| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ ہماری اردو زبان
کیا ایک کثیر لسانی معاشرے میں مختلف سطحوں پر لوگوں کے استعمال میں آنے والی مختلف زبانوں کے درمیان عداوت اور مخاصمت کا رشتہ کسی صحت مند سماجی نقطہ نظر اور معقول سرکاری پالیسی کی بنیاد بن سکتا ہے؟ اس سلسلے میں پاکستان کا تجربہ اس جیسے دوسرے ملکوں کے تجربے سے مختلف نہیں کیونکہ کثیر لسانیت اب دنیا کے بیشتر معاشروں کی خصوصیت بن چکی ہے، بلکہ دنیا بھر میں انگریزی زبان کے چلن کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ آج شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہو جہاں کے لوگ انگریزی سے واقفیت پیدا کیے بغیر دنیا کا حقیقت پسندانہ ادراک حاصل کرسکیں۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ایک سے زیادہ زبانوں کا استعمال لوگوں کے روزمرہ کے تجربے کا حصہ بن چکا ہے۔ کثیر لسانی زندگی کے اس تجربے کو سوچ سمجھ کر معاشرتی زندگی اور سرکاری پالیسی، خصوصاً تعلیمی پالیسی میں شامل کرنا بہت اہم ہے۔ لیکن پاکستان میں اس تجربے کو سرکاری سطح پر بالکل نظر انداز کرنے اور عوامی سطح پر اندھا دھند اپنانے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کثیر لسانیت کو زندگی کی ایک نہایت اہم حقیقت کے طور پرتسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ غیر حقیقت پسندی کے اس رجحان کو اُردو زبان کے بارے میں ہماری مروجہ خوش فہمیوں سے بہت تقویت ملتی ہے۔ یہ عقیدہ کہ اُردو زبان ہر خیال کی ادائیگی اور ہر مضمون کی تعلیم کی صلاحت رکھتی ہے، کسی معروضی غوروفکر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ بات خاص طور پر ان لوگوں نے ہمیشہ محسوس کی ہے جنہیں کسی دوسری زبان سے اُردو میں ترجمہ کرنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ انگریزی زبان سے اُردو میں ترجمہ کرنے والے اولین لوگوں میں مولوی عنایت اللہ دہلوی کا نام ممتاز ہے۔ ان کی ایک تحریر سے اقتباس اس مسئلے کے بعض پہلوؤں کی طرف دلچسپ اور صاف گویانہ انداز سے اشارہ کرتا ہے:
’دنیا کے حالات اور انسان کے تعلقات یا قدرت کے مناظر اور انسان کی صنعتیں، ان کی اصلی کیفیت وحالت میں اثر کے ساتھ لکھنی ہر زبان میں مشکل ہیں، لیکن ہماری زبان میں تو ان کا نقش اتارنا ایک مصیبت ہوجاتا ہے۔ دوسری زبانوں سے مقابلہ کیجئے تو اُردو کی کم مائیگی دل فگار ہے۔ الفاظ کی قلّت نے، جو خود کردہ ہے، کسی قابل نہ رکھا۔ شعراء نے شعر کی خاطر لفظوں کو کم کرتے کرتے جو کچھ چھوڑا ہے وہ اشک بلبل سے زیادہ نہیں۔ شعر کے تومالک تھے ہی، نثر پر بھی سکّہ جمایا۔ طرح طرح کی مصنوعی قیدیں لگا کرناطقہ بند کردیا۔ کہیں صحت الفاظ پر گرفت ہے، کہیں ذم کے پہلو پر ناک بھوں چڑھتی ہے، کہیں سوقیت اور رکاکت کا الزام عائد ہوتا ہے۔ کوئی ضرب المثل یا کہاوت لکھیے، یا پھبتی اڑائیے تو وہ دانت کے نیچے کا کنکر ہوجاتی ہے۔ مقامی خصوصیات کی پاسداری میں دلوں میں کدورت رہنے لگتی ہے۔ غرض بولنا، لکھنا، پڑھنا، سننا، سب دشوار کردیا۔ آزادی کا ہر طرح سےگلا گھونٹا۔ خیالات کی سوتیں خشک کردیں۔ لیک سے ذرا ہٹے نہیں کہ اغراض کے درندے غاروں سے نکل کر پھاڑ کھانے کو دوڑے۔ الفاظ کی کمی، قیدوں کی زیادتی، مذاق کی تنگی اور حسّت نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ دنیا دامن پھیلائے سامنے ہے، ہم دیکھتے ہیں مگر بیان نہیں کر سکتے۔ جب بیان نہ کرسکے تو دیکھنا بھی چھوڑدیا۔ گونگے تھے، اندھے بھی ہوگئے۔” اُردو کی اس کم مائگی کا ذکر کرنا آج ہمارے یہاں ایک طاقتور گروہ کی برہمی کا سبب بن جاتا ہے جو اُردو کے بارے میں پائی جانے والی خوش فہمیوں سے اپنا ذاتی مفاد حاصل کرتا ہے۔
یہ بات دلچسپ ہے کہ اُردو کے بارے میں غیر حقیقت پسندانہ عقائد صرف عوام الناس کو بہلانے کے لیے ہیں۔ (دوسری مقامی زبانوں کا بھی یہی قصہ ہے۔) ثقافتی طور پر مقتدر طبقے کو اُردو سے کوئی خاص واسطہ نہیں، کیونکہ اُن کی رسائی انگریزی زبان تک ہے۔ پاکستان کی کسی حکومت نے اس حقیقت کا سنجیدگی سے سامنا نہیں کیا کہ انگریزی زبان کی ایسی تعلیم جو پڑھنے والے کو اس زبان میں علم حاصل کرنے کے قابل بنادے، آج معمولی خواندگی کی طرح ضروری ہوچکی ہے اور اسے کسی ایک طبقے تک محدود رکھنا معاشرے میں ناہمواری اور نا برابری کو مزید بڑھانے کا سبب بنے گا۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا طبقاتی کردار ہے۔ قابل قبول حد تک عمدہ معیار کی تعلیم صرف وسائل رکھنے والے طبقے کے لیے مخصوص ہے جو اس کی قیمت ادا کرسکتے ہیں۔ جبکہ سرکاری طور پر مہیا کی جانے والی تعلیم جو تعلیمی سہولتوں تک رسائی رکھنے والوں کی اکثریت کے حصے میں آتی ہے، طالب علموں میں کسی قسم کی قابلیت اور بصیرت پیدا کرنے کے بجائے مذہبیت اور حب الوطنی کے سرکاری روپ پر اصرار کے باعث ان کے ذہنوں میں تاریخ اور آج کی دنیا کا ایک نا مکمل اور مسخ کردہ تصور راسخ کردیتی ہے۔ دوسری طرف اونچے طبقے کے طالب علم اپنے ملک کی معاشرتی حقیقتوں سے ناواقف رہتے ہیں۔
اس صورت حال میں کسی قسم کی مثبت تبدیلی لانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے کثیر لسانیت کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی زندگی کے تمام مطالبات میں کسی ایک زبان پر انحصار نہیں کرسکتے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ علم کے مختلف شعبوں میں جس تیزی سے ترقی اور اضافہ ہورہا ہے، اس کا ساتھ دینا اُردو اور دوسری مقامی زبانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس سلسلے میں کی جانے والی کوششیں وسائل کو ضائع کرنے اور چند نا اہل افراد کی پرورش کے سوا کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتیں۔ ہماری زندگی میں اپنی تمام ملکی زبانوں کا یقیناً بہت اہم کردار ہے۔ لیکن جہاں تک جدید علوم حاصل کرنے کا سوال ہے، یہ زبانیں ہمارے کسی کام نہیں آسکتیں۔ اِس حقیقت کو تسلیم کرنے کی راہ میں وہ تمام تاریخی اور ماورائے تاریخ خوش فہمیاں بہت بڑی رکاوٹ ہیں جو خاص طور پر اُردو زبان کے بارے میں پھیلائی جاتی رہی ہیں، اور جن کو دور کرنا اب ناگزیر ہوگیا ہے۔ ’یہ ہماری اردو زبان‘ سیریز کے پچھلے حصے: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||