’اخلاقی برائیاں‘، ایرانی مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں اخبارات نے ان اخلاقی برائیوں کی فہرست جاری کی ہے جن پر قابو پانے کے لیے ایرانی پولیس کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ گزشتہ دس سال کے دوران ایران میں غیر اسلامی رویوں اور نامناسب لباس پہننے والے افراد کے خلاف بڑے کریک ڈاؤنز میں سے ہے اور اسے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کی حمایت حاصل ہے۔ ایرانی پولیس جن ’اخلاقی برائیوں‘ کے خلاف کارروائی کرے گی ان میں مخرب اخلاق فلمیں، منشیات اور الکوحل کے استعمال کے علاوہ میک اپ کا استعمال اور خواتین کا حجاب کی جگہ ٹوپی سے سر ڈھانپا بھی شامل ہے۔ ایرانی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام عورتوں سے سختی سے نبٹے گی جو چھوٹی پتلونیں، چست اوور کوٹ یا جسم کے خدوخال نمایاں کرنے والے سکرٹ پہنتی ہیں۔ پولیس کے مطابق لمبی پتلونوں کی جگہ لمبے جوتوں سے ٹانگوں کا چھپانا قابلِ قبول نہیں اور نہ ہی حجاب کی جگہ ہیٹ یا ٹوپی پہننے کی اجازت دی جا سکتی ہے اور پولیس حکام کے مطابق چھوٹے سکارف کی جگہ خواتین ایسا حجاب پہنیں جو ان کے سر اور گردن کو مکمل طور پر ڈھانپے۔ ایران میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہزاروں خواتین کو ان کے لباس کی وجہ سے تنبیہ کی جا چکی ہے یا پھر انہیں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں فیشن پولیس کی نظر اب مردوں پر29 April, 2007 | آس پاس کینیڈا میں حجاب کا قومی دن27 October, 2007 | آس پاس اسلامی موضوعات پر ایرانی کارٹون11 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||