قرۃالعین حیدر انتقال کرگئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلا مبالغہ اب تک اردو کی ’سب سے بڑی‘ ناول نگار قرۃ العین حیدر طویل علالت کے بعد منگل کو دلی میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر اسّی برس تھی۔ قرۃالعین حیدر کی بھانجی ہما حیدر حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے بیمار تھیں اور دلی کے نواحی شہر نوئیڈا کے کیلاش ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔ ان کے ایک رشتہ دار رفیع الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تدفین منگل کی شام ساڑھے چار بجے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں کی جائے گي۔ قرۃ العین حیدر جنہیں ادب کی دنیا اور ان کے گھر والے پیار سے’عینی آپا‘ کے نام پکارتے تھے 1927 میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرۃالعین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا لیکن بعد میں انہوں نے ہندوستان آ کر رہنے کا فیصلہ کیا۔
قرۃالعین حیدر نہ صرف ناول نگاری بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے مشہور ناولوں میں بالترتیب: میرے بھی صنم خانے، سفینۂ غمِ دل، آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر، گردشِ رنگِ چمن، کارِ جہاں دراز ہے اور چاندنی بیگم شامل ہیں۔ ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف دکھتا ہے اوران کے دو ناولوں’آگ کا دریا‘ اور ’آخر شب کے ہم سفر‘ کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ ’آخرِ شب کے ہم سفر‘ کے لیے 1989 میں انہیں ہندوستان کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں1985 میں پدم شری اور 2005 میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔
انہوں نے گیارہ سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا۔ اردو ادب کے کچھ نقاد انہیں اردو کی’ورجینا وولف‘ بھی کہتے ہیں۔ قراۃ العین کے تیسرے ناول ’آگ کا دریا، کو اردو ادب میں ’سٹریم آف کونشیئسنس‘ یا شعور کی رو کے حوالے سے جانی جانے والی تکینک کا آغاز اور عروج تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض نقاد سمجھتے ہیں کہ یہ ناول اس تیکنیک میں لکھے جانے والے تمام زبانوں کے اہم ترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ قرۃ العین حیدر کے انتقال کو نہ صرف ہندوستانی ادب بلکہ تیسری دنیا کے ادب کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔ ہندی ادب کے مشہور کہانی اور ناول نگار اصغر وجاہت نے بی بی سی کو بتایا ’قرۃ العین حیدر جدید اردو ادب کی لیجنڈ بن چکی تھیں اور ان جیسے لکھنے والے پورے برصغیر میں چند ہی ہیں۔ ان کے انتقال سے نہ ہندوستانی ادب اور اردو ادب بلکہ تسیری دنیا کے ادب کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے جدید ناول کہانی بیان کرنے کا جو انداز دیا اس نے جدید ناول کو کلاسیکی مقام پر پہنچا دیا۔ | اسی بارے میں کتھوں قبراں وچوں بول:امرِتانہیں رہیں31 October, 2005 | انڈیا اک دِھی پنجاب دی31 October, 2005 | انڈیا مشہور فرانسیسی ادیب کا انتقال05 March, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||