فیشن پولیس کی نظر اب مردوں پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں حجاموں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان گاہکوں کی خدمت کرنے سے انکار کریں جنہوں نے ٹائی باندھی ہو تاہم ایرانی پولیس نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف حجاموں کو مغربی طرز کے بال نہ کاٹنے اور مردوں کا بناؤ سنگھار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایرانی انقلاب کے بعد ابتدائی عرصے میں ٹائی پہننے کو مغرب کی تقلید کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس سلسلے میں کافی نرمی آ چکی ہے۔ تازہ ترین حکم دراصل ملک میں مغربی لباس پہننے کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے تاہم ابھی تک اس مہم کا نشانہ صرف وہ خواتین تھیں جو سر نہ ڈھانپتی ہوں۔ روزنامہ ’اعتماد‘ کے مطابق اخلاقیات کی ذمہ دار پولیس نے حجاموں کو ایک سرکلر بھیجا ہے جس میں انہیں کہا گیا ہے کہ وہ ٹائی والے افراد کو خدمات فراہم نہ کریں ورنہ ان کی دکانوں کو عارضی طور بند یا ان کے لائسینس ضبط کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے مردوں کے لیے ہر قسم کے بناؤ سنگھار پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ ایران میں دولھا شادی کے دن میک اپ کراتے ہیں۔
پولیس نے کہا ہے کہ اگرچہ پچانوے فیصد حجامت کی دکانیں اسلامی اصولوں پر عمل کر رہی ہیں لیکن باقیوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس حکم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں انہیں کس قسم کے خطرات ہو سکتے ہیں۔ حالیہ مہم کے دوران کئی مرد حضرات کو خبردار کیا گیا کہ وہ آدھی آستین والی شرٹس نہ پہنیں۔ اس کے علاوہ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ جن نوجوانوں نے اپنے بال لکیروں کی شکل میں کٹوائے ہوئے تھے، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ سر کے باقی بال بھی کٹوائیں۔ ’بُرے پردے‘ کے خلاف جاری مہم میں گزشتہ ایک ہفتے میں سینکڑوں ایرانی خواتین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ نوجوان خواتین کو رات کے وقت گھنٹوں تھانوں میں رکھا جا رہا ہے اور پولیس ان کی تضحیک کرتی ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ آوارہ عورتیں ہیں۔ یہاں تک کہ پولیس نے ایک سفارتکار کی ایرانی بیوی کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی اور انہیں بتانا پڑا کہ پولیس انہیں گرفتار نہیں کر سکتی کیونکہ وہ ایک سفارتکار کی اہلیہ ہیں۔ ایک چالیس سالہ شادی شدہ خاتون نے، جو کہ دن کا کھانا کھانے جا رہی تھیں، بتایا کہ انہیں اس وقت شدید غصہ آیا جب ان سے آدھی عمر کے ایک لڑکے نے انہیں ڈانٹا کہ میں اپنی کار میں ادھر گھوم کر مردوں کو کار میں بٹھانے کی کوشش نہ کروں۔ اعتماد کے برعکس سخت مؤقف کے حامل ایک دوسرے خبار نے لکھا کہ پولیس کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں معاشرے میں اسلامی قوانین کے نفاذ میں خدا کی رضا حاصل ہے اور یہ کہ حکومت کے تمام اداروں کو چاہئیے کہ وہ اس سلسلے میں پولیس کی مدد کریں۔ | اسی بارے میں ’ایران میں ہم پر کیا گزری‘ 06 April, 2007 | آس پاس مساوی حقوق اور ایرانی عورت 08 March, 2007 | آس پاس ایٹمی پالیسی: ایرانی صدر پر تنقید22 January, 2007 | آس پاس اسلامی موضوعات پر ایرانی کارٹون11 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||