کراچی یونیورسٹی اور اس کا ’جریدہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جاہلانہ علمیت بالخصوص سائنس اور سوشل سائنسز کی گرفت مسلم ذہن پر مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور معاشرہ میں بہت سی ایسی چیزوں کو برداشت کیا جا رہا ہے جو پہلے معیوب سمجھی جاتی تھیں۔ اس میں سب سے خطرناک رجحان عورتوں کی پبلک لائف میں شرکت ہے۔... غیرمسلم سیکولر حکومتوں اور استعماری ذرائع سے چلنے والی، فحاشی پھیلانے والی اور حقوق کی سیاست کو عام کرنے والی NGOsکا معاشرتی اثر بڑھ گیا ہے۔ کئی مسلم اکثریتی ممالک میں غیرمسلم اقلیتوں کو، بالخصوص آغاخانیوں، عیسائیوں، قبطیوں اور ہندوؤں کو (انڈونیشیا میں) معاشروں کو سیکولرائز کرنے کی ذمہ داری استعمار اور اس کے مقامی ایجنٹوں نے سونپ دی ہے۔... جن اقوام نے اس جاہلانہ علمیت کو قبول کیا وہ آج اجتماعی خودکشی کر رہی ہیں۔...آبادی میں اضافے کی رفتار تیزی سے گر رہی ہے۔ عورتیں بچہ پیدا کرنے اور پرورش کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ نسوانیت اور مردانگی تباہ ہو رہی ہیں اور انسانیت ہیومن رائٹس کے قالب میں ڈھل کر سسک کر دم توڑ رہی ہے‘۔ مندرجہ بالا اقتباس کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے زیراہتمام شائع ہونے والے ’عہد ساز تحقیقی و تجزیاتی مطالعات پر مشتمل‘جریدے کے شمارہ 37 کے صفحہ 815 سے لیا گیا ہے۔ یہ ’تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘ جس کے ’عہدساز‘ ہونے میں بھی قطعی شبہ نہیں کیا جا سکتا، ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کے زورقلم کا نتیجہ ہے۔ انصاری صاحب کے نام کے ساتھ ڈاکٹری کا لاحقہ خاصے تعجب کا باعث بنتا ہے، وہ اس لیے کہ اوپر نقل کیے گئے زریں خیالات کی روشنی میں ان کی نسبت یہ گمان کرنا انتہائی گستاخی کی بات معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے ’جاہلانہ علمیت‘ یعنی سائنسی یا سماجی علوم کی جہل افروزی میں خود کو پی ایچ ڈی کی اسفل سطح تک آلودہ ہونے دیا ہو گا۔ ڈاکٹر انصاری کے ایک خوش گمان پڑھنے والے کی رائے ہے کہ ان کی ڈاکٹری شاید ہومیوپیتھی کا کرشمہ ہے، لیکن اس خوش گمانی پر یقین کرنا یوں ممکن نہیں کہ ہومیوپیتھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جرمنی کے باشندوں (غالباً یہودیوں) کا پروان چڑھایا ہوا علم (یا جہل) ہے، اور جرمنی وہ ملک ہے جو ’جاہلانہ علمیت‘ کو قبول کرنے کے لازمی نتیجے کے طور پر اجتماعی خودکشی کے اعلیٰ مدارج طے کر رہا ہے یعنی وہاں آبادی میں کمی کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بھلا ایسے ملکوں میں ایجاد کی گئی چیزوں سے نیک روحوں کا کیا لینا دینا۔مگر خیر، ڈاکٹری کا یہ لاحقہ فی الحال معما ہی رہے گا، اس لیے کہ ’جریدہ‘ کے مذکورہ شمارے میں (جو آئندہ کے اشاعتی منصوبوں کے نہایت مرعوب کن اعلانات کے صفحات کو شمار نہ کرتے ہوے بھی 1236صفحات پر مشتمل ہے) انصاری صاحب کی ذات کو تعارف کا محتاج نہیں سمجھا گیا۔ ڈاکٹر انصاری کا ذاتی تعارف شاید اتنا اہم بھی نہیں، کیونکہ جریدے کے 55صفحات پر محیط ان کا مقالہ بجائے خود ان ترجیحات کا تعارف معلوم ہوتا ہے جو کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ نے جنوری 2004کے بعد سے جہادی جوش و جذبے کے ساتھ اختیار کر لی ہیں۔
