ادبی رسالوں میں ہونے والی بحثیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شخصی مناقشے اور معرکے تو ادبی رسالوں میں بہت دیکھنے کو مل جاتے ہیں، لیکن اگر آپ ادبی رسالوں میں ہونے والی بحثوں کے ذریعے معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں اور دورحاضر کے تہذیبی مسائل کی جھلکیاں دیکھنا چاہیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ کو مایوسی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اردو رسالوں میں پائی جانے والی بحثوں کی ایک عام قسم وہ ہے جن میں مثلاً انشائیہ یا غزل جیسی کسی صنف کی برتری اور کمتری پر زوردار انداز میں اظہار خیال کیا جاتا ہے اور دوسری قسم وہ جو شخصی مناقشوں پر مشتمل ہے۔ اس صورت حال کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہے کہ اردو کے پرانے اور معتبر ادبی رسالے ایک ایک کر کے بند ہوتے چلے گئے یا اپنا معیار اور اعتبار برقرار نہ رکھ سکے۔ لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ صورت حال کا یہ عنصر اب تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور پچھلے چند برسوں میں متعدد نئے ادبی رسالے جاری ہوئے ہیں۔ یہ رسالے عموماً ایسی پابندی سے شائع نہیں ہوتے جیسے مثلاً ماہنامہ ’افکار‘ شائع ہوتا تھا، لیکن چونکہ ان کے پڑھنے والے (اور بہت سے لکھنے والے بھی) مشترک ہیں اس لیے آسانی یہ ہے کہ کسی ایک رسالے میں کسی موضوع پر شروع ہونے والی بحث کو دوسرے رسالوں میں بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔
اس قسم کی ایک بحث کراچی کے رسالے ’دنیازاد‘ میں اس وقت شروع ہوئی جب معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض نے رسالے کے ایک شمارہ میں شائع ہونے والی غزلوں سے اکتا کر مدیر کے نام ایک مراسلہ تحریر کیا جس میں نوجوان غزل گو حضرات کو نظم کی صنف میں طبع آزمائی کرنے کا مشورہ دیا۔ اس بحث نے خاصا شورشرابہ برپا کیا اور نوجوان غزل گویوں اور ان کے حامیوں نے سینئر شاعرہ پر طنز و تشنیع سے بھرپور وار بھی کیے۔ معلوم نہیں اس سلوک سے متاثر ہو کر یا اپنی کسی داخلی تحریک سے فہمیدہ ریاض نے رومی کی منتخب غزلوں کا اردو غزل میں ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔ ان ترجمہ شدہ غزلوں کا مجموعہ ’یہ خانۂ آب و گل‘ کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا جس پر ایک دلچسپ تبصرہ کراچی سے راغب شکیب اور سیما شکیب کی ادارت میں نکلنے والے رسالے ’ارتکاز‘ کے تازہ ترین شمارے (سالنامہ 2007) میں شائع ہوا ہے۔ یہ تبصرہ اردو غزل کے ایک ممتاز شاعر ظفراقبال کا تحریرکردہ ہے جو اپنی دیگر خصوصیات کے علاوہ بسیارگوئی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ ظفر اقبال نے اپنے تبصرے میں مترجم شاعرہ کی یہ دلچسپ ہدایت نقل کی ہے: ’یہ ترجمہ بہرحال ’آسان اردو‘ والوں کے لیے نہیں کیا گیا۔ جو خواتین و حضرات اردو شاعری کے اساتذہ کا کلام نہیں سمجھ سکتے وہ اس کتاب کو فی الفور طاق پر رکھ دیں تو مترجم کو چنداں اعتراض نہیں۔‘ اس ہدایت پر ظفراقبال کا تبصرہ بھی اتنا ہی دلچسپ ہے: جس شاعری سے لطف اٹھایا جا سکتا ہو سمجھ میں بھی وہی آتی ہے جب کہ شاعری کو سمجھنے کی خاطر پڑھنا آج کے قاری کے لیے محض دردِ سر ہی کا درجہ رکھتا ہے۔ ...علاوہ ازیں، غزل کے نام پر جس ٹریش کے انبار لگائے جا رہے ہیں قاری تو اسی کی یبوست اور یکسانیت سے آخری حدوں تک بیزار ہے، چہ جائے کہ اسے سال ہا سال پہلے کی روٹین قسم کی شاعری کو ’سمجھنے‘ پر مامور کر دیا جائے‘۔
