مصائب کی تماش بینی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکٹرانک میڈیا خصوصاً سٹیلائٹ ٹیلی وژن کے تیزرفتار پھیلاؤ نے دنیا کے مختلف مقامات پر تنازعات اور آفات کا شکار ہونے والوں کے کرب اور تکلیف کے مناظر کو لوگوں کے گھروں کے اندر گزرنے والی زندگی کا ناگزیر حصہ بنا دیا ہے۔ اب لوگ اپنے گھروں میں اپنے جیسے لوگوں کو بمباری یا خودکش حملے، زلزلے یا سیلاب سے ہلاک، زخمی یا بے گھر ہوتا ہوا دیکھنے اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول رہنے کے عمل ساتھ ساتھ انجام دیتے ہیں۔ امریکہ کی ممتاز مصنفہ سوزن سونٹاگ (1933 - 2004) نے اپنی ایک کتاب Regarding the pain of others میں اس عمل کو ’مصائب کی تماش بینی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک جدید تجربہ ہے۔ اس کتاب میں سونٹاگ نے آج کی زندگی کے اس اہم مظہر سے اٹھنے والے جمالیاتی، اخلاقی اور سیاسی سوالوں کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ لیکن آڈیو وِژول یا سمعی و بصری تفصیلات سے قطع نظر، اپنے چاروں اطراف پھیلی ہوئی دنیا کی اذیتوں سے واقف رہنے کا یہ معمول اس وقت سے روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے جب سے اخبار اور ناشتے کی میز کا ساتھ شروع ہوا۔ ’کوئی دن، کوئی مہینہ یا کوئی سال ہو، یہ ناممکن ہے کہ آدمی کسی بھی اخبار پر نظر ڈالے اور اس کی ہر سطر سے انسانی کج روی کی انتہائی خوفناک جھلک دکھائی نہ دے ۔۔۔ ہر اخبار، پہلی سطر سے آخری سطر تک، محض ہولناکیوں کی بُنت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جنگیں، جرائم، چوریاں، بدکاریاں، اذیت رسانیاں، شہزادوں، قوموں اور عام افراد کے گھناؤنے کرتوت، عالمی ظلم و تعدّی کا ایک طوفانِ بدتمیزی۔ اور یہ وہ مکروہ، اشتہا انگیز شے ہے جسے مہذب انسان ہر صبح ناشتے کے ساتھ اپنے حلق سے اتارتا ہے۔‘
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جس وقت یہ الفاظ تحریر کیے گئے اس وقت تک اخباروں میں تصویریں چھپنی شروع نہیں ہوئی تھیں۔ تصویری صحافت کا آغاز 1940 کے عشرے میں ہوا، اور یہ وہ موقع تھا جس کے بعد کیمرے کو ’تاریخ کی آنکھ‘ کی حیثیت حاصل ہوئی۔ اس مقام سے لے کر تصویری رپورٹنگ نے آج کل ٹیلی وژن سے برآمد ہونے والے مناظر کے سیلاب تک کا سفر ٹیکنالوجی کی ترقی کے پہلو بہ پہلو طے کیا ہے۔ لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسی عرصے میں جنگی ٹیکنالوجی کی ترقی بھی اس سے کہیں زیادہ تیز رفتار سے ہوتی رہی ہے۔ دراصل، جیساکہ سوزن سونٹاگ بتاتی ہیں، جنگی فوٹوگرافی کی ابتداء جنگ بازوں کی اس ضرورت کو پورا کرنے سے ہوئی تھی کہ وہ جنگ چھیڑنے یا جاری رکھنے کے فیصلے کو مقبول بنانے کے لیے مثبت (یعنی فاتحانہ) مناظر کو سامنے لانا چاہتے تھے۔ پہلے جنگی فوٹوگرافر راجر فینٹن کو جنگِ کریمیا کے دوران 1855 کے اوائل میں برطانوی حکومت نے اس مقصد سے کریمیا بھیجا کہ وہ اس جنگ کا، جو اندرون ملک روزبروز غیرمقبول ہوتی جا رہی تھی، دوسرا زیادہ مثبت رخ پیش کرے ۔ اسی جنگ میں سرکاری فوٹوگرافر کے طور پر حاضر ایک اور شخص اٹلی کے شہر وینس میں پیدا ہونے اور بعد میں برطانوی شہریت اختیار کرنے والا فیلیس بیاتو بھی تھا ، جو پہلا فوٹوگرافر تھا جس نے اس کے علاوہ بھی کئی جنگیں دیکھیں۔ ان جنگوں میں 1857 میں ہندوستان میں برپا ہونے والی سپاہیوں کی بغاوت بھی تھی جسے انگریز حکمرانوں نے غدر کا نام دیا۔ فینٹن نے ایک ایسی جنگ کے تسکین بخش مناظر تیار کیے جس میں برطانیہ کو بہت دشواری پیش آئی تھی اور اس کے تین برس بعد بیاتو کی کھینچی ہوئی تصویروں نے ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی تسلط کو پیش آنے والی سب سے سنگین بغاوت کو کچل ڈالنے کا جشن منایا۔ لکھنو فتح کرنے والی انگریز فوجوں نے وفادار مقامی یونٹوں کی مدد سے سکندر باغ محل پر نومبر 1857 میں حملہ کیا۔ انہوں نے وہاں کے ایک ایک کمرے کی تلاشی لے کر وہاں موجود اٹھارہ سو باغی سپاہیوں کو، جو اب ان کے قیدی تھے، سنگینیں گھونپ کر ہلاک کیا اور ان کی لاشیں محل کے احاطے میں پھینک دیں۔ باقی کام کتوں اور گِدھوں نے انجام دیا۔ مارچ یا اپریل 1858 میں فیلیس بیاتو نے جو تصویر کھینچی اس کے لیے اس نے باقاعدہ ایک ایسے میدان کا منظر تخلیق کیا جہاں لاشوں کو دفن کرنے کی بجائے پھینک دیا جاتا ہے۔ اس نے ہلاک شدہ مقامی باشندوں میں سے بعض کے ڈھانچوں کو پس منظر میں واقع ستونوں سے ٹکا کر رکھا اور باقی لوگوں کی ہڈیاں پورے احاطے میں پھیلا دیں۔
ڈرامائی خبری تصویروں کو کیمرے کے لیے سٹیج کرنے کی ایک انتہائی ہولناک مثال فروری 1968 میں ایڈی ایڈمز کی کھینچی ہوئی وہ تصویر ہے جس میں امریکی حمایت یافتہ جنوبی ویت نام کی پولیس کے سربراہ بریگیڈیر جنرل نگوین لوآن کو سائیگان کو ایک سڑک پر ایک مشتبہ ویت کانگ مزاحمت کار کو گولی مارتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس منظر کو فوٹوگرافروں کے لیے سٹیج کرنے والا خود لوآن تھا جو اپنے قیدی کو، جس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے، باہر سڑک پر لے کر آیا جہاں صحافی اور فوٹوگرافر جمع تھے۔ خود کو اپنے قیدی کے اتنے قریب لا کر کہ فوٹوگرافر کا کیمرا اس کے پروفائل اور قیدی کے پورے چہرے کو ایک ساتھ فریم میں لا سکے، بریگیڈیر جنرل لوآن نے قیدی کے سر کو قریب سے نشانہ بنا کر گولی چلائی۔ ایڈمز کی نہایت شہرت یافتہ (اور انعام یافتہ) تصویر اُس لمحے کو دکھاتی ہے جب گولی چلائی جا چکی ہے لیکن مرنے والے نے، جس کا منھ ٹیڑھا ہو رہا ہے، ابھی گرنا شروع نہیں کیا۔ سونٹاگ کا قیاس ہے کہ اگر فوٹوگرافر اور رپورٹر اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے وہاں موجود نہ ہوتے تو شایداس سرسری سزائے موت پر اُس وقت اور اُس جگہ عملدرآمد نہ ہوتا۔ کمبوڈیا کے دارالحکومت نام پنھ کے مضافات میں تول سلینگ کے مقام پر ایک سابق ہائی سکول کی عمارت میں لال کھمیر حکومت نے ایک خفیہ جیل قائم کر رکھی تھی جہاں چودہ ہزار سے زیادہ کمبوڈین باشندوں کو ’انٹلکچوئل‘ یا ’انقلاب دشمن‘ ہونے کے الزام میں ہلاک کیا گیا۔ اس جیل کا ریکارڈ کیپر ان میں سے ہر ایک کو، مارے جانے سے ذرا پہلے، سٹول پر بٹھا کر ان کی تصویر کھینچتا تھا۔ سونٹاگ نشان دہی کرتی ہیں کہ سیاسی قیدیوں اور انقلاب دشمن ٹھہرائے جانے والوں کو سزائے موت دیے جانے سے ذرا پہلے ان کی تصویر کھینچنا 1930اور 1940 کے عشروں میں سوویت یونین میں باقاعدگی سے کیا جانے والا عمل تھا۔ اسی ذیل میں ماضی قریب کی ان تصویروں کا بھی ذکر کیا جانا چاہیے جن میں بغداد کی ابو غریب جیل میں امریکی اور برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں اذیت کا نشانہ بنتے ہوئے عراقیوں کو دکھایا گیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ تمام پیشہ ور جنگی فوٹوگرافر ہمیشہ حملہ آور فوجوں یا متشدد گروہوں کے مددگار نہیں رہے۔ ان لوگوں کا قصہ الگ ہے جنہوں نے افغانستان اور عراق پر ہونے والے حملوں کے دوران ’ایمبیڈڈ (embedded) جرنلسٹ‘ کی حیثیت قبول کی۔ (معروف پاکستانی صحافی اور مصنف ضمیر نیازی اس اصطلاح کا ترجمہ ’ہم بستر صحافی‘ کرتے تھے۔) اسی طرح ان وڈیوگرافروں کی بات بھی جدا ہے جو افغانستان اور اس سے ملحق قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے لیے ان کے مجبور قیدیوں کے ذبح کیے جانے کے عمل کی فلم بندی کرتے ہیں جس کے بعد ان مناظر کو انٹرنیٹ کے ذریعے دنیابھر میں پھیلایا جاتا ہے۔
سونٹاگ کے مطابق جنگی فوٹوگرافروں میں رفتہ رفتہ یہ احساس پیدا ہوا کہ جنگ ان نادر تنازعوں میں سے ہے جب آدمی کے ضمیر کو کسی فریق کا ساتھ دینے کے فیصلے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، کیونکہ دیکھنا ایک اخلاقی عمل ہے۔ کیمرے کے تپائی سے آزاد ہونے کے بعد کم وزن کے کیمرے اور اس میں ڈالی جانے والی 36 تصویروں والی فلم کی ایجاد نے جنگوں کی تصویری رپورٹنگ کو بہت سی پابندیوں سے آزاد کیا۔ پھر متحرک کیمرا اور ٹیلی وژن خبرنگاری کے میدان میں آئے۔ ویت نام کی جنگ پہلی جنگ تھی جس کو امریکہ میں ٹیلی وژن پر روز بہ روز دکھایا جاتا رہا، جس کے باعث، سونٹاگ کے لفظوں میں، جنگ کی پھیلائی ہوئی تباہی اور ہلاکت سے گھروں کی ایک ’ٹیلی قربت‘ (tele-intimacy) قائم ہوئی۔ لیکن اس بات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ کسی جنگ میں ملوث فریقوں، خصوصاً غالب فریق، کی فوجیں ہی آخرکار اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ اس جنگ کے کون سے مناظر دیکھنے والوں تک پہنچائے جائیں گے۔ |
بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||