ایک پرامن انتخابی عمل کی یاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمانہ: اکتوبر1971۔ مقام: گورنر ہاؤس، ڈھاکہ۔ موقع: ضمنی انتخابات تاکہ قومی اسمبلی اور مشرقی پاکستان اسمبلی کی ان نشستوں کو پُر کیا جا سکے جو عوامی لیگ کے منتخب ارکان کی بڑی تعداد کو نااہل قرار دیے جانے کے نتیجے میں خالی قرار دی جا چکی ہیں۔ 7دسمبر 1970کے عام انتخابات میں، جو پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منعقد کرائے جانے والے پہلے انتخابات تھے، عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کے لیے مختص کی گئی 162نشستوں میں سے 160جیت لی تھیں اور اس طرح 300ارکان کے قومی اسمبلی کے ایوان میں مطلق اکثریت حاصل کر لی تھی۔ (جن دو نشستوں پر عوامی لیگ کے ارکان منتخب نہ ہوئے ان میں سے ایک مسلم لیگی رہنما نورالامین کے اور ایک چٹاگانگ کے بودھ چکمہ قبیلے کے راجہ تری دیو رائے کے حصے میں آئی ۔) ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے81 نشستیں جیتی تھیں، تمام کی تمام مغربی پاکستان سے۔ پاکستانی حکمرانوں (اور مغربی پاکستان کی سیاسی پارٹیوں) کی یہ امیدیں کہ انتخابات کے نتیجے میں مشرقی اور مغربی پاکستانی پارٹیوں کی مخلوط حکومت وجود میں آئے گی، پوری نہ ہو سکیں۔ مخلوط حکومتیں، جیساکہ 1954سے 1958تک کا تجربہ ثابت کرتا تھا، زیادہ دشواری پیدا نہیں کرتیں اور مفاہمت پر آمادہ رہتی ہیں۔ 1958 کے بعد سے تو ملک یوں بھی بااختیار حکمرانوں: اسکندر مرزا، ایوب خان اور یحییٰ خان کی براہ راست نگرانی میں رہا تھا۔ 25 مارچ 1971 کومشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے خلاف شروع کیےگئے ایکشن کے تین ماہ بعد پاکستانی حکام کو اطمینان ہو چکا تھا کہ ’سول نافرمانی‘ کی تحریک کو کچلا جا چکا ہے۔ 28 جون کو صدر یحییٰ نے اپنی نشری تقریر میں، ملک کے سیاسی مستقبل کے نقشے کااعلان کیاجسے وہ ملک کے نئے آئین کے نفاذ کے ساتھ وجود میں لانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ جسٹس اے آر کارنیلیئس مئی 1971میں ایک عبوری آئین تیار کر کے انہیں دے چکے تھے، جس سے خوش ہو کر صدر یحییٰ نے ملک کے مستقل آئین کی تیاری کا کام بھی انہیں سونپ دیا تھا۔ اس مجوزہ سیاسی نقشے کی خاص بات یہ تھی کہ عوامی لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے تقریباً نصف ارکان کو ان کی ’سماج دشمن‘ اور ’ریاست مخالف‘ سرگرمیوں کی بنا پر نااہل قرار دے کر ان کی ’خالی‘ نشستوں کو ضمنی انتخابات سے پر کیا جانا تھا۔
مشرقی پاکستان میں خدمات انجام دینے اور پھر تین برس بریلی کے جنگی قیدیوں کے کیمپ میں گزارنے والے حسن ظہیر اپنی کتاب The Separation of East Pakistanمیں لکھتے ہیں: ’یحییٰ خان کو معلوم ہو گیا تھا کہ انہیں مغربی پاکستانی سیاست دانوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ ان کے ذریعے ملک میں ایک ایسے آئین کا نفاذ چاہتے ہیں جو بنگالیوں کے مطالبات کا واحد توڑ ہو سکتا تھا۔‘ اگست 1971میں عوامی لیگ کے ان منتخب ارکان کی فہرست جاری کی گئی جنہیں اپنی نشستیں ’برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی‘ تھی۔ اس میں قومی اسمبلی کے 88 اور صوبائی اسمبلی کے 94 ارکان شامل تھے۔ باقی نشستوں کو ’خالی‘ قرار دیا گیا، اور یہی وہ نشستیں تھیں جنہیں ضمنی انتخابات کے ذریعے بھرا جانا تھا۔ پاکستانی حکمران ملک کی دوایوانی مقننہ کے نچلے ایوان یعنی قومی اسمبلی میں عوامی لیگ کی اکثریت کو زائل کرنے کے لیے یہ خالی نشستیں دائیں بازو کی پارٹیوں (جماعت اسلامی اور مختلف دھڑوں میں بٹی مسلم لیگ) کو دینا چاہتے تھے۔ یہ وہ پارٹیاں تھیں جو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے ہاتھوں مکمل اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کے ہاتھوں جزوی شکست سے دوچار ہوئی تھیں۔ لیکن اس کے لیے بہت سا عملی کام کرنا ضروری تھا۔ مسلم لیگ کے دھڑوں کو یکجا کرنے کا جو کام انتخابات سے پہلے سے چل رہا تھا، سب سے پہلے تو اسے دوبارہ شروع کرنا تھا۔جیسا کہ یحییٰ خان نے اپنی 28 جون کی تقریر میں کہا تھا: ’ہمیں پارٹی کے اندر ذیلی پارٹیوں کا سلسلہ ترک کرنا ہو گا۔‘ اس بات کا قوی امکان تھا کہ پیپلز پارٹی ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کر دے گی، لیکن کوئی مہینہ بھر مخمصے میں رہنے کے بعد پارٹی نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ڈھاکہ کے گورنر ہاؤس میں واقع مارشل لا آفس کو یہ انتخابات منعقد کرانے کا کام سونپا گیا۔ عوامی لیگ نے، توقع کے مطابق، بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ پاکستانی حکمران دائیں بازو کی پارٹیوں کی پشت پناہی کا پختہ ارادہ رکھتے تھے، جو خود بھی اس پشت پناہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی اسمبلی کی وہ تمام 78 نشستیں جیتنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کو بھی راضی رکھنا ضروری تھا، چنانچہ صدر یحییٰ نے اُسے بھی چند نشستیں دلانے کا وعدہ کر لیا تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ اس کا مشرقی پاکستان میں کوئی وجود نہ تھا، لہٰذا اس کی ٹیم کو اپنے لیے مختص کی گئی نشستوں کے لیے امیدوار لانے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ برسبیل تذکرہ، پیپلز پارٹی کی اس ٹیم کی سربراہی میاں محمود علی قصوری کر رہے تھے جو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے معروف ممتاز قانون داں تھے بلکہ ویت نام میں امریکہ کے جنگی جرائم کے سلسلے میں برٹرینڈ رسل کے اس ٹربیونل کے رکن بھی رہ چکے تھے جس کی سربراہی ژاں پال سارتر نے کی تھی۔
چونکہ پولنگ ناممکن تھی اس لیے پولنگ ایجنٹوں اور ووٹروں وغیرہ کی جانب سے کسی دخل اندازی کا بھی کوئی اندیشہ نہیں تھا۔ ہر خوش قسمت امیدوار کو بلامقابلہ منتخب ہونا تھا، جس کے دو طریقے تھے: یا تو اس کے سوا تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے جائیں یا انہیں سمجھا بجھا کر مفاہمت پر، یعنی اپنے کاغذات واپس لینے پر آمادہ کر لیا جائے۔ یہ کام کم و بیش خوش اسلوبی سے پورا کر لیا گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ دائیں بازو کی پارٹیوں کے اتحاد نے اپنی نشستیں 37 سے بڑھا کرلگ بھگ 116 کر لیں۔ ان پارٹیوں نے ایک دوسرے میں ضم ہو کر ’یونائیٹڈ کولیشن پارٹی‘ کے نام سے ایک نئی جماعت بھی بنا لی اور نورالامین کو مستقبل کے وزیراعظم کے لیے نامزد بھی کر دیا۔ یہ قاعدے کی بات تھی: وزیراعظم کا مشرقی پاکستان سے ہونا ضروری تھا، اور اس منطق کو ذوالفقار علی بھٹو بھی رد نہیں کر سکتے تھے۔جواباً انہوں نے ناچار یہ مطالبہ کیا کہ صدر مغربی پاکستان سے ہو گا، جس پر نورالامین نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بھٹو صاحب یہ معاملہ صدر یحییٰ سے طے کر لیں۔ اُدھر فرض شناس جسٹس کارنیلیئس نے شبانہ روز محنت کر کے آئین کی تیاری کا کام بھی مکمل کر لیا اور جماعت اسلامی اور دیگر محب وطن پارٹیوں نے اس کے اسلامی آئین ہونے پر مہرتصدیق بھی ثبت کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ یحییٰ خان نے اپنی وہ تقریر بھی ریکارڈ کرا دی تھی جو 17 دسمبر 1971 کو نشر ہونے والی تھی اور جس میں اس نئے نکور آئین کے تحت نئے نویلے سیاسی نقشے کو ملک پر نافذ کیا جانا تھا۔ تاہم 16 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ کے گورنر ہاؤس سے کچھ دور کسی میدان میں پتا نہیں کیا واقعہ پیش آیا کہ اسلام آباد سے یہ تقریر نشر نہ ہو سکی۔ آں قدح بشکست و آں ساقی نماند۔ وہ آئین اور وہ نقشہ غتربود ہوا سو ہوا، زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ضمنی انتخابات کے نتائج بروئے کار نہ آ سکے جو پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ پرامن انتخابات تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||