تبصرہ نگار کی رائے میں رومی ایک فلسفی اورمثنوی کے خالق کے طور پر تو قابل احترام ہیں لیکن غزل میں انہوں نے ایسا کوئی کمال نہیں دکھایا جو انہیں حافظ یا بیدل کے رتبے پر پہنچا سکے۔ جہاں تک تصوف کا تعلق ہے تو ’تصوف کے بارے میں یہ بات عام طور پر کہی جا سکتی ہے کہ یہ متوازی مذہب کی حیثیت رکھتا ہے جس میں نماز روزے کی کوئی پابندی نہیں، نیز لڑکوں بالوں سے جنسی آسودگی حاصل کرنا ایک معمول کی بات ہے۔ ... نہ صرف یہ بلکہ ہماری کلاسیکی شاعری میں امرد پرستی ایک بنیادی اور مرکزی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ ...لہٰذا رومی کی اس فراقیہ شاعری کو اسی روایت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے‘۔ اوپر ظفراقبال کی بطور غزل گو بسیارگوئی کا ذکر آیا تھا۔ یہ بھی مختلف رسالوں کے مراسلات کے کالم میں بحث کا موضوع رہتی ہے۔ ’دنیازاد‘ کے تازہ ترین شمارے میں ساقی فاروقی کا ایک مختصر مگر دھماکہ خیز خط شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے ظفراقبال کی بقول ساقی ’بوگس‘ غزلوں پر اپنے پیمانۂ صبر کے لبریز ہونے کی اطلاع دی ہے اور اوکاڑہ جا کر ظفراقبال کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے جواب میں ان کے مجروح کی یہ پھبتی بھی سینہ بہ سینہ گردش کر رہی ہے کہ ’چہ ساقی اور چہ ساقی کا شوربہ!‘ مذکورہ بحث سے دلچسپی رکھنے والے قارئین اس کے اگلے مرحلے کا تماشا دیکھنے کے لیے ’دنیازاد‘ کے اگلے شمارے کے بے تابی سے منتظر ہیں۔ اردو کے نئے رسالوں کے سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض رسالے ایسے مقامات سے نکل رہے ہیں جنھیں روایتی طور پر ادبی یا اشاعتی مراکز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان میں سے ایک رسالہ ’نقاط‘ فیصل آباد سے نوجوان ادیب اور شاعر قاسم یعقوب کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا ہے۔ اس کا پہلا شمارہ اپریل 2006 میں سامنے آیا تھا اور چوتھا شمارہ جون 2007 میں شائع ہوا ہے۔ ’نقاط‘ کے تیسرے شمارے کی ایک اہم تحریر افتخار نسیم کا ایک انٹرویو تھا جو عرفان احمد عرفی نے اپنے نیویارک کے سفر کے دوران مختلف ملاقاتوں میں لیا تھا۔ یہ انٹرویو جسے ’چاپ‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا، بلاشبہ اردو کے ادبی رسالوں کی حد تک اپنی نوعیت کی منفرد تحریر ہے۔
ان میں سے بعض ردعمل تو پاکستانی معاشرے کے قدیم تعصبات کا اظہار کرتے ہیں اور کسی تعجب کا باعث نہیں بنتے۔ مثلاً ’کیا افتخار نسیم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ جس مکروہ زندگی کو گزار رہے ہیں اس کا برملا اظہار کر کے وہ کسی اخلاقی بلندی پر فائز ہو گئے ہیں؟‘ لیکن انکشاف کی بات یہ ہے کہ اس انٹرویو نے کئی پڑھنے والوں کو سوچنے اور اس میں اٹھائے گئے سوالات پر غور کرنے پر آمادہ کیا۔ ان میں سے ایک قاری کا خیال ہے کہ ’شاید ہمیں سماجی قبولیت کی حدوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے‘۔ |
اسی بارے میں حسن منظر کاالعاصفہ و دیگرنیاادب22 August, 2007 | قلم اور کالم یہ ہماری اردو زبان04 November, 2003 | منظر نامہ یہ ہماری اردو زبان، چہارم09 September, 2003 | صفحۂ اول یہ ہماری اردو زبان، سوئم14.08.2003 | صفحۂ اول یہ ہماری اردو زبان، اول 27.07.2003 | صفحۂ اول مغل بادشاہ یاافسرتعلقاتِ عامہ 20.06.2003 | صفحۂ اول مشرق و مغرب کی تقسیم02.06.2003 | صفحۂ اول ترک وطن و زمینی حقیقتیں17.05.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||