کتھوں قبراں وچوں بول:امرِتانہیں رہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجابی کی مشہور شاعرہ اور لکھاری امرتا پریتم پیر کے روز دلی میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کر گئیں۔ان کی عمر چھیاسی برس تھی۔ وہ پچھلے چھ ماہ سے سخت علیل تھیں۔ ان کا انتقال جنوبی دلی میں واقع ان کی رہائشگاہ حوض خاص میں بھارتی وقت کے مطابق شام ساڑھے تین بجے ہوا۔ جانے پہچانے ادیب اور مصور امروز کئی عشروں سے ان کے ساتھی اور رفیق تھے اور انتقال تک ان کی تیمارداری کر رہے تھے۔ ان کی بیٹے شیلی کواتڑا نے بتایا ہے کہ ان کی آخری رسومات پیر ہی کو گرین پارک میں ادا کی جائیں گی۔ جس میں نامور ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ معززین کی بڑی تعداد کی شرکت کرے گی۔
وہ اکتیس اگست انیس سو انیس کو گجرانوالہ میں پیدا ہویی تھیں۔ گجرانوالہ اب پاکستان کا حصہ ہے۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے پر ان کے ایک ناول پنجر پر اسی نام سے فلم بھی بن چکی ہے۔ وہ بھارتی ایوان ِ بالا کی رکن رہ چکی تھیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہو چکا تھا۔ اس کے علاو انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو چکے تھے جن میں پنجابی ادب کے لیے گیان پیتھ ایوارڈ بھی شامل ہے۔ |
اسی بارے میں امریتا پریتم اور نارنگ کے لیے اعزاز25 January, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||