وقت کا یہ نقطہ پوری یونیورسٹی میں نہیں تو کم از کم مذکورہ شعبے کی تاریخ میں تقریباً ویسی ہی اہمیت رکھتا ہے جیسی اہمیت عالمی سطح پر گیارہ ستمبر کو حاصل ہو گئی ہے۔ اس کی معنویت یہ ہے کہ اس موقعے پر خالد جامعی نامی ایک صاحب نے شعبے کی سربراہی اور ’جریدہ‘ کی ادارت سنبھالی۔ بظاہر تو یہ تقرری، ترقی یا تعیناتی ویسی ہی شے معلوم ہوتی ہے جسے معمول کی کارروائی کا نام دیا جاتا ہے، لیکن یونیورسٹی حکام کے اس اقدام کے مضمرات نائن الیون ہی کی طرح دوررس ہوئے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ’جریدہ‘ کے صفحات پر ایک پرزور اور ہمہ گیر جہاد کا آغاز ہوا ہے جس کاہدف نہ صرف جمہوریت، سماجی انصاف، فلاحی ریاست، انسانی حقوق اور عورتوں کی پبلک لائف میں شرکت جیسے شرانگیز تصورات ہیں بلکہ سائنسی اور سماجی علوم پر مشتمل پوری ’جاہلانہ علمیت ‘ اس وسیع و عریض جریدی و جہادی سرگرمی کے نشانے پر ہے۔ اگر اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ جامعہ کراچی خود نہ صرف اپنے دیگر شعبوں کے ذریعے’جاہلانہ علمیت‘کو فروغ دینے کے مذموم کاروبار میں مصروف ہے بلکہ اساتذہ اور طالبات کے طور پر عورتوں (اور لڑکیوں) کی پبلک لائف میں شرکت کے حیا سوز عمل کی عرصہ درازسے حوصلہ افزائی کرتی آ رہی ہے، تو ایک سطح پر اس جہاد کو ’جامعی بمقابلہ جامعہ‘ کا عنوان دیا جا سکتا ہے ۔ اگرچہ جامعی صاحب اور ان کے قلمی معاونین (بشمول ڈاکٹر انصاری) کاعالمی جہادی انقلاب سے کم پر راضی ہونے کا بظاہر کوئی ارادہ نہیں معلوم ہوتا، پھر بھی غالباً وہ اس بات کے قائل ہیں کہ صدقہ و خیرات کی طرح جہاد کا آغاز بھی اپنے گھر نہیں تو پاس پڑوس سے ہونا چاہیے۔ البتہ اس بات پر سخت تعجب ہوتا ہے کہ اب تک نہ تو ہائرایجوکیشن کمیشن نے صورت حال کی سنگینی کا کوئی نوٹس لیا ہے اور نہ کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے خود کو ’جاہلانہ علمیت‘ سے آزاد کرانے کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ارباب حل و عقدتو غالباً اردو زبان سے ناواقفیت کے باعث دانش کے ان موتیوں سے محروم و محفوظ ہوں گے جو ’جریدہ‘ کے صفحات پر رولے جاتے ہیں، لیکن کراچی یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر (یاشیخ الجامعہ) تو نہ صرف مشاعروں کی رونق افروزی کا سبب بنتے بارہا دیکھے گئے ہیں بلکہ یہ تک سنا گیا ہے کہ وہ، استاد قمر جلالوی کی روایت کے تلمیذالرحمن غزل گو شعرا کے برعکس، اردو لکھ پڑھ بھی لیتے ہیں۔ اگر انہوں نے بھی جامعہ کراچی کو ’جاہلانہ علمیت‘ سے پاک کرنے کے لیے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا تو اس کی افسوس ناک وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کے سرکاری نام کے ساتھ لگا ہوا ڈاکٹر کا لاحقہ ہومیوپیتھی کا عطیہ نہیں بلکہ سائنس کے کسی شعبے میں کی گئی پی ایچ ڈی کا شاخسانہ ہے۔ چو کفراز کعبہ برخیزد، کجا ماند مسلمانی! شیخ الجامعہ سے تو اب تک اتنا بھی نہ ہوا کہ ’غیرمسلم اقلیتوں‘ کی بابت ڈاکٹر انصاری کے لرزہ خیزانکشاف سے ہدایت حاصل کرتے ہوئے یونیورسٹی کی سنٹرل لائبریری ہی کا سدباب کرا دیتے جس کا سنگ بنیاد یکم اکتوبر 1960کو پرنس کریم آغاخان نے رکھا تھا، یا کراچی یونیورسٹی کی جاری کی ہوئی پہلی اعزازی ڈاکٹریٹ ہی کو منسوخ قرار دے دیتے جو سرآغاخان کو پیش کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں حسن منظر کاالعاصفہ و دیگرنیاادب22 August, 2007 | قلم اور کالم یہ ہماری اردو زبان04 November, 2003 | منظر نامہ یہ ہماری اردو زبان، چہارم09 September, 2003 | صفحۂ اول یہ ہماری اردو زبان، سوئم14.08.2003 | صفحۂ اول یہ ہماری اردو زبان، اول 27.07.2003 | صفحۂ اول مغل بادشاہ یاافسرتعلقاتِ عامہ 20.06.2003 | صفحۂ اول مشرق و مغرب کی تقسیم02.06.2003 | صفحۂ اول ترک وطن و زمینی حقیقتیں17.05.2003 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||