس اتنا بڑا تھا کہ برصغیر کی کسی بھی زبان میں کوئی بھی اس درجے کو نہيں پہنچ پایا۔‘
جنازے میں شریک ہندی کے ایک دیگر ادیب پنکج بشٹ کا خیال ہے کہ قرۃ العین حیدر کو جو مرتبہ اردو میں حاصل ہے وہی اہمیت وہ ہندی میں بھی رکھتی ہیں۔ وہ بیسوی صدی کے بھارت کے سب سے بڑی ناول نگاروں میں ہیں جنہوں نے عہد حاضر کو تاریخ کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا ہے۔‘ پروفیسر علی جاوید نے قراۃ العین حیدر کے انتقال کو ایک عہد کا خاتمہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ہندوستانی زبانوں میں ان کی حیثیت مسلم تھی۔ ’ان کی تحریریں منفرد تھیں۔ ان کا اسلوب جدا تھا۔ بعد کے کچھ ادیبوں نے ان کے طرز تقلید کی کوشش کی لیکن ان کا انداز وہ نہ حاصل کر سکے۔‘ معروف ادیب خوشونت سنگھ جو خود بہت علیل ہیں، قرۃ العین حیدر کے انتقال سے صدمے میں ہیں۔ انہوں نے صرف اتنا کہا ’وہ مجھ سے بہت قریب تھی۔ میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ پاؤں گا۔‘ |
اسی بارے میں ناول نگار قرۃ العین حیدر سپردِ خاک21 August, 2007 | انڈیا قرۃالعین حیدر انتقال کرگئیں21 August, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||