مشہور فرانسیسی ادیب کا انتقال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیرس میں اعلان کیا گیا ہے کہ فرانسیسی ادیب اونری ترویات پچانوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے سو سے زیادہ کتابیں کہانیوں، سوانح عمریوں اور تاریخ کے موضوع پر لکھی ہیں جن میں سے ان کی آخری کتاب پچھلے سال شائع ہوئی تھی۔ ترویات موسکو میں ایک آرمینیائی خاندان میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کے تجارت پیشہ والد روسی انقلاب سے بھاگ کر پیرس چلے گئے اور پھر ان کا خاندان وہیں بس گیا۔ ترویات فرانسیسی زبان میں لکھتے تھے لیکن ان کی بہت سی کتابوں کا موضوع روسی معاملات تھا۔ ترویات نے پہلا ادبی ایوارڈ ’لی پری دیو غوموں پوپولیغ’ 24 برس کی عمر میں حاصل کیا تھا۔ ستائیس سال کی عمر میں انہیں ’پری گوں کوغ ’ کا عظیم ایوارڈ پیش کیا گیا تھا۔ ان کی قلم کردہ ادیبوں اور بادشاہوں کی آپ بیتیوں میں چیخوف ، کیتھرین دی گریٹ ، ریسپوٹین ، آئیون دی ٹیریبل اور لیو ٹولسٹائی کی سوانح عمریوں بھی شامل ہیں۔ ان کے انتقال کی خبر ایک فرانسیسی اخبار لفگاغو میں پیر کے روز چھپی۔ انتقال کے وقت وہ اکیڈمی فرانسیس کے ڈین تھے۔ | اسی بارے میں اشفاق احمد: بلیک اینڈ وائٹ یادیں 06 September, 2005 | فن فنکار دوستوئیفسکی کی سالگرہ لاہور میں 24 December, 2005 | فن فنکار سندھی ادیب جمال ابڑو انتقال کر گئے01 July, 2004 | فن فنکار افریقی ادیب کے لئے نوبل انعام02 October, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||